"عروج جو یہاں دولھا صاحب کے نام سے مشہور ہیں انیس کی باقیات الصالحات سے ہیں۔" (١٩٤٢ء، مذاکرات، نیاز فتحپوری، ١٦٤)
وہ مست ناز جو گلشن میں جا نکلتی ہے کلی کلی کی زبان سے دعا نکلتی ہے (١٩٢٤ء، بانگِ درا، ١٧١)
"کلی کے چونے کے ٹکڑے اینٹ توڑتے اور ریزہ ریزہ کرتے ثابت ہوئے ہیں۔" (١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر (ترجمہ)، ٢٩)
"کوفتہ پلاؤ بھی اسی طرح پکتا ہے یعنی یخنی ڈال کے کوفتہ کے قومے میں دم دیتے ہیں۔" (١٩٨٣ء، لکھنؤ کی تہذیب، ١٦٥)
چال اٹکھیلی دھوم مچائے کوس کوس دُہائی روپ سجیلا گن ہیں کالے رات یہ کیسی آئی (١٩٥١ء، تار پیراہن، ١٤٣)
"ڈاکٹر زور مرحوم نے انہیں کوزی اور ڈاکٹر سبزواری نے ملفوظی کہا ہے، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ معکوسی کہتے ہیں۔" (١٩٦٤ء، زبان کا مطالعہ، ١٣٧)
"ان اکابر میں ولی، فلسفی، بادشاہ سبھی ہیں جن کی تکتی ہوئی کوری آنکھیں پلاسٹر میں حیاتِ جاوید پا کر زمان ومکان کا جائزہ لیے جا رہی ہیں۔" (١٩٦١ء، کائنات اور ڈاکٹر آئن سٹائن، ٧)
"اس طرح مذہب اور کورانہ تقلید کو لازم و ملزوم ٹھہرا دیا گیا۔" (١٩٩٢ء، افکار، کراچی، اپریل، ١٤)
عرب کا ہو کہ عجم کا ہو یا کہ مغرب کا وہ اتباع جو کوارانہ ہو غلامی ہے (١٩٥٨ء، فکرجمیل، ٢٢١)
"میرے لیے اس نے ایک پینی یا آر بنا رکھی ہے جس سے وہ مجھے کچوکے دیتا ہے۔" (١٩٤١ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٦٠:٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"بس کے ڈرائیور میں تانگے کے کوچوان والی بات کہاں۔" (١٩٨٥ء، انشائیہ اردو ادب میں، ٢١٦)
"ایک تو سیڑھی چھوٹی پھر اپنی کوتاہ قامتی کے سبب بھی یہ مشکل اس کے ہاتھ وہاں پہنچ رہے تھے۔" (١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے بندسے، ١٣٣)
"استہزا آمیز قہقہہ گونج رہا تھا ان کی کم مائیگی اور کوتاہ بینی کا مذاق اڑاتا ہوا۔" (١٩٨٧ء، افکار، کراچی، جولائی، ٥٠)
ہوتی گر اسکیم کوایجوکیشن تو گلرو کی قسمت میں کب تھی زرینا (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٤)
"اسی کوالیفکیشن پر غالب ایک برہمن کو بت خانے سے اکھاڑ کر کعبے میں گاڑنے پر مصر تھے۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٢٨)
"آج کوالیفائیڈ ڈاکٹر اس تعداد میں موجود ہیں کہو ان کے لیے ملازمت کا حصول ایک مسئلہ بن گیا ہے۔" (١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ٤٣)
"بت پرستی، ارواح پرستی، کواکب رستی غرض ایک خدا کی پرستش کے سوا اس وقت دنیا میں جتنی پرستیاں پائی جاتی تھیں وہ سب ان میں رائج تھیں۔" (١٩٧٢ء، سیرتِ سرور عالم، ١١٠:١)
کوئین زندہ سلامت بخیر و با اقبال یہی دعا ہے ہماری خدا سے آٹھ پہر (١٩١٧ء، مجموعہ نظم بے نظیر، ١٠٣)
"یادگاری جلسے بھی منعقد ہو رہے ہیں اور تحریری و تقریری نیز کوئز مقابلے بھی۔" (١٩٨٧ء، صحیفہ، لاہور، اکتوبر، دسمبر، ١٤٣)
