"دینی احکام کے عقلی توجیہ علم الکلام کا موضوع ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٥)
"اسلامی شریعت کے دو عام حصے یہ ہیں علم الکلام اور علم الفقہ۔" (١٩٢٨ء، حیرت دہلوی، حیات طیبہ، ٢١٥)
"وہ ایک وقت میں علم الشعر کو بیان کرسکتی ہے، اور دوسرے وقت میں وہی زبان فلسفے کی زبان بھی بن سکتی ہے۔" (١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٢٢)
"ہم علم الرویا کا کوئی تفصیلی مرقع پیش نہیں کریں گے۔" (١٩٥٧ء، مقدمہ تاریخ سائنس (ترجمہ)، سید نذیر نیازی، ١٨٣)
"علم الرجال طلبہ کے لیے یوں بھی بیکار ہے کیونکہ انہیں خود اپنی رائے قائم کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔" (١٩٦٣ء، نیاز فتح پوری، شخصیت اور فکر و فن، ١٠٤)
"مسلمان مجبور ہیں کہ اس موت کو برضا و رغبت یا بجبر و اکراہ قبول کریں۔" (١٩٢٠ء، مضامین شرر، ١، ١٦٦:٣)
"ماہرین علم الحیوان نے ایل کے . حالات لکھے ہیں۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٧٤٧:٣)
"قراۃ العین کو علم الانساب سے گہری دلچسپی ہے۔" (١٩٨٩ء، افکار، کراچی، جولائی، ٣٠)
"اقبال نے خیام کو علم نجوم اور علم الافلاک کے تلازمات میں جاتا ہے۔" (١٩٨٧ء، اقبال عہد آفرین، ١٨١)
"لسانیات کے شعبہ علم الاصوات (صوتیات) میں بسیط آوازوں سے بڑی جامع، عمیق اور عام طور سے تین طرف سے بحث ہوتی ہے۔" (١٩٨٨ء، نگار، کراچی (سالنامہ)، ١٥٩)
"نفسیاتی تاویلات سے آگے بڑھ کر علم الاساطیر تک جا پہنچا۔" (١٩٧٣ء، ممتاز شریں، منٹو نوری نہ ناری، ١٧)
عل ادیان سے پہلے اسے کیجیے آگاہ کہ مسلمانوں پہ واجب ہے یہ بلکہ اوجب (١٩٢٨ء، مرقع لیلٰی، مجنوں، ٢٩)
"علم اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔" (١٩١١ء، تفسیر القرآن الحکیم، احمد رضا خان بریلوی، ١١)
"علم الارض سائنس کی وہ شاخ ہے جس میں زمین پر اور زیر زمین پائی جانے والی اشیا . کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔" (١٩٨٥ء، جنرل سائنس، ٥)
"علمِ توحید و صفات اور علم احکام بھی باہم ایسے مربوط ہیں کہ ایک دوسرے کے لیے علت اور علامت ہے۔" (١٩٣٢ء، تفسیر القرآن الحکیم، مولانا شبیر احمد عثمانی، ٧٠)
"شاہی علم کے محافظ کو علم دار بھی کہتے ہیں۔" (١٩٦٠ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کا فوجی نظام، ١٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"غزل علامتی زبان میں لکھی جاتی ہے۔" (١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، ٥٥)
"اکثر علامتی افسانے . ابلاغ میں ناکام ہو جاتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، کشاف و تنقیدی اصطلاحات، ١٢٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس طرح علامت نگاروں میں بھی ایک ایسا حلقہ پیدا ہو گیا جس نے . علامتوں سے مستقبل آفرینی کا کام لینا شروع کیا۔" (١٩٨٦ء، پاکستانی معاشرہ اور ادب، ١٠٩)
"یہ خیال رہے کہ یہاں "پر" اور "سے" علامت مفعول ہیں۔" (١٩١٤ء، اردو قواعد، عبدالحق، ٢١١)
"نے . یہ علامت فاعل کے ساتھ ہر جگہ ہی آتی ہے۔" (١٩١٤ء، اردو قواعد، عبدالحق، ٢٠٨)
"آج جدید افسانے میں علامت پسندی ایک باقاعدہ رجحان کی صورت اختیار کر چکی ہے۔" (١٩٨٢ء، نفسیاتی تنقید، ٢٥٠)
"یہاں بھی پالکی کے بعد علامت اضافت یعنی (کے) مقدر ہے۔" (١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ١٧٧:١)
"علاوہ بریں ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ موسیقار کی تخلیقی صلاحیتیں مرجھا کر رہ جاتی ہیں۔" (١٩٧٤ء، تاریخ اور کائنات، ٥٧٢)
"علاوہ ازیں نئی نئی اصناف کے ساتھ ذہن کا تعارف ہوتا ہے۔" (١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٢٣)
"علاقائی انتظامیہ اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ اس جگہ کے باشندوں کے دلوں تک پہنچ سکے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ٣٣)
"میرا وزن بھی گھٹ گیا تھا، میرا علاج معالجہ جاری تھا اور مجھے آرام کی صلاح دی جا رہی تھی۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٩٠)
"یہ طریق علاج بالمثل یا بالجنس ہے۔" (١٩٣١ء، فلسفۂ علاج بالمثل، ٤٥)
"پاپولر فرنٹ، اپنے بے پناہ اداروں میں دراصل عالم عرب کی عکس نما ہے اور ہم اسے بنانا بھی اسی طرح چاہتے ہیں۔" (١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١٨٦)
"وہ تجربے کی عکس بینی (متواتر متغیر ہونے والی نوعیت کی تصویر کشی) واقعی الفاظ و افکار میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٢٤٨)
"کیمرے اور اضافی آلات بھی ایک دوسرے سے بہت اختلاف رکھتے ہیں لیکن جہاں بھی حساس فلم پر عکس بندی کا سوال آتا ہے بنیادی اصول بالکل ایک ہی ہیں۔" (١٩٧٨ء، آفسٹ لیتھو گرافی، ١٠٤)
"مولانا ابراہیم، یہ شخص عقیق نگاری میں اپنے بھائی شرف یزدی کا شاگرد ہے۔" (١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)،١، ٨٩:١)
"فیاضانہ فعل و تاثیر کے لیے نہ ذاتی دوام یا وصفی دوام کی حاجت ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفارِ اربعہ، ١، ١٠٧٤:٢)
"گو وہ خاندانی حکماء سے تعلق رکھتے ہیں مگر شاعری حضرت آفتاب کا ذاتی جوہر ہے۔" (١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٤١٢:٥)
"سب جمع خرچ محض ذاتی رائے سے ہو رہا ہے۔" (١٩٤٣ء، حیاتِ شبلی، ٦٤٠)
"جو بتدریج مبحث سے دور ہو کر ذاتیات میں اُلجھی چلی جائیں گی۔" (١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٧)
"یہ اختیار حاصل ہو کہ وفاقی (قومی) زبان بھی ذریعۂ تعلیم کے طور پر استعمال ہو سکتی ہو۔" (١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ١٧)
"وہ مشغلہ جو پہلے انکی تفریح کا باعث تھا ان کا ذریعہ معاش بن گیا۔" (١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٩١)