"یہ خیال صحت پر مبنی ہے خط مستقیم کا کوئی عملی وجود نہیں ہے اور ہر حرکت انحناء اور تدور کے ساتھ ہوتی ہے۔" (١٩٧٤ء، تاریخ اور کائنات، ٧٤٢)
"تذکرہ نویس اپنے ہی حال و قال میں مست تھے۔" (١٩٤٦ء، مقالات شیرانی، ١٠٧)
"اس دور میں تذکرہ نویسی کی کوشش بھی جاری ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٨٢:٣)
"اس وقت تک کہ قدرتی مجبوریوں یا افعال جبریہ کی جہت سے اس ارادے میں کوئی خرابی اور تذلذل واقعہ نہ ہو۔" (١٨٠٩ء، اساس الاخلاق، ٢٩٩)
"اس وقت کوئی ایسی کیفیت ہم میں پیدا ہوتی ہے جو ان جذبات کی تذمیم کرتی ہو۔" (١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٥٢٨)
"انہوں نے علم کیمیا میں ترشیح. تذویب کے طریقے پہلی مرتبہ بیان کئے۔" (١٩٥٤ء، طب العرب، ١٦٧)
"مثال کے طور پر جلد ساز، کاغذ ساز. تذہیب کار سرقند سے لاکر وادی میں بسائے گیے۔" (١٩٧٤ء، ماہنامہ، فکرو نظر، اگست، ١١٤)
"فرح سیر اور محمد اشہ کے عہد کی تر دماغیاں دراصل اسی عالمگیری خشک مزاجیوں کا ردعمل تھا۔" (١٩٤٣ء، غبار خاطر، ٣٣٢)
"سیمنٹ سازی کے عام طور پر دو رائج الوقت طریقے ہیں۔ ١۔ڈرائی پراسس (خشک عمل)، ٢۔ویٹ پراسس (تر عمل)"۔ (١٩٦٩ء، کارگر، کراچی، ١١اپریل، ١٩)
"یہ کیفیت مشاہدہ کر کے براہ تراحم ان کا بھی جی بھر آیا۔" (١٨٨٤ء، تذکرۂ غوثیہ، ٣١٢)
"بالعموم اس کارخیر میں تراحی اور امہال درحقیقت عورت اور مرد دونوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔" (١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠١)
"ایک بخار. اس لکڑی میں تراش و خراش کے عمل کو جاری کرتا ہے۔" (١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات (ترجمہ)، ٣٠)
"اچھا اچھا ہم نے دیکھا، ٹھہر جاؤ، ہم ابھی آ کے بتائے دیتے ہیں۔" بولی وہ گل ذرا ٹھہر جاؤ اچھا اچھا نہ اتنا گھبراؤ (١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٤٧:١)(١٨٨٠ء، قلق (نوراللغات، ٢٨٠:١))
"اس ادب میں. وہ متناسب ہیئت، وہ تراشیدگی نہیں ہوتی جو ایک ایسے دور کے ادب کی امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں۔" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ٢٩٨)
"کلیہ کشش اور دفع سے ایک ترامیٹر بنتا ہے۔" (١٨٣٩ء، ستہ شمسیہ، ٤:٦)
"تراکب کا اثر. تراکب کی مقدار اور اس کا تغیر رساؤ پر ہم اثر رکھتے ہیں۔" (١٩٤٨ء، حرارتی انجنوں کا نظریہ، ٢١٢)
میں ہوں وہ عندلیب ہوا جب ترانہ سنج جتنے کھلے تھے گل ہمہ تن گوش ہوگیے (١٨٨٨ء، صنم خانۂ عشق، ٢٧١)
"ہماری رائے میں سدھ سر دو ہیں یعنی کھرج اور پنچم کہ دونوں سر اچل ہیں۔" (١٩٢٧ء، نغمات الہند، ١٠)
"تربیت گاہ کے قیام کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان تین اور اہم کام سرانجام دے سکتا ہے۔" (١٩٦٥ء، موسیقی، ١٤٢)
"آدمی ان میں تربیت یافتہ ہوں۔" (١٨٨٠ء، ماسٹر رام چندر، ١٢٨)
"یہ تربیتی مرکز. ان کے لیے بھی تربیتی کورس ترتیب دیتا رہے گا۔" (١٩٦٩ء، ٹیلی ویژن کی کہانی، ١٩)
