عملی پیمائش"جیسا کہ عمل کے پیشتر اور بعد میں عملی پیمائش کرکے معلوم کیا گیا۔" (١٩٣٢ء، ہمدرد صحت، دہلی، جولائی، ٢٤)
عملی امتحان"مشاہدات و واردات کی قدرو قیمت کا ایک طرح سے عملی امتحان ہے۔" (١٩٨٥ء، نئی تنقید، ٣٢٠)
عمل ہاضمہ"غیر نفوذ پذیر اشیاء کی نفوذ پذیر اشیا میں تبدیلی کو عمل ہاضمہ (Digestion) کہتے ہیں۔" (١٩٦٧ء، معیاری حیوانیات، ٥٦:١)
عمل نفوذ"ایسے حشرات (Insects) صرف وقت ضرورت عمل نفوذ (Osmosis) کے ذریعے اپنی جلد کی مدد سے سانس لیتے ہیں۔" (١٩٧١ء، حشریات، ٣٧)
عمل نتھار"یہ کثافتیں بھاری ہونے کی وجہ سے برتن کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں اس لیے صاف مائع کو ان کثافتوں کے اوپر سے آہستہ کسی دوسرے برتن میں انڈیل کر علیحدہ کر سکتے ہیں اس عمل نتھار کہتے ہیں۔" (١٩٧١ء، عملی کیمیا، ١١)
عمل نا گزیر"یہ قدم عمل ناگزیر کے طور پر ان کے سامنے پیش کیا گیا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٤٤)
اسٹام"چار آنے کا اسٹام آدھ آنہ بڑھتی کا۔" (١٩٠٠ء، خورشید بہو، رسوا، ١٦٦)
پوٹھوہار"پوٹھوہار کے علاقے میں بولی جانے والی زبان پوٹھوہاری پنجابی سے ملتی جلتی ہے۔" (١٩٥٦ء، خیابان پاک، ١٦٢)
پروانگی[2] ہے وہ دل تنگِ عاشقی ہادی جس میں پروانگی نہیں ہوتی (١٩٦٢ء، صدائے دل، ١٦٥)
پروانگی[1]"اب مجھے جانے کی پروانگی دو کیونکہ مٹھ میں کام کا حرج ہو رہا ہو گا۔" (١٩٠٥ء، وکرم اروسی، ٨٤)
پروانہ[1] عشق و جنوں کی آگ میں لڑ کر عاشق اور معشوق تھے ایک جل بجھنا انجام تھا سب کا شمع تھی یا پروانہ تھا (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦١)
پروانہ[2]"اس طرح اُس نے اپنے چیلوں کو آزادی کا پروانہ دے رکھا تھا۔" (١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٧٦)
پریمیر"پریمیر شو کی بکنگ یکم نومبر سے شروع۔" (١٩٦٦ء، روزنامہ و جنگ، کراچی، ٣١ اکتوبر)
پرخچا اور صبح جو چمکی تو ہوا پر غلطاں اپنے ہی دماغ کے پرخچے دیکھے (١٩٥٢ء، سموم و صبا، ٣٣٩)
پراپرٹی"میں نے بہت روکا وہ مانیں ہی نہیں، |کیا مطلب| |وہ قمر ہے نا| وہ لے گئیں، تو پھر? اپنی پراپرٹی میں نہیں۔" (١٩٦٢ء، معصومہ، ١٠٤)
پدری"ہند میں جو گدی پدری کا قاعدہ ہے وہ یہاں نہیں۔" (١٩١١ء، روزنامچۂ سیاحت، ١١٧:١)
پختون["\"اس سے پشتو کی دو بڑی قسمیں ہوگئی ہیں جنہیں پشتون اور پختون سے موسوم کرتے ہیں۔\" (١٩٣٠ء، سہ ماہی، اردو، جنوری، ١٦٢)"]
نیپالیکوئی مطلب موجود نہیں
پارلیمانی"صوبوں میں پارلیمانی سیکریٹریوں کے تقرر کا امکان نہیں۔" (١٩٧٤ء، روزنامہ |جنگ| کراچی، ٢٠جنوری، ٦)
پھل واری"عمارت کی جگہ مہندی اور نیز دیگر پھلواری کی باڑ ہے۔" (١٩٢٠ء، رہنمائے قلعہ دہلی، ٨٢)
جنم گانٹھ"جنم گانٹھ دیے جانے کا وقت آگیا میں عروس کی طرح سنواری گئی۔" (١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ١٢٤)