"ناز کا لفظ ہزاروں مرتبہ استعمال کر گیے ہیں. مثلاً نگاہ ناز، بزم ناز، خرامِ ناز، جلوہ گاہ ناز، حریم ناز، یائے ناز، سکوتِ ناز کوئے ناز۔" (١٩٧٥ء، ن۔ م۔ راشد ایک مطالعہ، ٣٤٣)
"جوں جوں فیض کی رہائی کے دن قریب آرہے ہیں. لشکر کے تتر بتر ہونے کا دکھ خود کلامی کی شاعری پیدا کرنے لگا ہے اور کوئے ستم کی خاموشی کھلنے لگی ہے۔" (١٩٨٨ء، فیض شاعری اور سیاست، ١١٢)
بے وجہ پائے شوق میں لغزش نہیں آج شاید کہ آچلا ہوں میں نزدیک کوئے دوست (١٩٤٦ء، دریا آخر دریا ہے، ١٧٠)
خاک رہ آج لیے ہے لب دلدار کا رنگ کوئے جاناں میں کُھلا میرے لہو کا پرچم (١٩٦٠ء، دست تہ سنگ، ٦٧)
ٹھانی ہے دل میں اب نہ دبیں گے کسی سے ہم تنگ آگیے ہیں روز کی کنڈکٹری سے ہم (١٩٨٧ء، خدا بھی جھوٹ نہ بلوائے، ١٦٩)
"باہمی نفرت جیسی برائی صرف اچھوت پن کا مادہ دور ہونے پر معدوم ہو سکتی ہے۔" (١٩٣٣ء، گیتا امرت، ٦٥)
"وقت کے خط میں سے ایک نقطے کو لے کر جز کو کُل سمجھ بیٹھیں تو کنویں کے مینڈک بن کر رہ جائیں گے۔" (١٩٨٤ء، حلقہ ارباب ذوق، ٤٣)
"پاکستان میں امریکی صدر. نے بھارت کو کنفیڈریشن اور مشترکہ دفاع کی پیشکش کی۔" (١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ٥٠)
"مسجد ایک کمیونٹی سینٹر تھا ایک آبادی یا ایک شہر کے اندر مرکزِ اعصاب تھا۔" (١٩٧٣ء، انداز بیان، ١٥٩)
"مقابلہ کا موقع پڑا تو ہمارے لیے مسجد کے یہ پکھے کمین گاہ کا کام دے سکتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٩٩)
"ہم نے اپنی پرانی روایات کو خیرباد کہہ دیا اور حد درجہ اپنے اچھوتے پن کو سخت کر لیا۔" (١٩٢٧ء، خطبۂ صدارت، جسٹس سر شاہ محمد سلیمان، ١٢)
"نہ وہ تخیل پرست ہے کہ جسے ہر چیز میں خیر ہی نظر آتی ہے۔" (١٩٦٤ء، تمدن ہند پر اسلامی اثرات، ٢٣٨)
"یہاں تک تو مضمون تخییر کا ہے جس میں حضور پاک کی طرف سے ازواج کو اختیار دیا گیا. رہنا پسند کریں یا طلاق حاصل کرلیں۔" (١٩٧٦ء، معارف القرآن، ١٣٤:٧)
"ضمیمہ. میں منجملہ اور امور کے تداخل نور و طول موج وغیرہ کے تجربے بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔" (١٩٢١ء، طبیعیات عملی، ٢٠١)
"داراشکوہ کے مذہبی عقائد کے خلاف جو تدارکی تحریک چل رہی تھی اس نے بھی اورنگ زیب کو متاثر کر رکھا تھا۔" (١٩٧٥ء، ہندوستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر، ٢٨١)
"مائکل سن نے. تو تداخل پیما. سے حرارتی شعاعوں کی بھی پیمائش کی تھی۔" (١٩٦٦ء، حرارت، ٨٩٨)
"دلیلیں گردن کی. جس کی گردن موافق ہے وہ منصف اور تدبیر کار ہوگا۔" (١٨٠٣ء، گنج ،خوبی، ١٧٥)
"اصل غرض تجویز نکاح سے اقامت تدبیر منزل اور تعاون باہمی انتظام خانہ داری اور تحصین فرج ہے۔" (١٨٩٦ء، تہذیب الاخلاق، ٣٠:٣)
"سیاسی اصلاحات کا نفاذ صرف تدریجی ارتقا کے منظم عمل کے طور پر ہی کرسکتے ہیں۔" (١٩٣١ء، خطبات اقبال، ٧٧)
"اس نسل کا مزاج وہ تدمغ لیے ہوئے ہے جو غالب کے بلند آہنگ کلام میں پایا جاتا ہے، یہ تدمغ نیاز فتح پوری میں بھی ہے اور ابوالکلام آزاد میں بھی۔" (١٩٧١ء، غالب کون، ١٥٣)