سنگین[1]"الچاق بل جو سنگین بنیادوں پر لکڑی سے بنایا گیا ہے غالباً قدیم ترین ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢١٧:٣)
سنگین[2] سلاخوں کے پیچھے سنگینوں کی جھنکار پہ چھا جاتے ہیں (١٩٨٤ء، طوق و دار کا موسم، ٢٤)
سوء ادب"جب انسان کے سامنے نظر اٹھا کر دیکھنا سوءِ ادبی ہو جائے۔" (١٩٧٢ء، سیرتِ سرور عالم، ٢٥٩:١)
سو[2]"بڑی تبدیلی کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر سوءِ مزاجی اور نااتفاقی اور انواع و اقسام کے جھگڑے برپا ہونے لگتے ہیں۔" (١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠٢)
سو[1] ہر سُو ہے اک ملال کی دنیا بسی ہوئی روئے خیال آہ کدھر ہو کدھر نہ ہو (١٩٤٠ء، بیخود موہانی، کلیات، ٥١)
بخیر و عافیت"ہم لوگ یہاں بخیر و عافیت اور آپ کی خیر و عافیت خداوند کریم سے نیک مطلوب ہیں۔" (١٩٢٩ء، تسہیل القواعد، ضمیمہ، ٢٧)
سنیارٹی"سینیر سے کئی مرکبات اور اصطلاحیں جیسے سنیارٹی سینیر گریڈ، سینیر افسر، سینیر طالب علم اردو تحریر اور تقریر میں عام ہیں۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٦٠)
سنہری مستقبل"باپ کے انتقال کے بعد سنہری مستقبل سے وابستہ امیدیں ٹوٹ گئیں۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٥ اگست، ٨)
سنہری لفظ"سنہری لفظوں کے پیرہن میں چھپی ہوئی نفرتیں ملیں گی۔" (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٦٣)
داؤکوئی مطلب موجود نہیں
بسہولت"بسہولت و آسانی ہر ایک امر طے ہو۔" (١٩١٢ء، تفریح الاحرار، ٢٣٧)
دوران میں"نو بلوغ آٹھ یا دس سال کا عرصہ ہوتا ہے جس کے دوران میں انسانی فرد بچپن سے سن بلوغت تک نشوونما پاتا ہے۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٩١)
دوران حیات کرتا ہوں کچھ ایسی سعی امکان حیات گویا بس میں ہے میرے دوران حیات (١٩٢٦ء، روح رواں، ١٣٥)
بسر و چشم"جو آپ فرمائیں گے بسر و چشم قبول کروں گی۔" (١٩٠٤ء، آفتاب شجاعت، ١١١٩:٣)
دوئی پسند باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
بزیر کیوں مال و زر کی حرص میں خود کو کرو ہلاک یہ زر نہ کام آئے گا کچھ بھی بزیر خاگ (١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ٩)
دہشت گردی"ہمیں کیا لینا ہے اس دہشت گردی سے میاں جی . جن کا سر پہلے ہی جھکا ہوا ہے انہیں دبانے سے کیا مل جائے گا۔" (١٩٨٠ء، وارث، ٤٠٠)
دہشت گرد"متعدد دہشت گرد گرفتار بم برآمد کر لیے۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٢ اکتوبر، ٢:١)
دہشت پسندانہ"او اے ایس (OAS) کے دہشت پسندانہ اقدامات جاری رہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٩٤:٣)
دہشت پسند"مگر ساتھ ہی اس نے فتح کو دہشت پسند گروپ کہا۔" (١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١١٣)