"سواروں کے ایک ترپ نے ان پر حملہ کیا۔" (١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٢٣٤:١)
"جب کھانی گلے میں گدگدی ہونے سے پیدا ہوتی ہو تو لسانی لوزہ پر صبغیہ آیوڈین کی تصبیغ کر دینے سے تسکین حاصل ہوتی ہے۔" (١٩٤٨ء، عمل طب، ١٨١:١)
دو عالم کو دکھا اعجاز خورشید زمانے کوں دیا تصدیف کا بھید (١٦٨٤ء، قلمی نسخہ عشق نامہ، مومن، ٣١٤)
"وین کے سر اَچَل ٹھاٹھ میں بندھے ہوتے ہیں۔" (١٩٦٧ء، اردونامہ، ١٢٠:٢٨)
"یہ اصطلاحات معمولی طور پر تصغر کے علاوہ نقائص تغدیہ کی وجہ سے رونما ہونے والی تمام ایسی قابل مشاہدہ تبدیلیوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔" (١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ١٠٠:١)
"علوم کی تقسیم جس کو تنویع یا اصطفاف یا تصفیف کہتے ہیں۔" (١٩٠٠ء، علوم طبیعیہ شرقی کی ابجد، ٣)
"فارسی . ان دنوں مسلم و غیر مسلم سب کی تعلیمی اور تصنیفی زبان بن گئی تھی۔" (١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ٥٨٧:١)
"اظہار خیال کا ایک اور طریقہ "تصور نگاری" کا بھی تھا، جس میں تصویر یا نقش کسی خاص تصور کو پیش کرتا تھا۔" (١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ٢٦١)
"یہ تاثر محض اسلوب کا پیدا کردہ نہیں ہوتا بلکہ ایک برتر وجود کے اس تصوراتی ہیولے سے روشنی اخذ کرتا ہے جسے ہر انسان اپنے ذہن کے صنم کدہ میں سب سے اونچے استھان پر متمکن کر لیتا ہے۔" (١٩٦٨ء، نگاہ اور نقطے، ٢٠٩)
"اس سوال پر ماہرین نفسیات تصوریت Conceptualism یا اسمیت Nominalism کے حامی بن کر مدت سے برسرپیکار ہیں۔" (١٩٣١ء، نفسیاتی اصول، ٤١٤)
"جو لوگ اس امر کی حمایت کرتے ہیں کہ ذہن ہی حقیقت ہے اور مادہ مذموم خواب، تصوریت پسند یا تصوریہ کہلاتے ہیں۔" (١٩٦٣ء، تجزیہ نفس، ٦)
"فکریت کے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ فطرت اس کے ساتھ زیادہ تر ایک ایسا میلان رکھتی ہے جو تصوریتی و رجائیتی ہوتا ہے۔" (١٩٣٧ء، فلسفۂ نتائجیت، ٥)
"اکبر ایک دن تصویر خانے میں بیٹھا تھا۔" (١٨٨٣ء، دربار اکبری، ٢٢)
سنو اے حسن کے تصویر ساز سنو اے عشق کے جادو طرازو (١٧٧٤ء، تصویر جاناں، ١)
"جب تک مصوری میں بھی درک نہ ہو اس تصویر نیم رخ کا کیا مزہ لے سکتے اور دوسروں کو کیا مزہ دے سکتے ہو۔" (١٩٣٤ء، نصیر حسین خاں خیال داستان عجم، ١٣٤)
"کنور اودے بھان کے اچھے پنے میں کچھ چل نکلنا کس سے ہو سکے?" (١٨٠٣ء، رانی کیتکی، ٥٨)
"شہر کی تصویر گاہوں کی دیواریں دلفریب نظاروں کے نقش و نگار سے مزین تھیں۔" (١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٢٤)
"ان کی زبان . کی لکھائی تلفظ کے لحاظ سے ہوتی ہے جبکہ چینی زبان تصویری ہے۔" (١٩٧٢ء، دنیا گول ہے، ٢٦٥)
"جو کوئی اپنے کام کو سرانجام نہ کریگا بجز تضئیع وقت اور بربادی محنت کے اسکو ایک بری عادت نکمہ پن کی پیدا ہو جائے گی۔" (١٨٥٩ء، رسالہ تعلیم النفس، ١٤:٢)