"تمام کوہ پاشیدہ ہو کر میرے سر پر گرتا۔" (١٨٥٥ء، غزوات حیدری، ٥٦٦)
"ایسی پراثر تصویر کھینچ دی ہے کہ جس سے ہر ایک پڑھنے والا گویا اسی جگہ بیٹھا ہوا معلوم ہوتا اور ایک ایک بات کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔" (١٨٨٥ء، بزم آخر، ٤)
"ابر رواں یا ادخنۂ رواں میں حیوانات وغیرہ کی شکلیں متصور ہوئی تھیں۔" (١٨٣٧ء ستۂ شمسیہ، ٣٥:٢)
"اثر انفاس کیمیا خواص اس گروہ حق پژدہ کا وہ ہے جو مس کو زر کرتا ہے سوکھی ٹہنی کو پر برگ و ثمر کرتا ہے۔" (١٨٤٧ء، مسرور سلطانی، ٢٧٤)
مرے دو دماں سب پر آتش اہیں میں خوش ہوں ولے لوگ ناخوش اہیں (١٦٤٩ء، خاورنامہ، ٨٢٧)
"ان کی مسافت. پر آبلہ تلوے، ہی خوب جانتے ہیں۔" (١٩٢٣ء، مضامین شرر، ٢:١)
"کابل کا معشوق لکھنؤ کی طرح دھان پان نہیں ہوتا بلکہ بالیدہ قامت پر اندام اور تنومند ہوتا ہے۔" (١٩٠٧ء، شعر العجم، ١٥٢:١)
"پگھلی ہوئی دھات کو پرسکون (Deadmelt) حالت میں رہنا چاہیے۔" (١٩٧٣ء، فولاد سازی، ٢١٠)
"ابر سیاہ کی مہین پھوار اس سانس کے استقبال کو دوڑی۔" (١٩٢٠ء، قلب حزیں، راشدالخیری، ٦٥)
"پرائی اولاد کے واسطے ہم کو ایمان نگلنے کی ضرورت نہیں۔" (١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٨٤)
میری جانب سے عدو کی لاگ میں پڑتا ہے کون شعلہ خو سچ ہے پرائی آگ میں پڑتا ہے کون (١٨٨٢ء، ریاض صابر، ٢٦٧)
شوہر دار پرائی جوتی اس کوں اب کیوں جائز ہوتی (١٥٠٣ء، نوسرہار، ١٧ الف)
جب اپنے ہاتھ کی تجھ سے نہ اٹھ سکی فریاد حریف ہو کے اٹھائے گا کیا پرائی چوٹ (١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٧٧)
"بڑا پرابلم ہے پچھلے سال ویزا لے کر مسوری گیا تھا مگر. دنیا بدل چکی ہے۔" (١٩٦٧ء، جلاوطن، ١٧٠)
"ہمایوں جگ کا ٹکر پردیش سے مارا دھاڑا آیا ہے. پرائے خون کی کیا چھان بین کرے گا۔" (١٩٣٣ء، فراق، مضامین، ١٣٧)
"اری مائی ہم دل لگی کیوں کونے لگے پرائی عورت ک وتو ہوم اپنی ماں سمجھتے ہیں۔" (١٩١٠ء، خواب ہستی، ٤٤)
چھین کر لائے ہیں مجنوں سے زبردستی ہم پہنے پھرتے ہیں سخن اب تو پرائی زنجیر (١٨٨٦ء، دیوان سخن، ١٠٥)
"ابھی پچھلا پہر شروع نہ ہوا تھا کہ وزیر جنگ نے اپنی فوج کو کھڑا کیا۔" (١٩٢٩ء، تمغۂ شیطانی، ٦٣)
پرملو ناچ ساتھ تھا سنگیت کوئی گاتی تھی پچھلے وقت کا گیت (١٧٩١ء، حسرت، طوطی نامہ، ٦٢)
"تمہیں روپے کی ضرورت ہو تو آدمی رات پچھلے پہرے جب چاہو مجھ سے منگا لو۔" (١٩٢٧ء، نور اللغات، ٦٤:٢)
جہاں شامیانے کھچے تھے وہاں ہوا پچھلے دن کو عجائب سماں (١٨٩٣ء، صدق البیان، ٢٣٠)
"قاعدہ کا نتیجہ ٣٢/٢٥ ( بتیس بٹا پچیس) گنا زیادہ نکلتا ہے۔" (١٩٠٧ء، تشریح المساحت، ٨٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
