"یہ ذرے. میگنیٹک خطوط قوت کے ساتھ مختلف زاویے بناتے ہوئے نکلتے ہیں۔" (١٩٧٢ء، تاب کاری، ٩٦)
"ابو الوفاء نے. چند قواعد خطوط مماس اور خطوط قاطع کی نسبت ایسے بیان کیے جن سے دائرہ کی شکلوں کا باہمی تعلق. معلوم ہوگیا۔" (١٨٩٩ء، مضامین سلیم، ١٩٠:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"شمال میں خطہ سرطان کے قریب صحرائے اعظم واقع ہے۔" (١٩٧٧ء، کرہ ارض کا حیوانی جغرافیہ، ٣٨)
"اس کی بدولت لونی جسم پر جین کی خطی ترتیب کا نظریہ آگے بڑھا۔" (١٩٧١ء، جنینیات، ٢٧٩)
"مدارچوں کے حاصل کرنے کی ایک ترکیب ایٹمی مدارچوں کی خطی ترکیب کہلاتی ہے۔" (١٩٧٥ء، غیرنامیاتی کیمیا، ١١٦)
"ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خطی تناسب کی مذکورہ بالا شرط کو پورا کر سکے کیونکہ جیسا ذیل کے فارمولے سے ظاہر ہے۔" (١٩٧١ء، الیکٹرانی کرنوں کے عملی اطلاقات، ٢٢٦)
"پنڈولموں یا دوسرے اہتزاز گروں کے ایسے خطی صف کو مقطار (Filter) کہتے ہیں۔" (١٩٧٤ء، موجیں اور اہتزازات، ٧٣)
"اگر منبع سے چند مخصوص موج خارج ہوں تو شگاف کے عکس ایک دورسے سے الگ ہوتے ہیں اور چمکدار خطوط کا سلسلہ معلوم ہوتے ہیں، ایسا طیف خطی طیف کہلاتا ہے۔" (١٩٨٤ء، مبادیات طبیعیات، ٣٦٧)
"تاریخ محض. ایک مبہم منتشر اور خطیبانہ مضمون ہے۔" (١٩٥٩ء، سید حسن برنی، مقالات، ٥٢)
"اگر سو مرتبہ کوئی دانہ چھوٹ کر اس (چیونٹے) کے منہ سے نیچے گر جاتا تو سو ہی دفعہ اترتا ہے اور اسے لے کر اخیر کو چڑھ جاتا ہے۔"رجوع کریں:
"وہ خفتگی کے عالم میں اپنے گرم کپڑے سمیٹتے ہوئے اٹھ کر اندر چلے گیے۔" (١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٢٣٣)
"جب ہم سرد مقام سے گرم مقام میں جاتے ہیں تو ہم کو گرمی کا زیادہ شعور ہوتا ہے. جس حالت میں ہم پہنچتے ہیں وہ ہمارا صریحی شعور ہے اور جس حالت کو چھوڑتے ہیں، خفی شعور۔" (١٩٣١ء، نفسیاتی اصول، ١١٧)
"جس شے کا وجود نہ ہو اس کی تلاش تضیع اوقات ہے۔" (١٩٧١ء، فوٹو گرافی، ٣١)
"ان سے اسہال اور تطبل گھٹ جاتا ہے، اور پاخانہ کم بدبودار ہوتا ہے۔" (١٩٤٨ء، عمل طب، ٢٠٦)
"یہ باتیں دونوں عملوں میں ایک ہی سی ہیں، ان میں ایسا ہی فرق ہے جیسا کہ تو زین اور تطبیخ میں ہم نے بتلایا۔" (١٨٨١ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ٢٥٧)
علی نے پہلے میان حرم کیا سجدہ اخیر میں نہ تیغ دو دم کیا سجدہ (١٨٨٥ء، میر عشق، مراثی، ٩٦)
"روغن مالی و روغن چکانی کو تطلیہ اور تجریع کہتے ہیں۔" (١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١، ٢٧٦:١)
"تخویف و تطمیع دونوں پیغمبر صاحب کے حق میں بے اثر تھیں۔" (١٩٠٧ء، اجتہاد، ٧٢)
"مستحب ہے غسل و تطیب واسطے قراءت حدیث آنحضرت۔" (١٨٥١ء، عجائب القصص، ٤٤٩:٢)
"لیکن اگر آپ وہاں نہ جانا چاہیں تو کم از کم ہمارے لیے ایک تعارفی خط لکھ دیں۔" (١٩٤٧ء، آخری چٹان، ٧٥)
"انگریز تیشہ کھانے کے بعد بھی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک ٹائی نہ لگالے اور ملک الموت کے نام تعارفی کارڈ حاصل نہ کرلے۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ١٢٦)
"افراد جوں ہی جزو جماعت کر باہم تعاشر کرتے ہیں . ان کے ذاتی ارادے جماعت کے ارادے سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔" (١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ٣٧)
