"مانویت کا ایک بنیادی عقیدہ نور اور ظلمت کے دو ابدی اصولوں کا اثبات ہے ہماری دنیا کی ترکیب بھی ان کے امتزاج سے ہوئی، چنانچہ یہی ثنویت پسندی ہے جس کی بنا پر کہا جاتا ہے مانویت کو دراصل مسیحی شکل فردیت سے تعبیر کرنا چاہیے۔" (مقدمہ تاریخ سائنس، ١٩٥٩ء، ١، ٦٩٥:٢)
"اگر دو نکتہ چین ہیں تو ہزار مداح اور ثناگو بھی تو ہیں۔" (حالی، مکاتیب، ١٩١٤ء، ١٨)
"جو دوشیزگی کی حالت میں یہاں آنے کی جسارت کر سکتی تھی اب اک ثمر رسیدہ خاتون میں تبدیل ہو جانے کے بعد اس جگہ کو آسانی سے چھوڑ نہیں سکتی تھی۔" (حسن کی عیاریاں، ١٩٥١ء، ١٤)
"اس کا وعا تخم سے مقابلہ کرنے میں نام نہاد ہرگہ چھلکا ثمر برگ سے معادل (یعنی متجانس) سمجھا جاتا ہے۔" (مبادی نباتیات، ١٩٤٣ء، ٦٤:٢)
"ساحل کے بعض مقامات پر کھریائی اور ثلاثی طبقات کا ایک حاشیہ نظر آتا ہے۔" (خلاصہ طبقات الارض ہند، ١٩٣١ء، ٢)
"جن کی خوشبو بھی ہلکی ہوتی ہے بار خاطر یا ثقل دماغ نہیں ہوتے۔" (شفتالو، ١٩٣٠ء، ٤٥)
حس صفات ثبوتیہ و وجودیہ ہے اہل فکر کے معہود ذہن کا نقشہ (بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ١٩٣٢ء، ٢٧٧)
"کس موقع پر اس کو سڑک کے بازو بازو چلنے دینا اور کب اس کو ٹھہرا لینا ضرور ہو گا۔" (١٩٢٦ء، اورینٹل کالج میگزین، ٤٩:٢:٢)
"مومنین صادقین کو مشکلات کے عالم . میں ان کے ذریعہ سے تسکین دی جاتی ہے اور رسوخ ایمان اور ثبات قدم مرحمت ہوتا ہے۔" (سیرۃ النبی، ١٩٣٥ء، ٥:٣)
"پادریوں نے جابجا اپنے گرجا اور مدرسے بنا رکھے ہیں کالج اور ثانوی مدارس کی کثرت ہے اور مدارس کی عمارتیں عام طور پر اچھی ہیں۔" (جغرافیۂ عالم، ١٩٣٤ء، ١٩٣:١)
"اکثر رنگ کور اشخاص سرخ اور سبز دونوں کی جگہ خاکستری دیکھتے ہیں . ایسے لوگوں کو ثانوی کور یا سبز کور کہا گیا ہے۔" (نفسیات کی بنیادیں، ١٩٦٩ء، ٣٢٧)
"دائرہ کبیر سے مراد وہ دائرہ ہے جس کی سطح مستوی کرہ کے مرکز سے گزرے . ایک دائرہ کبیر اور اس کے ثانوی علی القوائم قطع کرتے ہیں نیز دوائر ثانوی . آپس میں برابر ہوتے ہیں۔" (علم ہیئت، ١٨٩٤ء، ٣)
"تجارتی پیمانے پر ذخیرہ خانے یا جامع خانے یا ثانوی خانے تیار کیے جانے لگے۔" (طبیعیات کی داستان، ١٩٤٥ء، ٤٤١)
"خواب کی اس طرح تبدیلی ہیئت کے پانچ عام طریقے ہیں اختصار، انتقال، ڈرامائیت، علاقیت اور ثانوی تفصیل۔" (نفسیات اور ہماری زندگی، ١٩٦٩ء، ٤٤٦)
"مستقل و غیر متغیر ارتسامات اور ثابت تصورات جو فی الواقع ان کے ہم معنی ہیں۔" (نفسیاتی اصول، ١٩٣١ء، ١١٧)
رُخِ جاناں کا مُیّسر جو نظارا ہوتا مہر تاباں مری قسمت کا ستارا ہوتا (١٨٨٨ء، صنم خانہ عشق، ٤٨)
"پیٹ میں مخصوص جگہ پر سختی کی شکایت بتائی جو استاد کو ٹٹولنے سے قطعاً کہیں محسوس نہ ہوئی۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ١٢٣)
"کائنات اس کے انفرادی رنگ کو گہرا یا مدہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی صورت و شکل میں قطع و برید کی صلاحیت کی بھی حامل ہے۔" (١٩٨٧ء، تنقید و تحقیق، ١٦٢)
"اس کے جن کارناموں کی طرف اس کی موجودگی میں ہم نے توجہ نہیں کی تھی انکی طرف اب توجہ کریں گے گویا قطع نظری کی ایک زنبیل ہمارے پاس تھی۔" (١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١، ٦١:٣)
"ڈیڈی مزید کچھ کہنا چاہ رہے تھے کہ ممی قطع کلامی کرتے ہوئے کہتی ہیں۔" (١٩٨٧ء، فنون لاہور، نومبر، دسمبر، ٤٠٧)
لکھوں گا انہیں حال قطع اُمید یہ عرضی بہت مختصر جائے گی (١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٢٤٨)
"ہر قطرہ نیساں کے گوہر بننے کے امکانات کسی طبقاتی معاشرے ممکن نہیں۔" (١٩٨٥ء، نقد حرف، ٢٢٦)
"جو شے کے چھیڑنے چبھونے دیکھنے میں آوے وہ آناتمان [ان آتمان] ہے اور فانی، اور جو ایسی نہ ہو وہ اتمان [آتمان] ہے اور باقی۔" (١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ٣٨)
راہیں جو ایک بار ترائی کی کھل گئیں بازو کی مچھلیاں بھی سردست تل گئیں (١٩١٧ء، مرثیۂ بزم اکبر آبادی، ١١)
"پرانے ذہنی خاکے میں اگر قطب نمائی نقطے یا دوسرے جغرافیائی تعلقات شامل ہوتے ہیں تو وہ ممد ہوتا ہے۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٢٧)
وہ تن ہراہنہ سی شہزادیوں کی ایک قطار وہ دو رسالت و مبہوت اک قطب مینار (١٩٤٩ء، نبض دوراں، ١٢٦)
"قطب تارے کو مرکزی تارہ بھی کہہ سکتے ہیں۔" (١٩١٥ء، رموز فطرت، ٢٣٥)
"جس سے دور دور تک قطار اندر قطار روشنی نظر آنے لگتی ہے۔" (١٩٨٤ء، ادب، کلچر اور مسائل، ٣٥)
"ایک میری دادی تھی وہ بھی قضائے الٰہی سے کئی برس ہوئے کہ اس عالم فنا سے ملک بقا کو کوچ کر گئی۔" (١٨٠٣ء، گل بکاؤلی، ١١)
"برگساں (Bergson) کے نزدیک نفس انسانی میں ایک قوت ہوتی ہے جس کا نام اُس نے قصہ آفرینی (fabulation) رکھا ہے۔" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ٢٨٧)
"اس روز افزوں انبوہ کو لوگ ان دنوں قزل باش (سرخ سر) کہنے لگے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٤٩:٣٣)
"ہم ان پوشیدہ طریق کار کی تشریح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے مختلف قدرتی عوامل کے درمیان نظام قائم ہے۔" (١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ١٤)
"مرحوم ناصر شکل و صورت قد و قامت اور انداز متکلم کے لحاظ سے ایک متاثر کن شخصیت کے مالک تھے۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٩٦)
شب کو میخانے میں کیوں پہنچے تھے اے حضرت شیخ کہیے اچھی تو کٹی قبلۂ حاجات کی رات (١٩٣٢ء، ریاض رضواں، ١١٣)
جس پر کہ ہو قالبی لطیفہ اظہار طالب او سے جان لے تو باصدق و یقیں (١٨٣٩ء، مکاشفات الاسرار، ١٠٠)
"صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں چھاؤنی قائم کرنے . پر بحث ہوئی۔" (١٩٨٧ء، قائداعظم کے مہ و سال، ١١٤)
"ریاست بھوپال سے قاضی القضاۃ ریاست اور امیر جامعہ کا عہدہ پیش کیا گیا۔" (١٩٨٧ء، سید سلیمان ندوی، ٣٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اب جو صانع کی قادری معلوم ہو گئی تو یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ صانع و قادر عالم بھی ہو کیونکہ اس کے افعال سے حکمت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔" (١٢٠٩ء، امام ابوعبداللہ، جامع العلوم و حدایق الانوار، ٦)
"مرض کی اصل وجہ ڈاکٹروں کے نزدیک کثرت افکار تھی جسے مرزا کی زبان قادر البیان نے کثرت کار بنا دیا۔" (١٩٦٨ء، خاکم بدہن، ٧٣)