مائل یہ ابر قبلہ نہ برسا تو آج سے رندوں کے ہم بھی قبلۂ حاجات ہی نہیں (١٩٣١ء، حائل دہلوی، انتخاب دیوان اول، ١٤)
"ہندوستان کے مشترک خاندان کا ابوتی نظام. قدیم یونانیوں اور روسیوں کے نظام سے جس کو پدری اقتدار Patria potestas کہتے ہیں قریبی مشابہت رکھتا ہے۔" (١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٦٧:١)
"ایسی پراثر تصویر کھینچ دی ہے کہ جس سے ہر ایک پڑھنے والا گویا اسی جگہ بیٹھا ہوا معلوم ہوتا اورر ایک ایک بات کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔" (١٨٨٥ء، بزم آخر، ٤)
"کوئی روک نہ سکا، پرارماں سیدھے چلے گیے۔" (١٨٦٢ء، شبستان سرور، ٢:١)
"سارا اطہران بے حد پرامن ہے اور انتہائی منظم جسے جلوس سیاسی ہنگامے جھگڑے فساد ناپید۔" (١٩٧٩ء، کوہ دماوند، ٥٣)
"یہ اس پرامید زمانے کا ذکر ہے جب انہیں کتابوں کی دکان کھولے. دو تین مہینے ہوئے ہونگے۔" (١٩٧٠ء، خاکم بدہن، ١٧)
"طباعت کا کام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے انگریزی پبلشنگ کی طرف بھی یہاں کے مسلمان توجہ کر رہے ہیں۔" (١٩٣٦ء، مکاتیب اقبال، ٨٠:٢)
"آپ انجمن اردو سے متعلق ایک پبلشنگ ہاؤس قائم کرنا چاہتے ہیں۔" (١٩٣٦ء، مکاتیب اقبال، ٧٩:٢)
"مانچسٹر میں دو لاکھ آدمی جمع ہوگیے لیکن ایک بھی پبلک پارک یا کھیل کے میدان کا انتظام نہیں کیا گیا۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ١٧٦)
"اصلاح کار اور پبلک لائف کے. ابواب میں اسلامی خصوصیت کے لحاظ سے الفاروق میں بہت زیادہ مواد موجود ہے۔" (١٩٢٠ء، مکاتیب مہدی، ٤٣)
"اس طرح عدالتوں کا انتظام، پولیس کا محکمہ. پبلک ورک، ڈاک کا بندوبست وغیرہ وغیرہ، یہ تمام انتظامات خود خلفائے راشدین کے عہد میں قائم ہوئے۔" (١٩٠٤ء، مقالات شبلیخ ١٨١:١)
"سرکاری کام ان ڈپارٹمنٹوں میں تقسیم ہوتا ہے، ہوم ڈپارٹمنٹ. پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ۔" (١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٣٦)
"اے پروردگار! پاک بے نیاز تو ہی نے ہم کو دامان عصمت دیا ہے۔" (١٩٣٥ء، بیگمات شاہان اودھ، ٤٦)
"پاک دامنی پر اس گہرے دھبے کے آنے کا فوٹو کھنچ گیا۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٤)
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا ابرکہسار ہوں گلپاش ہے دامن میرا (١٩٠٥ء، بانگ درا)
"جو پاک دلی کو چاہتا ہے اس کے ہونٹوں میں لطف ہے اور بادشاہ اس کا دوستدار ہو گا۔" (١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٦٣٧)
پاک دل پاک نفس پاک نظر پاک نہاد نیک خو نیک سیر نیک روش نیک چین (١٨٩٢ء، مہتاب داغ، ٣٨٩)