"مولانا ان کے فضل و احسان اور لطف عمیم کے ہمیشہ مداح رہے۔" (١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٧٩٣)
"تکلف، تصنع، مبالغہ، رعایت لفظی . حسن کلام اور لطف سخن اجزائے ترکیبی ہیں۔" (١٩٦٦ء، فن اور فن کار، ١٠١)
"طبیعت اسی ظریف و لطیف اور لطیفہ سنج پائی ہے کہ سبحان اللہ۔" (١٩٢٨ء، آخری شمع، ٧٧)
"سیاسی بحثیں جاری رہتیں اور لطیفہ بازی کے دور بھی ہوتے۔" (١٩٨٨ء، احوال دوستاں، ٧٠)
"لطیف الطبع، نیکو نظر، عالم و شاعر اور بے نظیر خوش نویس تھے۔" (١٩٦٣ء، صحیفۂ خوشنو سیاں، ١١٢)
تبسم کی لہروں میں روئے نگاریں شب ماہ میں تاب لعل بدخشاں (١٩٤٧ء، سرود و خروش، ٦٧)
"خیر حافظے کی لڑکھڑاہٹ ہم سب سے ہو جاتی ہےپھر شعر ایسا ہے کہ ہر آدمی کو اپنا معلوم ہوتا ہے۔" (١٩٨٦ء، بازگشت و باز یافت، ١١٥)
"لڑائی و ڑائی تو کچھ ہوتی نہیں ہاں یہ لوگ اللہ کی نعمتوں اور اس کے فضل سے لدے پھندے گھروں کو وآپس آئے۔" (١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ١١٤:١)
"جب سے ہمارا گروپ شہر میں آیا تھا خوب لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔" (١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣١)
"کلائمکس کے اعتبار سے پریم چند کے افسانے کفن کی یاد دلاتا ہے۔" (١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ١٠٣)
"ہاں امّی ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھی۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، مارچ، ٥٧)
"لکڑی کی تختیاں، کٹھڑے کونڈے، لاکھ کی چوڑیاں، گڑ گڑے،۔۔۔ خاص لکھنؤ کی ایجاد ہے۔" (١٩٣٦ء، قدیم ہنرو ہنرمندانِ اودھ، ١٨٧)
وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا دنیا کے ہر فریب سے ملوا دیا مُجھے (١٩٧٦ء، خوشبو، ١٤٦)
"ان میں سے جو بائیں طرف ہے، اسے کلچ کہتے ہیں۔" (١٩٨٧ء، ساتواں پھیرا، ٨٥)
["\"بات فارسی کلاسک میں چل نکلی۔\" (١٩٦٣ء، نیاز فتحپوری، شخصیت اور فکرو فن، ٤٠)"]
"قیام پاکستان سے پہلے حیدر آباد دکن میں اس ادارے نے جو ادبی کتابیں شائع کیں، آج انہیں جدید اردو کلاسکس کا درجہ حاصل ہے۔" (١٩٨٨ء، دو ادبی اسکول، ٥)
"بادشازادہ بہت سا جو باہوش و باوقوف تھا سو ایسی باتیں کرتا ہے کہ جہاں آرائے بہت خوش ہوتی ہے۔" (١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ١٥١)
"اس میں ایک ایسا توازن پیدا کر دیتا ہے جو تخلیق کے پل صِراط سے زندہ و سالم گزرنے کے لیے ضروری ہے اور جو کلاسیکیت کی جان ہے۔" (١٩٨٦ء، نئی تنقید، ٢٢٨)
"ہر ماہ ایک سے زیادہ مضمون لکھنا پڑتا ہے آخر میں کوئی لکھنے کی کل نہیں ہوں۔" (١٩٨٤ء، ارمغان مجنوں، ٥٤٩:٢)
"کلاس روم میں سگریٹ نہیں پی سکتے۔" (١٩٨٨ء، ایک محبت سو ڈرامے، ٦٩٣)
"وہ اس کلاسِفِکیشن سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔" (١٩٢٥ء، وقار حیات، ٦٢٣)
"پہلا کلمہ بچے کو چھوٹی سی عمر ہی میں سکھا دینا چاہیئے، پھر اسے کلام اللہ کی چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرانی چاہئیں۔" (١٩٧٥ء، روشنی، ٢٤٤)
"اگر تم کو اس کلام کے کلام بشر ہونے کا خیال ہے تو تم بھی تو ایک سورت ایسی فصیح و بلیغ تین آیت کی تعداد بنا کر دیکھو۔" (١٩٣٢ء، ترجمہ قرآن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٧)
"ماں کے پیٹ میں بھی بچے پر خوش الحانی اور کلامِ الٰہی کے الفاظ اور آہنگ کا اثر پڑتا ہے۔" (١٩٨٤ء، طوبٰی، ٣٤٨)
"بس اتنا کر کہ کلام مجید مجھے دیدے جا نماز تو لے جا۔" (١٩٨٤ء، طُوبٰی، ٦٧٧)
"یہ اب سے کوئی چودہ سو برس پہلے کی بات ہے، ایک بہت بڑا بادشاہ اپنا لشکر جرار لے کر یمن سے چلا۔" (١٩٧٨ء، روشنی، ٩٣)
"بادشاہ زادہ بہت سا جو با ہوش و باوقوف تھا۔" (١٧٦٤ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ١٥١)
"کراماً کاتبین اس کے ایک ایک قول اور فعل کا ریکارڈ درج کررہے ہیں۔" (١٩٧٨ء، سیرت سرور عالمۖ، ٢٧١:٢)
"پھوار میں تیزی اور کٹیلا پن بڑھ گیا ہے۔" (١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ٣٣)
جب ہجر میں تڑپا یہ ندا آئی فلک سے ہے تیری دعاؤں پہ ابھی باب اثر بند (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٨١)
"اللہ نے چاہا تو اس کی آنکھوں میں ککرے پڑیں گے۔" (١٩٨٠ء، وارث، ٢٠)
"جس نے جہاد کیا ہے اس کو باب الجہاد سے بلائیں گے۔" (١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠)
زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوزِ دماغ (١٩٣٦ء، ضربِ کلیم، ٧٨)
["\"یہ الگ بات کہ اس کی سورمائی آخر وقت میں اس کے شہر کے کسی کام نہ آئی۔\" (١٩٨٦ء، خیمے سے دور، ١٥٠)"]
دل تھا مرا حوادثِ دنیا سے سوز ناک گویا کہ ایک شمع کسی انجمن میں تھی (١٩٥٠ء، لوحِ محفوظ، ٢٥٣)
عالم قلبِ پتاں تو دیکھو فتنۂ سوزِ نہاں تو دیکھو (١٩٨٤ء، چاند پر بادل، ٧١)
"عمل اور ایجاد کے شوق کی والہانہ تکمیل میں جو تکلیفیں اُٹھانی پڑتی ہیں وہی سوز ساز زندگی ہیں . جتنا شوق بڑھتا ہے اتنی ہی خودی مستحکم ہوتی ہے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٢٦)
"اُس کا درد بھرا بین اُس کا سوز و گداز اس کے دل کو جھنجھوڑ ڈالتا۔" (١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٦٧)
گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقین سے کنجشکِ فرو مایہ کو شاہین سے لڑا دو (١٩٣٥ء، بالِ جبریل، ١٤٩)
"آتشک، سوزاک . وغیرہ کے لیے ایک ہی خوراک کافی ہے۔" (١٩٣٧ء، سلک الدرر، ٩٨)