"زن مریدی کا تو فیصلہ تمہاری بیگم ہی کے سامنے ہو سکتا ہے کہ ہم دونوں میں سے کون زیادہ سعادت مند شوہر ہے۔" (١٩٨٨ء، چلتا مسافر، ٥١)
"مسلمانوں کا حق حکمرانی آریہ نژاد ہندوؤں کے حق حکمرانی کے مقابلے میں ایک زیادہ پائدار زمینی رشتے کی نشان دہی کرتا تھا۔" (١٩٨١ء، قائداعظم اور آزادی کی تحریک، ٢٠)
"آداب شاہی بجا لایا زمین بوس ہوا۔" (١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٩١:٣)
باغ سخن کو حسن ریاض فلک ملا مجھ کو بغیر جنگ یہ باغ فدک ملا (١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ١٩٣:٧)
"دریائے سندھ اپنی زیریں وادی میں نہایت سست رفتار سے بہتا ہے اور بل کھاتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔" (١٩٦٦ء، پاکستان کا تجارتی و معاشی جغرافیہ، ٣١)
"طالب علم کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے میدانی مشاہدات کسی معین . نخلستان اور اس کی زیریں نبات اور درختوں وغیرہ پر شروع کرے۔" (١٩٤٣ء، مبادیء نباتیات (سعید الدین)، ٧١١:٢)
"یہ ایک حقیقت ہے کہ اصطلاحات زیریں سطح پر آسان ہونی چاہئیں۔" (١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ (ترجمہ)، ٣٢)
"آواز کے زیر و بم اور آنکھوں کے اشاروں سے جادو سا کر جاتے تھے۔" (١٩٢٨ء، آخری شمع، ٨٥)
"خدا کے فضل سے سر کی پوشش سے لے کر زیر پائیوں تک ہر چیز موجود ہے۔" (١٩٧٥ء، اچھے مرزا، ١٠٢)
"لڑتا ہوا دشمن کے منھ میں پہنچا ہی تھا کہ اس کے گھوڑے کا زیر بند ٹوٹ گیا۔" (١٩٣٥ء، عبرت نامہ اندلس، ٩٠٠)
"قابوں میں پلاؤ تھا کسی میں کوکو پلاؤ، کسی میں زیر بریانی، کسی میں قند کے چاول، کندن قلیہ، مرغ پلاؤ شامی کباب، تلی اردیاں۔" (١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٣١٧:٢)
"دل میں اس طرح امیدوں کا نقشہ باندھتے ہوں گے کہ یوں باغ عدن کی سیر کریں گے۔" (١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٠٥:١)
گلہ ہم کیا کریں دنیا میں اپنی زیرباری کا خمیدہ پشت بار کوہ غم سے آسماں تک ہے (١٩٠٧ء، دفتر خیال، ١٣٠)
"یہ زیر آب کا منظر کتنا حسین تھا۔" (١٩٨١ء، سفر نصیب، ٩٤)
"برادمہ کے نیچے چند پرتیں دبیز بافتی . خلیوں کی پائی جاتی ہیں جن کو زیر ادمہ کہتے ہیں۔" (١٩٨٠ء، مبادی نباتیات (معین الدین)، ٥٩٦:٢)
توں اب سنبھال اپنا بول ہوں ندے مجہ ڈانواں ڈول (١٥٠٣ء، نوسرہار (اردو ادب، ٦٦:٢))
میووں سے گرانبار وہ اشجار کے ڈالے بکھرے ہوئے وہ دامن کہسار پہ لالے (١٩٢٦ء، چکبست، صبح و طن، ١٦٤)
سالن کا رنگ زعفرانی باقرخانی کل ارغوانی (١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ٧٣)
"جب ڈائل نکل آوے اس وقت پلیٹ پر ایک ٹین کا چکر سا جڑا ہو گا جس پر ڈائل اور پابہ وغیرہ لگے تھے، اس کو بھی کھول لیوے۔" (رسالہ معین گھڑی سازی، ٣٣)
"مغرب کا ڈاکٹر |ڈائٹنگ| یعنی کفران نعمت خداوندی کے جو نسخے تیار کرتا ہے . اس کی بات مانئے تو گولی کھائیے اور لکیر کی تصویر بن جائیے۔" (١٩٨٣ء، دیگر احوال یہ ہے کہ، ٧٠)