جنم ساکھی"علما نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ یہ جنم ساکھی گورو ہرگو بند صاحب کے عہد میں لکھی گئی ہے۔" (١٩٧٥ء، تین ہندوستانی زبانیں، ٩١)
جنم چکر"ایمپی دکلیس، فیثا غورس کی طرح جنم چکر اور نسخ ارواح کا قائل تھا۔" (١٩٧٥ء، عام فکری مغالطے، ١٠٨)
جنم جنم کا"جنم جنم کا ساتھ چھوٹا جاتا ہے۔" (١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ)
لفظیات"شاعر کی اپنی مخصوص لفظیات اور رمزیات بھی ہوتی ہیں۔" (١٩٨٧ء، سخن در سخن، ٢٣)
اسٹرانومی"اِس میں دکھایا گیا ہے کہ جدید اسٹرانومی کے تمام اصول مسلمان حکما دریافت کر چکے تھے۔"
لغزش پا ہاں خبردار! کہ اک لغزش پا سے بھی کبھی ساری تاریخ کی رفتار پلٹ جاتی ہے (١٩٧٦ء، جاں نثار اختر، سکوت شب، ٦٩)
لفٹنٹ جو منگوٹ صاحب ہیں عالی مقام اوالعزم لفٹنٹ ذی احتشام (١٨٦٨ء، شکوۂ فرنگ (اورنٹیل کالج میگزین)، جون، ١٩٧٣، ٣٧)
لکھاری یہ پنجابی اور اردو کا بڑا اچھا لکھاری ہے یہ موٹا تو نہیں اتنا مگر سب پر ہی بھاری ہے (١٩٩١ء، چھیڑ خانیاں، ١٧٠)
لغو گوئی"کسی ہوشیار اور تیز طبیعت کے آدمی کے لیے لغو گوئی، تفریح طبع کا سامان اس وقت تک نہیں ہو سکتا کہ جب تک اس کی طبیعت میں اس قدر شگفتگی نہ ہو۔" (١٩٨٤ء، مقاصدو مسائل پاکستان، ٢٣١)
لغوی معنی"صف شکن اپنے لغوی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔" (١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ١٠)
لغوبیانی"محمد بن اسحاق نے فن مغازی میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ امام فن مغازی کے نام سے مشہور ہیں، شہرت عام میں اگرچہ واقدی ان سے کم نہیں لیکن واقدی کی لغو بیانی مسلمہ عام ہے۔" (١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٢:١)
لغو بات"ان کی لغو بات میں بھی وزن محسوس ہوتا تھا۔" (١٩٨٩ء، آب گم، ١٩٦)
لفظاً"چلتا ہے اور کہتا ہے میں "تاہے" علامت فعل حال ہے جس کی لفظاً اور معناً تکرار ہوئی ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٢٠)
لطف زبان"بعض اہل ذوق کی رائے ہے کہ حقی کی غزل فقط لطف زبان کا جادو ہے۔" (١٩٧٦ء، سخن ور (نئے اور پرانے)، ١٧٦)
لطف آگیں تری بیداد لطف آگیں نہیں ہے جس کی قسمت میں وہ آخر تحتۂ مشق جفائے آسماں ہو گا۔ (١٩٥٠ء، ترانۂ وحشت، ٣٧)
لطف انگیز"جو وضاحتیں اور مراحتیں رقم کرتے ہیں ان کی بدولت نہایت لطف انگیز . لغت مرتب ہو گئی ہے۔" (١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ١٥)
لطف اندوزی"بھرپور لطف اندوزی کے لیے پوری نظم پر نگاہ ڈالنی ہو گی۔" (١٩٨٨ء، اردو کی ظریفانہ شاعری اور اس کی نمائندے، ٧٠)
لطف و کرم"اس مرتبہ پہلے سے بھی زیادہ تعظیم و تکریم اور لطف و کرم کا اظہار فرمایا۔" (١٩٨٧ء، بزم صوفیہ، ٦٠٣)
لطف و انبساط"ان کے ہاں فطرت کے مناظر سے لطف و انبساط اکتساب کرنے کا رجحان تو نظر آتا ہے۔" (١٩٨٧ء، اردو میں سفر نامہ، ٢٣٨)