"الچاق بل جو سنگین بنیادوں پر لکڑی سے بنایا گیا ہے غالباً قدیم ترین ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢١٧:٣)
سلاخوں کے پیچھے سنگینوں کی جھنکار پہ چھا جاتے ہیں (١٩٨٤ء، طوق و دار کا موسم، ٢٤)
"جب انسان کے سامنے نظر اٹھا کر دیکھنا سوءِ ادبی ہو جائے۔" (١٩٧٢ء، سیرتِ سرور عالم، ٢٥٩:١)
"بڑی تبدیلی کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر سوءِ مزاجی اور نااتفاقی اور انواع و اقسام کے جھگڑے برپا ہونے لگتے ہیں۔" (١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠٢)
ہر سُو ہے اک ملال کی دنیا بسی ہوئی روئے خیال آہ کدھر ہو کدھر نہ ہو (١٩٤٠ء، بیخود موہانی، کلیات، ٥١)
"ہم لوگ یہاں بخیر و عافیت اور آپ کی خیر و عافیت خداوند کریم سے نیک مطلوب ہیں۔" (١٩٢٩ء، تسہیل القواعد، ضمیمہ، ٢٧)
"سینیر سے کئی مرکبات اور اصطلاحیں جیسے سنیارٹی سینیر گریڈ، سینیر افسر، سینیر طالب علم اردو تحریر اور تقریر میں عام ہیں۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٦٠)
"باپ کے انتقال کے بعد سنہری مستقبل سے وابستہ امیدیں ٹوٹ گئیں۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٥ اگست، ٨)
"سنہری لفظوں کے پیرہن میں چھپی ہوئی نفرتیں ملیں گی۔" (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٦٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"بسہولت و آسانی ہر ایک امر طے ہو۔" (١٩١٢ء، تفریح الاحرار، ٢٣٧)
"نو بلوغ آٹھ یا دس سال کا عرصہ ہوتا ہے جس کے دوران میں انسانی فرد بچپن سے سن بلوغت تک نشوونما پاتا ہے۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٩١)
کرتا ہوں کچھ ایسی سعی امکان حیات گویا بس میں ہے میرے دوران حیات (١٩٢٦ء، روح رواں، ١٣٥)
"جو آپ فرمائیں گے بسر و چشم قبول کروں گی۔" (١٩٠٤ء، آفتاب شجاعت، ١١١٩:٣)
باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
کیوں مال و زر کی حرص میں خود کو کرو ہلاک یہ زر نہ کام آئے گا کچھ بھی بزیر خاگ (١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ٩)
"ہمیں کیا لینا ہے اس دہشت گردی سے میاں جی . جن کا سر پہلے ہی جھکا ہوا ہے انہیں دبانے سے کیا مل جائے گا۔" (١٩٨٠ء، وارث، ٤٠٠)
"متعدد دہشت گرد گرفتار بم برآمد کر لیے۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٢ اکتوبر، ٢:١)
"او اے ایس (OAS) کے دہشت پسندانہ اقدامات جاری رہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٩٤:٣)
"مگر ساتھ ہی اس نے فتح کو دہشت پسند گروپ کہا۔" (١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١١٣)
["\"اور وہ حیوانات جن کے جسمانی اعضا میں کوئی تفریق نہیں پائی جاتی اور صرف ایک خلوی جسامت کے حامل ہوتے ہیں علیحدہ عائلہ میں رکھے گئے ہیں۔\" (١٩٦٧ء، بنیادی فرد حیاتیات، ٢٤٣)"]
"دفعہ دین دین اور علی علی کا غل سن پڑا اور ایک منٹ بھی نہیں گزرنے پایا تھا کہ شہر کی بازاری خلقت بنگلے میں ٹوٹ پڑی۔" (١٨٨٨ء، ابن الوقت، ١٢١)
"حقیقت میں نواب صاحب بزعم خود کسی کے صلاح و مشورے کے محتاج بھی نہ تھے۔" (١٩١٢ء، یاسمین، ٥٢)
"مولوی فیض اللہ بنارسی علمِ ہئیت خوب جانتے ہیں۔" (١٨٧٤ء، مجالس النسا، ١٢٤:١)
"علم ہندسہ سے ہندی اصل کی طرف اشارہ ملتا ہے۔" (١٩٨٦ء، ہند سے اور ان کی تاریخ، ١٢)
"علمائے علوم لسان و انشاء ادب یا آداب کی ذیل میں ان علموں کو شمار کرتے ہیں، علمِ لغت . علم نحو، علم معانی، علمِ عروض۔" (١٩١٩ء، منشورات کیفی، ٩٨)
"شہزادہ چند سال میں علم معانی، منطق، بیان . پھیکتی اور تفنگ اندازی میں ماہر ہو جاتا ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٨٦٢:٢)
"علم قرات میں الف حروف مجہورہ میں سے ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٢٣:٣)
"فلکی اجسام سورج چاند اور دیگر ستاروں اور سیاروں کے علم کو علم فلکیات کہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، جنرل سائنس، ٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
[" یا یہ فطرت حسن کی ہے جو بروے کار ہے جلوہ افروزی بشوق گرمئی بازار ہے (١٩٣٢ء، نقوش مانی، ٤١)"]
"علم صحت الابدان، جس سے تندرست رہنا سیکھتے ہیں۔" (١٩٥٩ء، برنی (سید حسن)، مقالات، ٥٥)
"علمائے لسان و انشاء ادب یا آداب کے ذیل میں ان علموں کو شمار کرتے ہیں، علم لغت . علم قافیہ، رسم الخط۔" (١٩٣٤ء، منشورات کیفی، ٩٨)
"اور نہ اس کے ان ذاتی صفات کی طرف نقائص کا انتساب ہوتا ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ١، ١٦١٧:٢)
"علم ادب کی ایک شاخ ہے جو بالتخصیص قرآن مجید کی عبارت سے علاقہ رکھتی ہے اور جس کا نام علم تجوید ہے۔" (١٨٧٠ء، خطبات احمدیہ، ٤٣٩)
"امیر خسرو نے . اس کتاب میں علم بدیع پر سب زور طبع صرف کیا ہے۔" (١٩٧١ء، عابد علی عابد، البدیع، ٧٣)
خلافت کے در پر گیا وہ فقیر غنی جلوہ گر تھے بروے حصیر (١٩١٨ء، شان خلفا، ٤٣)
"قوانین کی ہر شاخ مع اصول و فروغ کے علم الہیات کا بھی عالمِ اجل اور فاضلِ اکمل ہونا چاہیے۔" (١٨٩٢ء، خدائی فوجدار، ٥٧:٢)
"زبان کی بیسوا آوازوں سے گرامر میں بحث کی جاتی ہے اسے علم الہجا کہتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، نگار (سالنامہ)، کراچی، ١٥٨)
"قدیم زمانے میں لسانیات کو گرامر (حرف و نحو) یا علم اللغات یعنی علم اللسان کہا جاتا تھا۔" (١٩٨٨ء، نگار (سالنامہ)، کراچی، ١٥٨)