"نگار میں چھپی ہوئی ہر تحریر صیحفۂ آسمانی معلوم ہوتی تھی۔" (١٩٨٦ء، اردو گیت، ١٧)
"بعض مقامات پر اس سطح کو صحرائی فرش کہتے ہیں کیونکہ یہ سطح ویسی ہی سخت اور سنگین ہوتی ہے۔" (١٩٥٤ء، خطے اور ان کے وسائل، ٦٢)
"نازیبا طریقوں کے استعمال سے بھی اجتناب نہیں کیا گیا جن کوئی صحیح الاصول و صحیح المسلک پبلک کام کرنے والا روا نہیں رکھے گا۔" (١٩٢٦ء، مسئلہ حجاز، ٥٩)
جمال گنبدِ خضرا ضیائے صحنِ حرم مرے سفر میں یہ جلوے تھے ہمسفر میرے (١٩٨٤ء، ذکر خیر الانام، ٦٣)
"ڈاکٹر نے معائنے کے بعد لکھا کہ جو ان بالکل صحیح الحواس ہے۔" (١٩٠٧ء، نپولین اعظم (ترجمہ)، ٥٩٧:٣)
"شیدا صاحب درویش صفت انسان تھے نمودو نمائش پسند نہ کرتے تھے، صحیح العقیدہ مسلمان تھے۔" (١٩٨٩ء، جنگ، کراچی، ١٣ جنوری II)
"ان نازیبا طریقوں کے استعمال سے بھی اجتناب نہیں کیا گیا، جن کو کوئی صحیح الاصول و صحیح المسلک پبلک کام کرنے والا روا نہیں رکھے گا۔" (١٩٢٦ء، مسئلہ حجاز، ٥٩)
"صحیح النسل میں شرافت اور خباثت کا بیلنس ہوتا ہے۔" (١٩٨٧ء، حصار، ١٢٣)
ہاں سچ نہیں حکایتِ حال زبون دروغ ہاں شکوہ و شکایت صبرو سکون دروغ (١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٢٨٧)
"شمع کا فوری جھلملا جھلملا کر صحبت شب کو الوداع کر چکی تھی۔" (١٩١٢ء، شہید مغرب، ١٨)
"اودھ میں عوام کی غذا بہت سادہ اور صحت آور تھی۔" (١٩٧٥ء، لکھنؤ کی تہذیبی میراث، ١٩١)
"اکثر حکایتیں بر سبیل تمثیل لکھی ہیں جو تربیت اخلاق کے لیے نہایت دل چسپ اور زود اثر ہیں۔" (١٩٧٢ء، مقالات اختر، ١٠٢)
"ان کے ٥ ہزار اشعار صرف ٩ سالہ مشق سخن کا نتیجہ ہیں جس سے ان کی قادر الکلامی اور زود گوئی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔" (١٩٨٤ء، سراج اورنگ آبادی (شخصیت اور فکر و فن)، ٢٩)
"اردو لغت بورڈ کی اردو لغت جو زیر تکمیل و اشاعت ہے مکمل ہونے کے بعد جامعیت میں اس کی حریف ہو سکتی ہے۔" (١٩٨٥ء، کتب لغت کا تحقیقی و لسانی جائزہ، ١٤:٢)
"اپنے پاؤں چلنا سیکھنے دیجیے اور اپنے زیر جامے کا دھیان بھی اسے خود ہی کرنے دیجیے۔" (١٩٨٦ء، فکشن فن اور فلسفہ، ٧٣)
"اگرچہ یہود کو کامل امن و امان دیا گیا اور ان کے ساتھ ہر طرح کی مراعات کی گئی تاہم ان کا طرز عمل مفسدانہ اور باغیانہ رہا۔" (١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤٥٢:١)
"سر پر ایک رومال جسے زبون کہتے ہیں اور اس کے اوپر اونٹ کے بال بطور رسی کے لپٹے ہوئے جس کو اگال (عقال) کہتے ہیں۔" (١٩١٢ء، سفرنامہ بغداد، ١٤٠)
جن خنجر پرم کا مارے گلین جمیانے یاراں سچیں کہو تم وہ زخم زن کہاں ہے (١٥٦٤ء، حسن شوقی، دیوان، ١٧١)
بھوک کی بے چادری، عصمت کی عریانی بھی دیکھ اس بھرے بازار میں زخموں کی ارزانی بھی دیکھ (١٩٤٩ء، نبض دوراں، ١٤١)
ہر زمانہ بیچتا آیا ہے زخموں کی خراش آج اک حیدر کی میت ! کل کسی ٹیپو کی لاش! (١٩٤٦ء، نبض دوراں، ١٨٥)