"باب پانچواں عمل تعاکس میں . اس میں ہمیشہ خلاف سوال مسائل کے عمل کرتے ہیں یعنی اگر مسائل کسی عدد کو تضعیف کرتا ہے تو اسکو تنصیف کرتے ہیں اور کچھ بڑھاتا ہے تو گھٹاتے ہیں۔" (١٨٥٢ء، تسہیل الحساب، ٥١)
یہی انداز باندھے ہیں یہی ناز قیامت میر صاحب ہیں ادا بند (١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٠٩٧)
"اعتقادات کے باب میں ان کا یہ خیال تھا کہ جب مبادی مذہب درست ہوں تو امور تعبدی میں کوئی کلام نہ کرنا چاہیے۔" (١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٦٢)
"اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ تمدن کی روز افزوں ترقی کے ساتھ افراد کے مزاج میں بجائے خشکی و تعبس کے زندہ دلی و لطافت پیدا ہو۔" (١٩١٧ء، تاریخ اخلاق یورپ،١٩٧:١)
"دفعہ ٣٤١ کے ضمن تعبیری کے لحاظ سے، سرمایہ میں: ہر رقم، وظیفہ سالانہ یا ضمانت جو کسی کمپنی یا سوسائٹی کے رجسٹروں میں داخلہ . یا منتقل ہو سکتی ہو . شامل ہیں۔" (١٩٣٠ء، شخصی قانون بین الاقوام، ٦٧)
"میری اس تعجبانہ تجویز سے سب عورتوں میں ایک دند مچ گیا۔" (١٨٩١ء، قصہ حاجی بابا اصفہانی، ١٧)
"روح ایک جسم لطیف بخاری ہے . اور ہر عضو کی اوس سے حیات اور حس و حرکت کے قبول کی استعداد اور تولید اور تعدید حاصل ہو . اس کو روح حیوانی کہتے ہیں۔" (١٨٧٣ء، مطلع العجائب، ٢٩٠٠)
"مصنف کا غیر معمولی تعمق نظر، غیر مذہبوں سے بے تعصبی اور اصلی عیسائیت کے سچے اصولوں کا ادب . جو لوگ مذہبی باتوں سے دلچسپی رکھتے ہیں چاہیے کہ اس کتاب کو غور سے پڑھیں۔" (١٩٠٥ء، مقالالی حالی، ١٠٧:٢)
"برخودار محب علی کا کارڈ بھی جو بہت مدت ہوئی آیا تھا اسی طرح تعمیلی مٹھے میں رکھا ہے، ان کو بھی اب تک جواب نہیں لکھا۔" (١٨٩٥ء، مکتوبات حالی، ٣٥:٢)
منچلی وہ بنگال کی بالا جس کے روپ انوپ کے کارن (١٩٥٥ء، دونیم، ١٦٩)
قائم ہر ایک کوچے میں ہے طرفہ تغریہ یوسف بتوں کی گرمی بازار یک طرف (١٧٩٥ء، قلمی نسخہ دیوان قائم، ٧٦)
وہی کرتا ہے اپنے ہاتھ تکفیں نماز میت و تغسیل و تدفیں (١٨٥٥ء، ریاض المسلمین، ٤٦)
"ادویہ میں تغشیش واقع ہونے کا خطرہ ہے، کونین بعض اوقات مغشوش کر دی جاتی ہے۔" (١٩٤٨ء، کتاب الادویہ، ٣:١)
"ان کے ہاں صدہا استعارے ایسے لفظوں کی جگہ مستعمل ہونے لگے جیسے . بول و براز کے لیے قضائے حاجت، تفوط، تبزر وغیرہ۔" (١٨٧٩ء، مقالات حالی، ١٢٩:١)
"ہم انسان کو . عناصر میں سے ایک عناصر سمجھیں اور اسے خارجی دینا کا ایک تفاعل قرار دیکر اس کا مطالعہ کریں۔" (١٩٥٩ء، مقدر انسانی، ٤٣)
["\"اس باب میں بالا اور بوڑھا برابر ہے۔\" (١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٩)","\"یہ کہتی سو مرے بالے مرے نور نظر سو جا۔\" (١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٤٩)","\"وہاں بالے کی رسم تھی یعنی دلھن کے ہاں سے دولھا کے ہاں مٹھائی وغیرہ بھیجی گئی تھی۔\" (١٩٢٤ء، روزنامچۂ حسن نظامی، ٣٤١)","\"بجلی بالا تو بڑی شے ہے ذرا سی ناک کی کیل تو کسی نے کھوئی نہیں۔\" (١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٢٥)","\"پھلے تو بالا گایا گیا اور بچے کی نانی خالہ کو خوب گالیاں پڑیں جو کافی وزن دار تھیں۔\" (١٩٦٤ء، نورمشرق، ١٣٩)"]
"دانت میں درد ہو یا مسوڑے سوج جائیں یا کوئی دانت ہلنے لگے تو اس وقت استعمال کیجئے۔" (١٩٣٠ء، مکتوبات عبدالحق، ٧٧)