"آزادانہ تجارت کا حامی۔" (انگلش اردو ڈکشنری، ١٩٣٧ء، ٤٤٦)
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی (بانگ درا، ١٩١٢ء، ٢١٤)
حمایل تھا یک تیغ آئینہ تاب اتھا تیغ دسرا بزیر رکاب (خاورنامہ، ١٦٢٩ء، ٤٣٩)
کہیں کس منہ سے اپنا آئینہ بردار رہنے دیں تمنا ہے غلامی میں ہمیں سرکار رہنے دیں (گفتار بیخود، ١٩٠٥ء، ٩)
"شباب کی خوش فعلیوں کے لیے خوبصورت کنیزوں کے آئین مقررہ (سسٹم) نے راستہ صاف کر رکھا تھا۔" (افادات مہدی، ١٩١٦ء، ٢٤٣)
ارل کیتے آئین پیغمبری بندے عقد اس سوں زنا شوہری (خاورنامہ، ١٦٢٩ء، ٣٦٢)
کوئی جھوٹ کی بھی ہے حد نامہ بر ابھی کے ابھی میں گیا آ گیا (١٩٥٤ء، صفی اورنگ آبادی، یادگار صفی، ٤٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
دوست کی ہر بات ہے بیخود کو تو آیت حدیث بات اس کی بزم میں کم بخت کیونکر کاٹتا (در شہوار بیخود، ١٩١٩ء، ٣٣)
"امام رازی نے آیات متشابہات کے ورود (نزول) کے متعلق سب سے قوی وجہ . بیان کی ہے۔" (الکلام، ١٩٠٦ء، ١٠٦:٢)
"جبریل کو آپ کا رفیق بنایا، آیات بینات عطا کیں۔" (علامات قیامت، ١٩١٣ء، ٢٣)
"یہ خوبصورت گھوڑا آگے چل کر اس خاندان کے حق میں آہوئے زرنگار ثابت ہوا۔" (میرے بہترین افسانے، پریم چند، ١٩٣٣ء، ٨٥)
"یہاں دو سڑکیں دوڑتی ہیں، ایک ٹھنڈی سڑک اور ایک آہنی سڑک۔" (غالب کا روزنامچہ، ١٩٢٢ء، ١٩)
داؤد کربلا کی جو صحبت نصیب تھی آہن گداز تھی یہ کرامت نصیب تھی (مرثیہ بدر آلہ آبادی، ١٩٧١ء، ٤)
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں (بال جبریل، ١٩٣٥ء، ٨٩)
اس بہادر کو شب قتل عجب غم میں کشی آہ و زاری میں کشی شیون و نالہ میں کشی (شمیم، ریاض شمیم، ١٩١٢ء، ٨:٧)
فلک کے پار ہوئی اپنی آہ نیم شب ہماری آہ سے صیاد ہو گیا نخچیر (دیوان گویا، ١٨٢٦ء، ١١)
"احسان آڑی مانگ نکالے کف کے بٹن لگا رہا تھا۔" (جوہر قدامت، ١٩١٩ء، ٨٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
آئینہ رخوں کی محفل میں جس وقت عیاں تم ہوتے ہو سب آئینہ ساں رہ جاتے ہیں حیران تمھاری صورت کے (کلیات، نظیر اکبر آبادی، ١٨٣٠ء، ١٦٥)
توں کر دل کوں مرے آئینہ کردار محبت کا جو دیکھوں تس میں دیدار (پھول بن، ١٦٦٥، ٤)
لازم ہے مرض میں تمھیں ہم لے کے نہ جائیں آزار رساں ہوتی ہیں جنگل کی ہوائیں (گلدستہ اطہر، ١٩٦٠ء، ٢٣:٢)
"آلو بخارا گرمی کے درد سر، تپ صفراوی، قے متلی اور پیاس کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔" (کتاب الادویہ، ١٩٢٩ء، ١٤:٢)
"حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کے زمانے میں ہوئی جنھوں نے پورے نوے برس سندھ سے ایشیائے کوچک اور اندلس تک مساجد جامع میں آل فاطمہ کی توہین کی۔" (سیرۃ النبیۖ، ١٩١١ء، ٦٤:١)
"ابھی تک تمھاری روٹیاں نہیں پکیں۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ١٠٢)
"شہزادہ بہت نازک مزاج آگ کا پتلا ہے۔" (فسانہ دل فریب، ١٨٩٠ء، ٣٦)
"اس میں خود لوہے کا آکسائڈ ہوتا ہے جو آکسیجن کو جذب کرتا ہے۔" (مکالمات سائنس، ١٩٤٠ء،٦٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"آپ دونوں آپریشن کے وقت آپریشن تھیٹر سے جتنی دور رہیں اچھا ہے۔" (روزنامہ، جنگ، کراچی، ١٩٦٩ء، ٢١ جنوری، ٣)
"آپا اماں : حبیبہ تو آج ایسی پٹی کہ ہلدی تھپ گئی۔" (لڑکیوں کی انشا، ١٩١٠ء، ٤٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"واپڈا کے ایک ماہر آبیات امریکہ گئے انھیں . آبیات میں اعلٰی ڈگری حاصل کرنا تھی۔" (ماہنامہ، برقاب، لاہور، فروری، ١٩٦٩ء، ٣١)
"کچدھات . دو ایک مثالوں میں آبیدہ پر آکسائیڈ . کی طرح بھی پائی جاتی ہے۔" (اشیائے تعمیر، ١٩٤٨ء، ٢٢٧)
"جسم کا ظاہری وزن جو اس سیال میں ہے وہ آبی وزن کے ٤/٣ مساوی ہے۔" (سکون سیالات، ١٩٢١ء، ١٦٣)
"جل تھلیے یعنی مینڈک . آبی نژاد ہیں۔" (حیوانیات، محشر عابدی، ١٩٤٠ء، ٢٦)
"میرا بڑا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کو آبی مرکبوں . کی ضرورت ہے۔" (کرزن نامہ، ١٩٠٧ء، ١٢٤)
"یہ سبز رنگ کی ترکاریوں میں بکثرت پایا جاتا ہے مثلاً کرم کلہ، کا ہو . آبی سلاد اور لیوسرن گھاس۔" (ہماری غذا، ١٩٤١ء، ١١)
"آبی سان . کا صرف ایک پہیہ ہوتا ہے جس کو پانی کے ایک ٹب میں برقی موٹر کی مدد سے گھمایا جاتا ہے۔" (اصول دھات کاری، ١٩٧٠ء، ١٩١)
"چنانچہ اس مرض کا فارسی نام آبلہ فرنگ . ہے۔" (ماہیت الامراض، ١٩٦٣ء، ٦٣٩:١)