علیحدہ["\"اور وہ حیوانات جن کے جسمانی اعضا میں کوئی تفریق نہیں پائی جاتی اور صرف ایک خلوی جسامت کے حامل ہوتے ہیں علیحدہ عائلہ میں رکھے گئے ہیں۔\" (١٩٦٧ء، بنیادی فرد حیاتیات، ٢٤٣)"]
علی علی"دفعہ دین دین اور علی علی کا غل سن پڑا اور ایک منٹ بھی نہیں گزرنے پایا تھا کہ شہر کی بازاری خلقت بنگلے میں ٹوٹ پڑی۔" (١٨٨٨ء، ابن الوقت، ١٢١)
بزعم خود"حقیقت میں نواب صاحب بزعم خود کسی کے صلاح و مشورے کے محتاج بھی نہ تھے۔" (١٩١٢ء، یاسمین، ٥٢)
علم ہیئت"مولوی فیض اللہ بنارسی علمِ ہئیت خوب جانتے ہیں۔" (١٨٧٤ء، مجالس النسا، ١٢٤:١)
علم ہندسہ"علم ہندسہ سے ہندی اصل کی طرف اشارہ ملتا ہے۔" (١٩٨٦ء، ہند سے اور ان کی تاریخ، ١٢)
علم نحو"علمائے علوم لسان و انشاء ادب یا آداب کی ذیل میں ان علموں کو شمار کرتے ہیں، علمِ لغت . علم نحو، علم معانی، علمِ عروض۔" (١٩١٩ء، منشورات کیفی، ٩٨)
علم معانی"شہزادہ چند سال میں علم معانی، منطق، بیان . پھیکتی اور تفنگ اندازی میں ماہر ہو جاتا ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٨٦٢:٢)
علم قرات"علم قرات میں الف حروف مجہورہ میں سے ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٢٣:٣)
علم فلکیات"فلکی اجسام سورج چاند اور دیگر ستاروں اور سیاروں کے علم کو علم فلکیات کہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، جنرل سائنس، ٦)
رچاؤکوئی مطلب موجود نہیں
بروے کار[" یا یہ فطرت حسن کی ہے جو بروے کار ہے جلوہ افروزی بشوق گرمئی بازار ہے (١٩٣٢ء، نقوش مانی، ٤١)"]
علم صحت الابدان"علم صحت الابدان، جس سے تندرست رہنا سیکھتے ہیں۔" (١٩٥٩ء، برنی (سید حسن)، مقالات، ٥٥)
علم رسم الخط"علمائے لسان و انشاء ادب یا آداب کے ذیل میں ان علموں کو شمار کرتے ہیں، علم لغت . علم قافیہ، رسم الخط۔" (١٩٣٤ء، منشورات کیفی، ٩٨)
ذاتی صفات"اور نہ اس کے ان ذاتی صفات کی طرف نقائص کا انتساب ہوتا ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ١، ١٦١٧:٢)
علم تجوید"علم ادب کی ایک شاخ ہے جو بالتخصیص قرآن مجید کی عبارت سے علاقہ رکھتی ہے اور جس کا نام علم تجوید ہے۔" (١٨٧٠ء، خطبات احمدیہ، ٤٣٩)
علم بدیع"امیر خسرو نے . اس کتاب میں علم بدیع پر سب زور طبع صرف کیا ہے۔" (١٩٧١ء، عابد علی عابد، البدیع، ٧٣)
بروے خلافت کے در پر گیا وہ فقیر غنی جلوہ گر تھے بروے حصیر (١٩١٨ء، شان خلفا، ٤٣)
علم الہیات"قوانین کی ہر شاخ مع اصول و فروغ کے علم الہیات کا بھی عالمِ اجل اور فاضلِ اکمل ہونا چاہیے۔" (١٨٩٢ء، خدائی فوجدار، ٥٧:٢)
علم الہجا"زبان کی بیسوا آوازوں سے گرامر میں بحث کی جاتی ہے اسے علم الہجا کہتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، نگار (سالنامہ)، کراچی، ١٥٨)
علم اللغت"قدیم زمانے میں لسانیات کو گرامر (حرف و نحو) یا علم اللغات یعنی علم اللسان کہا جاتا تھا۔" (١٩٨٨ء، نگار (سالنامہ)، کراچی، ١٥٨)