"باغی بیر جو آج پانچ چھ آنے سیر آتے ہیں ہم نے سدا پیسے سیر کھائے۔" (١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٣٤)
"ایک کتاب |گلستاں| تصنیف کرنا چاہتا ہوں جو خزاں کی دست برد اور زمانہ زد و خورد سے محفوظ رہے۔" (١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١٨)
"غرض کسی طرح میں نے درد دل کی دوا نہ پائی زخم باطن کا مرہم نہ دیکھا۔" (١٨٠٢ء، خرد افروز، ١٧)
ہے سیم برژرف تخیل شب مہ میں یہ سیمبری کس کے لیے? میرے لیے ہے (١٩٢١ء، فردوس تخیل، ١٨٤)
"ولیدہ بیانیوں اور کج بحثیوں کی عمریں تمام ہو گئیں۔" (١٩٨٦ء، فاران، کراچی، جولائی، ١٣)
"رنگوں کی صحیح ترتیب و ترکیب کے بغیر کا میاب تصویر بنانے کا مدعی ہوا ہے اور اگر ایسا کوئی ہے تو وہ یقیناً ژولیدگیء تصور کا مریض ہے۔" (١٩٨٦ء، نیاز فتخ پوری شخصیت اور فکرو فن، ٢١٦)
وطن کے بام و دران کو سلام کہتے ہیں وہ ژندہ رود، وہ چابک سوار وقت رواں (١٩٧٥ء، خروش خم، ٢٥)
خدمت ہے ژند بافی گلشن طیور کی ازبر ہیں عندلیب کو سطریں زبور کی (١٩٣٣ء، صوت تغزل، ١٩٦)
مے فروشی کو تو روکوں گا میں باغی ہی سہی سرخ پانی سے ہے بہتر مجھے کالا پانی (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٥٥:٤)
کہتی ہے شاخ نارون ہے وقت دور سانگیں اے ژند باقان چمن ہاں کوئی صورت دلنشیں (١٩١٦ء، نظم طباطبائی، ١٦)
"غالب سے کہیں زیادہ مومن ژولیدہ گفتار ہے۔" (١٩٣٨ء، ملفوظات اقبال، ٢٢٥)
"ایک ماہر فن عروض، ایک ژرف نگاہ نقاد اب تک کیسے ان کی آنکھوں سے پوشیدہ رہا۔" (١٩٨٢ء، برش قلم، ٧٦)
"آپ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ میری ہجرت کی سرزمین چھوہاروں کا باغستان ہے۔" (١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٣٣٧:٣)
"لاہور کے ایک قصبے کے زنانہ اسکول میں استانی کی جگہ مل گئی۔" (١٩٤٠ء، زندگی نقاب چہرے، ١٤٥)
واقف تھی پری کے دیس سے وہ لے پہونچی زنانے بھیس سے وہ (١٨٣٨ء، گلزار نسیم، ٤٥)
[" وہ دربار ان کا ہے باغ و بہار کہ محبوب ہیں جس کے نقش و نگار (١٩٧٣ء، اورینٹل کالج میگزین، ٢٢:١٩٢:٤٩)"," لطف سے تیرے معمورۂ عالم میں خوشی خلق سے تیرے ہے عشاق کا دل باغ و بہار (١٨٨٦ء، دیوان سخن، ٢٥)","\"ایک تو حکیم صاحب ویسے ہی - باغ و بہار آدمی تھے ادھر مہاراج ملے قدردان۔\" (١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٧)"]
"کسی نے کسی کو تھپڑ رسید کیا۔ زناٹے دار تھپڑ کہ آس پاس کے سارے لوگ چونک پڑے۔" (١٩٨٠ء، تجلی، ٨٢)
"ویش کو چاہیے کہ زنار بندی اور اپنی ذات میں شادی کرنے کے بعد کاروبار میں مصروف ہو جائے۔" (١٩١٣ء، تمدن ہند، ٢١٧)
"اسی سبب اچھوتوں اور زنار پوشوں کی اجناس کے علیحدہ علیحدہ بھاؤ تھے۔" (١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٢٦٤)
"خاص ہندوستان کی خاک میں زن و شوہر کی باہمی محبت کا امتیازی خاصہ ہے۔" (١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤، ٥٣١)