"ڈرائی (Dry) بات چیت میں ابھی چالو نہیں ہے لیکن اس کا ایک مرکب ڈرائی کلینک تحریر میں اور دوسرا ڈرائی فروٹ بات چیت میں مستعمل ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٥٣)
"ڈرائنگ ماسٹروں کو گزٹ کے مطابق اسکیل نمبر ١٤ فوری طور پر دلائیں۔" (١٩٧٥ء، حریت، کراچی، ٣٠ اپریل، ٣)
کس طرح حسن زباں کی ہو ترقی وحشت میں اگر خدمت اردوے معلٰی نہ کروں (١٩٥٠ء، ترانۂ وحشت، ٥٣)
"ڈرائنگ پیپر، لیجر پیپرا اور بانڈ پیپر وغیرہ . سخت سطح والے کاغذات شمار کیے جاتے ہیں۔" (١٩٧٨ء، آفسٹ لیتھو گرافی، ١٢٣)
"پائپوں کے سب سے نیچے والے حصے پر ایک ڈرین پائپ لگائی جاوے۔" (١٩٠٦ء، پریکٹیکل انجینیرز، ٢٧٩:٢)
"نگینہ کے ڈیڈی ڈرنک پارٹی سے فارغ ہو کر . لان میں گئے تھے۔" (١٩٧٥ء، نیلا پتھر، ٧٢)
"ڈرنک . بات چیت میں |پینے| کے مفہوم میں رائج ہے۔ اس کے مرکبات مثلاً کولڈ ڈرنک، ہاٹ ڈرنک بول چال میں چالو ہیں۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٥٣)
"اس نے ڈرل ماسٹر کے لہجے میں مصباح کو دفتری ہدایات جاری کیں۔" (١٩٨٤ء، اوکھے لوگ، ٧١)
"ڈریس ریہرسل کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ پروگرام کے مختلف حصے اپنے اپنے مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں یا نہیں۔" (١٩٦٩ء، ٹیلی ویژن کی کہانی، ٦٤)
"ان کی (قمر جمیل) نظموں پر کسی ایک لب و لہجہ اور آہنگ کا اثر نہیں ہے بلکہ تین قسم کے آہنگ اور لہجے نظر آتے ہیں جن کا ڈکشن . ایک دوسرے سے . مختلف ہے۔" (١٩٧٠ء، برش قلم، ٢٨)
"بعض اوقات ترجمہ کرنے والے شاعر اپنے مخصوص رنگ کا ایسا گہرا ڈسٹمپر چڑھاتے ہیں کہ اصل کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔" (١٩٧٨ء، ابن انشا، خمار گندم، ١٥٢)
"ڈسٹرکٹ کورٹ کا کوئی چپراسی آیا اور اس نے لالہ مدن موہن لال . سے کہا یہ آپکا سمن یا وارنٹ ہے۔" (١٩٧٠ء، تاثرات، ٣٢٧)
"صدر انجمن . کی . شاخوں کے لیے یہ کام تجویز کیا گیا ہے:۔ . اپنے اپنے علاقے میں میونسپلٹی اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے مدارس . اور مکاتب میں اردو کی تعلیم کا انتظام کرنا۔" (١٩٣٧ء، خطبات عبدالحق، ١٣٧)
"رات ٩| بجے لیٹ گیا تھا مگر نیند، ڈسٹرب، رہی۔" (١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٢٣)
کل تک دفتر کے چپڑاسی ان دھبوں کو اپنی تھوکوں اور ڈسٹر سے صاف کریں گے (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٢٩)
"ادب پاروں اور انشا پردازی کے نمونوں - کی تعلیم اور درجہ بندی کی جاتی ہے۔" (١٩٦٤ء، زبان کا مطالعہ، ١٦٩)
"جماعت پنجم پرائمری میں داخل فرمایا جائے ڈسچارج سارٹیفکٹ لف ہذا ہے۔" (١٨٩٨ء، اردو خط و کتابت، ٤٢)
"یہ صدائے احتجاج کسی . مزدور اور کسان نے بلند نہیں کی صرف متوسط طبقہ کی ڈکٹیٹر شپ کے خواہاں ہی یہ آواز بلند کرتے رہے ہیں۔" (١٩٧٠ء، برش قلم، ٣٠١)
"زرعی یونیورسٹی نے . دو ڈگری کورس جاری کیے ہیں۔" (١٩٦٦ء، جنگ، کراچی، ١٥ اگست، ٥)
"یہ پتی کی ڈنڈی ہے جس کے آخری سرے پر ایک چوڑا پھیلا ہوا حصہ (کف برگ) لگا ہوتا ہے بعض پتیاں ڈنٹھل دار اور بعض غیر ڈنٹھل دار ہوتی ہیں۔" (١٩٦٤ء، ابتدائی نباتیات، ٤١)
"ان با اصولِ لغتوں کے ہوتے ہوئے بھی اصولِ لغت نگاری نہ سیکھے۔" (١٩٩٤ء، افکار، کراچی، مارچ، ٢٠)
"بعد کے لغت نگاروں نے ان سے بھی خاطر خواہ استفادہ کیا۔" (١٩٩٤ء، افکار، کراچی، مارچ، ٢٠)
"واحد منصوبہ جو اسے دیا گیا وہ لغت سازی کا تھا۔" (١٩٩٤ء، افکار، کراچی، مارچ، ١٩٠)
نہ اس کے معنی نہ اس کا مفہوم جانتے ہیں اسے لغت ساز، اہل دانش کا سہو معصوم جانتے ہیں (١٩٧٩ء، جزیرہ، ٤٤)
"لف و نشر میں شاعر منسویات کا تعین نہیں کرتا۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٤٥)
"لف بردار، لفی . بل دار وٹّاں والے پہاڑ۔" (١٩٦٤ء، رفیق طبعی جغرافیہ، ٢٠٨)
"جیگوار . بڑی اور بہت مضبوط ہوتی ہے مگر یہ کوئی خطرناک جانور نہیں ہے اور آدمی پر کم حملہ کرتی ہے۔" (١٩١٠ء، مبادی سائنس، ٣٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
جیو رکشا کرنے والو سود کھانا چھوڑ دو یہ وہ سالن ہے کہ جس میں آدمی کا خون ہے (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٢٦٦)
"اس نے ہم کو دیکھ کر کہا بابا تیرا دکھڑا بھاری ہے اس کو جیون سنکٹ کہتے ہیں۔" (١٩٤٧ء، مضامین عابد، ٢٨٠)
"ایسا انسان جیون مکت کہلاتا ہے۔" (١٩٤٥ء، تاریخ ہندی، فلسفہ (ترجمہ)، ٧٠٥:١)
صاف اک حلقہ ماتم زدگان ہالہ ہے قرص مہ تابہ آہن کی طرح کالا ہے (١٩٣١ء، محب، مراثی، ٧٥)
"تارک الدنیا اور تارک الوطن ہونا خالہ جی کا گھر نہیں۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٢)
"قیامت یہ کی ہے اسے اس کے کلام سے بہت بڑا محب وطن قوم پرست اور تارک موالات ثابت کیا ہے۔" (١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، ٤٨)
"اس کی اشاعت نے پدمنی کے اس مشہور اور فرشتہ میں مذکور قصے کی طرف بہت سے تاریخ دانوں کے نہ صرف کان کھڑے کیے بلکہ کان کھول دئیے تھے۔" (١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٤٢)
"کسی کو شوق ہو تو . انگریزی و تاریخ دانی و شناوری اور شاعری اور پھکیتی بھی سیکھ لے۔" (١٨٧٢ء، لذت الافہام، ٣٨)
"محاسبات دفتر سے تاریخ شمسی خارج ہو۔" (١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٣٣٢:٤)
"محمود خلجی نے حکم دیا کہ محاسبات دفتر سے تاریخ شمسی خارج ہو اور تاریخ قمری مقرر ہو۔" (١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٣٣٢:٤)
"تاریخ معنوی کی تین قسمیں ہیں، کامل الاعداد، زائد الاعداد، ناقص الاعداد۔" (١٨٩٦ء، گلبن تاریخ، ١٣)
"ایک کارڈ کی جگہ حسب ذیل نمونہ کا تاریخ نامہ بھر کر رکھ دیا جائے۔" (١٩٦١ء، انتظام کتب خانہ، ٤٨)