["\"اس کمی وسعت نظر کے ساتھ اپنے کو بلند نگاہ، بالابیں اور حقیقت آگاہ سمجھتے ہیں۔\" (١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣٦٩:٢)"]
"مسیلمہ نے جو شعریت بنائی تھی اس میں پانچ نمازوں کے بجائے صرف تین نمازیں رکھی تھیں۔" (١٩٦٢ء، اردو انسائیکلوپیڈیا، ٩٢٨)
کم نگاہ دیکھیں گے زخم آشنائی کیا روح کے تعلق تک جسم کی رسائی کیا (١٩٧٩ء، زخم ہنر، ١٤٢)
ہیں ہیں ماتم زدے آفت زدے ہیں یتیماں ناتواں زحمت زدے (١٨٩٨ء، شفاعت نامہ (رسائل حیات!، ٥١)
"نظم کا یہ موضوع اگر کسی اور شاعر کے پیش نظر ہوتا تو اس میں . زجر و عتاب بلکہ دشنام کے زہر بھرے زقوم ہوتے۔" (١٩٨٥ء، خواب در خواب، ١٨)
"چار ستارے واقع گردن کو جبہہ اور ستارگان بطن اور تہی گاہ کو زبرہ . کہتے ہیں۔" (١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٥٧)
جسے کہتے ہیں عرف عام میں تخلیق انسانی یہ کس آغاز کی سعی زبوں انجام ہے ساقی (١٩٣٣ء، سیف و سبو، ١٤٣)
"انسان کا دل ایسا بے درد ہے کہ وہ اکثر ایسے منظروں کی زبونیت بھول کر ان کی اظہار جوانمردی اور استقلال پر خیال کرنے سے ایک عجیب مسرت حاصل کرتا ہے۔" (١٩٠٧ء، نپولین اعظم (ترجمہ)، ٩٠:٢)
"(ciecer) (چنا) کے بیجوں کو زیر ارضی (Hypogeal) کہتے ہیں۔" (١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ١١)
"مرکزی سرکار کی ملکیتی یا اس کے زیرانتظام کمپنیاں اور کارپوریشنیں بھی بیورو کے حوالے کر دی جائیں۔" (١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ١٨٣)
"پاکستانی اخبارات بھی باقاعدہ سے میرے زیر مطالعہ رہے ہیں۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٢ جولائی، ١٤)
"جب شہزادگی کے یہ خواہش مند، مزدوروں اور کسانوں کے غم میں موٹے ہونے کا ڈراما شروع کرتے تھے تو زیر نفس کیا گزرتی تھی۔" (١٩٧٠ء، برش قلم، ٣٢٢)
"معافی لوگوں ہی میں اتنا شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ مہذب انسانوں کے زیرنگرانی جنگلات کو کاٹیں اور کاشت کریں۔" (١٩٦٤ء، معاشی و تجارتی جغرافیہ، ٢٣٠)
["\"ان میں نئی زندگی کی واضح اور توانا آوازیں گونجنے لگیں اور خواب خرگوش کا طلسم زیر و زبر ہو گیا۔\" (١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٨)"]
"صوت کو دیگر کیفیات بھی عارض ہوتی ہیں یعنی زیری، و بمی و غنگی و پیچیدگی۔" (١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٨٥:١)
[" اک جاگہر پر آب وفا اک جانور دل اہل صفا اک جا تیغ پر خون جفا اک جا شکن بالاے جبیں (١٩٣٢ء، مانی، نقوش مانی، ٥)"]
کوئی مطلب موجود نہیں
"بہ ذریعۂ معاش اس وقت ایسے ہی دور افتادہ علاقوں میں زیر عمل ہے۔" (١٩٦٤ء، معاشی و تجارتی جغرافیہ، ١٣)
ہنستے ہیں کیوں جو ان و پیر جانب یار دیکھ کر چہرہ زرد کیا کوئی کھیت ہے زعفران کا (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٤٤)
"امام صاحب (امام رازی) . اس قدر دولت مند ہو گئے کہ پچاس غلام زریں کمر . ان کے گرد کھڑے رہتے تھے۔" (١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ٢١٥:٢)
