"یہ سوچا جائے کہ اس معاشرے کو بدل کر اسے قدیم طرز پر لے جانا چاہیے تو یہ ناممکن ہے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٥٧)
فتح و ظفر ادب سے قدم با قدم چلی بدلی ہوا نسیم ریاض ارم چلی (١٨٧٤ء، انیس، (نوراللغات))
مردہ تھی روح قوت حس محو خواب تھی بغض ابوتراب سے مٹی خراب تھی (١٩٣٦ء، مراثی نسیم، ١٢٥)
"ابن بطوطہ جزائر مالدیپ سے لنکا گیا وہاں آٹھ ہزار فٹ اونچے ایک پہاڑ پر قدم شریف کی زیارت کی۔" (١٩٧٥ء، تین مسلمان سیاح، ٢٩)
"میں نے اسے (اسحٰق کو) درشت لہجے میں ڈانٹ دیا۔" (١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٩٢)
نذر کے واسطے کچھ اور مرے پاس نہیں صرف اک درد کا مارا دل شیدائی ہے (١٩٢٧ء، معراج سخن، ٩٩)
"درسی تعلیم کا جو نظریہ پیش کیا گیا ہے وہ استادوں کے عام نقطہ نظر سے بہت مختلف ہے۔" (١٩٣٥ء، اصول تعلیم، ١٠)
"کسی ایک درسی مضمون کے مقابلے میں کسی دوسرے درسی مضمون کے حق میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٢٠٢)
درشت آواز سیں عاشق کے تئیں نفرت ہے ڈرتا رہ خدا کے تئیں برا لگتا ہے جو درویش کو ڈانٹے (١٧٤١ء، شاکر ناجی، دیوان، ٢٣٨)
"یہ دونوں شاعر (انشا اور بحر) اس قصے (سسی پنوں) کی درد انگیزی اور دلچسپی کا اقرار کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔" رجوع کریں: (١٩٣٠ء، سہ ماہی اردو، اکتوبر، ٧١٧)
"سندھ کے ایک صوبائی وزیر بھی، جنہیں پراسرار علوم خصوصاً نجوم اور دست شناسی کا بہت شوق تھا . ان کے (مسٹر بھٹو) قریب آ گئے تھے۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ٤٨)
"اسی لگن . کے طفیل وہ ایک دن دنیا کا عظیم ترین دست شناس بن گیا۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ١١ ستمبر)
"شاہ عالم شہنشاہ دہلی کی آنکھیں نکالے جانے اور . ہمہ قسم کی اذیتیں اٹھانے کے بعد . ١٨٠٣ء تک مرہٹوں کے دست ستم کا آماجگاہ بنا رہے۔" (١٩١٩ء، غدر دہلی کے افسانے، ٩٦:٤)
"کیوں بھائیو! ایسی درخواست پر کوئی تم میں سے دست خط کرنا? نہ کرتا ہرگز نہ کرتا!" (١٨٨٨ء، لکچروں کا مجموعہ، ٣٦:١)
"علوم و فنون کو اغیار کے دست تصرف سے بچانے کے لیے . احساس غیرت اور مستحسن کوشش سے کام لیں۔" (١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٣٧٧)
"ابوطالب کے الفاظ میں صداقت کی ایسی جھلک نظر آئی کہ عبدالمطلب نے یہ امانت انھیں کے سپرد کی۔" (١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٦٣)
"سب درویشوں کے ہاتھ چومنے لگے عورتیں بھی دست بوس ہوئیں۔" (١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٣١٨)
"نمرود و فرعون و ابوجہل و ابولہب - آتش خلیل، طوفانِ نیل قحط مکہ اور انشقاق قمر کے معجزوں کے طالب تھے۔" (١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٤:٣)
"مشتری کے چاندوں کے انکشاف نے علم دریا نوردی اور سائنسی جغرافیہ کی مدد کے لیے فلکی علامتوں کا ایک نیا رستہ فراہم کر دیا۔" (١٩٥٧ء، سائنس سب کے لیے، ١٨٩:١)
امرت بھری آنکھوں میں مدھر آنکھ کی پتلی رادھا ہے کہ گریے پنگھٹ پہ کھڑی ہے (نوبہاراں، اثرلکھنوی، ١٩٣٥ء، ١٠٠)
"آپ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے بھی اکثر آیت مطلق ہی سے کام لیا، مگر ایسا نہیں ہوا۔" (خطوط محمد علی، ١٩١٩ء، ٧٦)
بیٹے کو لوگ کہتے ہیں آنکھوں کا نور ہے ہے زندگی کا لطف تو دل کا سرور ہے (کلیات اکبر الہ آبادی، ١٩٢١ء، ٣١٥:١)
کیا تونگر کیا غنی کیا پیر اور کیا بانکا سب کے دل کو فکر ہے دن رات آٹے دال کا (کلیات نظیر، ١٨٣٠ء، ٢٣:٢)
جیسے اگر تو کسی نے بھی کی کچھ نہ پروا مرے اگر تو کسی نے بھی کی نہ آہ و بکا (روح رواں، ١٩٢٦ء، ٣٢)
"کل اتفاق سے بڑا سا ماموں (سانپ) نکلا اور ان کی زیر پائی کے پاس کنڈلی مار کے بیٹھ رہا بس دیکھتے ہی گھگی بندھ گئی ہزار ہزار باد کرتی ہیں نہ ناد علی یاد آتی ہے نہ آیت الکرسی." (اودھ پنچ، لکھنو، ١٩٢٨ء، ١٣، ٦:١٢)
ہے جہاں صنعت صانع پہ دلیل آیۃ اللہ ہے یہ بے تاویل (مثنوی امید و بیم، ١٨٩٦ء، ٣٠)
"آج کل اس محلہ کی ہوا خراب ہو رہی ہے، اس لیے یہ احتیاط کی ہے کہ آمد و رفت میں کمی ہو۔" (گرداب حیات، راشدالخیری، ١٩١٠ء، ٦٠)
"مچھلی پڈنگ پھر اس پر آئس کریم تر و خشک میوہ کیونکر ہضم ہو سکتا۔" (سجاد حسین، احمق الذین، ١٩١٥ء، ٥٢)
"آئس برگ جہازوں کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں۔" (تلاش کے سفر، ١٩٧٥ء، ٦٣)
خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے کسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٥٥:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
بھیجے تحفہ درود و سلام بہ جناب رسول و آل رسول (کلیات حسرت موہانی، ١٩٢٣ء، ٢٠٠)
نور عین اللہ ہے ارض و سما میں ضوفشاں آنکھ کا تارا زمیں پر ہے فلک پر آفتاب (مجموعہ سلام، نسیم، ١٩٣٣ء، ١٣)
مردم کی بصارت بھی عدم کو ہوئی راہی وہ رات تھی یا آنکھ کے پردوں کی سیاہی (مرثیہ سپہر (رستم علی خاں) ١٩٣٦ء، ٢)
"پیشہ ہی ان جیسے آنکھ کے اندھوں سے دوستی کرنا ہے۔" (پریم چند، واردات، ١٩٣٦ء، ٦)
وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی (مسدس حالی، ١٨٧٩ء، ١٣)
"چاٹم میں ایک دخانی آرا گھر ہے یہاں ایک لال لکڑی کے تختہ کو لارڈ صاحب نے بہت پسند کیا۔" (تواریخ عجیب، ١٨٨٤ء، ١٦٩)
"اپاہج پن و مفت خوری کے نتائج سوا اس کے کیا ہو سکتے تھے کہ طبیعت ہر وقت بدچلنی پر آمادہ رہے۔" (١٩١٧ء، تاریخ اخلاق یورپ، ٢١٩:١)
"جی ہاں آج تو سلامتی سے ابھی تک آرام میں ہیں۔" (طرحدار لونڈی، ١٩١٥ء، ٥)
آئی ہے خاک جادۂ ہستی سے بوے گل کس آرزو بھرے کی تمنا نکل گئی (کلیات فانی، ١٩٤١ء، ٢١٣)