"وہ سب ڈائننگ روم میں کھانا کھانے چلے گئے۔" (١٩٨٧ء، مدو جزر، ٩٣)
"عید کے دن ہم بڑے اہتمام سے ڈائننگ ہال میں ضیافتیں سجاتے۔" (١٩٨٣ء، آتش چنار، ٧٣٧)
"ڈائنو سور رینگنے والے جانور میں سب سے بڑا تھا، ان جانوروں میں سے بڑا تھا، ان جانوروں کو کسی نے نہیں دیکھا، یہ چھ کروڑ سال پہلے زمین سے غائب ہو گئے۔" (١٩٧٥ء، حرف و معنی، ٤٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
"طبائع بسیطہ جن کو عنصری کہا جاتا ہے، چار ہیں۔" (١٩٥٤ء، طب العرب، (ترجمہ)، ١٥٠)
"فاخرہ خود کو ایک طائر نو گرفتار تصور کرنے لگی تھی۔" (١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٢٤٧)
"جیسا کہ عام طبائع انسانی کا خاصہ ہے، ان کو اس بات کے دریافت کرنے کا زیادہ خیال معلوم ہوتا تھا کہ ان کی اخیر بائیو گرافی میں کیا لکھا جا رہا ہے۔" (١٨٩٩ء، حیات جاوید، ١٢:١)
"طب نفسیات کے بارے میں ایک بین الاقوامی مجلسِ مذاکرہ کے اختتام کے موقع پر . کام سے موازنہ کیا۔" (١٩٨٦ء، وفاقی محتسب ادارے کی سالانہ رپورٹ، ٢٦٤)
"آپ میں تو شاید ابھی طالب العلمانہ ترنگ اور بے تکلفی کچھ باقی ہے۔" (١٩١٦ء، خطوط اکبر، ٤٦)
"ابن الوقت مدرسے میں داخل کیا گیا نہ اس غرض سے کہ مدرسے کی طالب العلمی کو ذریعۂ معاش قرار دے بلکہ صرف اس لیے کہ اس کی عربی فارسی ٹکسالی ہو۔" (١٨٨٨ء، ابن الوقت، ٣)
"طب قانونی ایک ایسا موضوع ہے جس کے لیے ایک مخصوص مطالعہ ضروری ہے۔" (١٩٣٧ء، طب قانونی اور سمومیات، (ترجمہ)، ٢:١)
"اس کی فکر عالی کے سامنے طبعِ عالی شرمندہ ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٥٥:٢)
نالہ کرنے کے لیے بھی طبعِ خوش درکار ہے کیا بتاؤں دل ہٹا جاتا ہے کیوں اس کام سے (١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانہ الہام، ٣٧٥)
جوشش سودا کو طبعِ لا اُبالی چاہیے منظر مجنوں کو تصویر خیالی چاہیے (١٩٢١ء، کلیات اکبر، ٦١:٢)
"خدا کو منظور ہے تو کتاب ہذا کے طبع دوم کے وقت میں ان کی نکتہ چینی حاصل کرکے شائع کروں گا۔" (١٩١٩ء، آپ بیتی، ١)
"اکبر . نے . اپنی ہی طبع خدا داد سے استعداد حاصل کی کہ جس کو ارباب حکمت و اصحابِ ریاضت . دیکھ کر دنگ ہوتے تھے۔" (١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ١١:١)
"انسان کی . ضرورتیں اپنے طبعی وجود یا نفسانی وجود کے لیے ہوتی ہیں لیکن اسے راحت، آسائش اور تفریح بھی درکار ہوتی ہے۔" (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٤٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"یہ ایسی تصویر ہے جس کا جواب انسانی حادثاتِ طبعیہ میں نہیں ہو سکتا۔" (١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٣١)
"لیکن قواعدو اصول پر بیش یا کم پورا نہ اترے ایسے خط کو |طبعی خط| بھی کہتے ہیں۔" (١٩٦٣ء، صحیفہ خوشنویساں، ٤٥)