"زریں پشت، نیل کنٹھ اور ہدہدوں کی ٹولیوں نے پرانے درختوں کے ٹھنٹھ بسرام کے لیے چن لیے۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٢٤)
مطلب کا ہر اک سے تھا طلب گار ہر خوان سے تھا وہ زلہ بردار (١٩١٤ء، شبلی، کلیات، ١٦)
"فطری ذہانت اور مزاج کی بالانشینی - یہ ایک ابتدائی مظاہرہ تھا، جو آگے چل کر مولانا کی شخصیت کا نمایاں عنصر بن گیا۔" (١٩٤٩ء، آثار ابوالکلام، ٢٣)
"عبارت کی طراری اور زلزلہ انگیزی اپنے مصنف کی شخصیت کی آئینہ دار ہے۔" (١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٣١٢)
"سالار اور سردار سپاہ بڑے زرق و برق سے رہتے تھے۔" (١٨٨٧ء، سخندان فارس، ١٢٠:٢)
زرق و فریب و فند میں جس کا کوئی ثانی نہیں ریشہ دوانی میں یگانہ، خیرہ سر، تیرہ جبیں (١٩٧٥ء، خروش خم، ٦٤)
"زری فروش طرح طرح کی اشیا زری کی تاش اور زربفت اور گوشہ و مقیش اور کلابتوں . اور نقش و نگار سونے کے تاروں کی دکان میں موجود رکھتے ہیں۔" (١٨٤٥ء، مجمع الفنون (ترجمہ)، ٢١٠)
"دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراونا خواب دیکھتی ہے۔" (١٩٥٥ء، منٹو، منٹو نوری نہ ناری، ١٥٦)
"ڈراپ سین کا نچلا سرا اسٹیج کی چوڑائی کے برابر لمبی پلی پر میخوں سے جڑا ہوتا تھا۔" (١٩٦٩ء، خورشید (مقدمہ)، ٥٧:١)
"کمپنی کا چیئرمین مجھ جیسے تجربہ کار ڈرافٹسمین سے محروم ہونا پسند نہیں کرتا تھا۔" (١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١٨٧)
"سب کمیٹی کے اجلاس سے پہلے انتخابات کے فارمولے کی ڈرافٹنگ کرنا تھی۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ١٥٠)
ڈراما نویسی میں مشہور عام ہوا حشرو بیتاب و احسن کا نام (١٩٢٢ء، مطلع انوار، ١٦٧)
"صادق صاحب ملیشیا کے انچارچ بنے اور وہ کلچرل شعبے کی تنظیم میں بھی سرگرم رہے اس شعبے نے . کچھ چھوٹے چھوٹے ڈرامچے حب وطن کے موضوعات پر تیار ہے۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٤٣٢)
"جس شخص نے ڈیزائن بنانے والے ڈرائنگ بورڈ پر کام کیا جاتا ہے وہ جانتا ہے کہ محض ایک سانچے کے سوراخ کو بدلنے کی وجہ سے بعد کے کاموں میں کتنی بڑی تعداد میں تبدیلیاں کوئی ضروری ہو جاتی ہیں۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ١٤٤)
"کوئیک موٹر ڈرائیونگ اسکول سے صرف ١٥ دن میں گاڑی چلانا سکھئیے۔" (١٩٨٨ء، جنگ، ١٥ اپریل، کالم، ٣، ٤)
"یہاں آکر کاریں تو لے لی ہیں لیکن ڈرائیونگ میں مہارت ابھی حاصل نہیں کر پائے۔" (١٩٨٧ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٦١)
"بشیر ہی کوٹھی پر ڈرائیوری کروں گا۔" (١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ٥١)
"پورے انہماک سے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے . خیالات کا جائزہ لیا۔" (١٩٨٧ء، گلی گلی کہانیاں، ٩٠)
"پٹرول یا گیسولین (Petrol or Gasoline) . ڈرائی کلین کے لیے۔" (١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٢٩١)
"موچی دروازے کے باہر جہاں . ڈرائی فروٹ کی دوکانیں ہیں . ہم نے ٹیکسی چھوڑ دی۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٤٨٤)