"جملہ سرکاری محکموں کے سربراہان کیفیت نویسی کا کام اردو میں کریں تاکہ ماتحت عملہ انکی پیروی کرتے ہوئے اردو ذریعۂ اظہار بنائے۔" (١٩٨٥ء، مجلس زبان دفتری پنجاب، ١٠)
"نتیجہ یہ نکلا کہ میں جریان، احتلام اور ذکاوت حس اور دوسری جنسی کمزوریوں میں مبتلا ہو گیا۔" (١٩٧٥ء، مطاہرِ نفس، ٦٣:١)
"بہر صورت اکثر گھر میں یہ ذکر اذکار رہتے اماں ابا آپس میں مشاورۃ کرتے۔" (١٩٥٨ء، شمع خرابات، ٢٥٨)
"قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکرِ بالجہر کو بھی اور ذکر بالاخفاء کو بھی۔" (١٩١١ء، القرآن العظیم تفسیر مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٣٨)
اے دہن تیرے لیے حرفِ دعا ہے بہتر اے زباں تیرے لیے ذکرِ حبیب اچھا ہے (١٨٧٨ء، گلزارِ داغ، ٢٦٥)
"ذکر قلبی اللہ تعالٰے کی نعمتوں کا یاد کرنا، اسکی عظمت و کبریائی اور اسکے دلائل قدرت میں غور کرنا، علما کا استنباط مسائل میں غور کرنا بھی اس میں داخل ہے۔" (١٩١١ء، القرآن العظیم، تفسیر مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٣٨)
مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے پُختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے (١٩٣٦ء، ارمغانِ حجاز، ٢٢٨)
"شکاری کے حواس خمسہ یوں بھی ذکی الحس ہوتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ٨٩)
"باغیوں اور دیہاتیوں نے مل کر انہیں ذلیل و خوار کیا۔" (١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ٩٢)
"وزیر خارجہ نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ جینیوا اس مذاکرات میں زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٧ / مارچ، ١)
"ذقندیں لگا کر زمانۂ گذشتہ کی غلطیوں کو پکڑ کر گورنمنٹ اپنی قومی نیک نامی کے دھبہ کو مٹا رہی ہے۔" (١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٨٠)
" "الم" اور "اقل" کے لفظ خود عربی کے ہیں اور اردو میں مستعمل ہیں مثلاً "رنج و الم" اور ذواضعاف اقل ہیں۔" (١٩٧٦ء، ہندی اردو تنازع، ٣٥٨)
زمین بولی کہ اے ذوالجلالِ والاِکرام خطا معاف غلط ہے ترے جہاں کا نظام (١٩٥٢ء، نبضِ دوراں، ٢٣٩)
"منافقوں ہی کا ایک گروہ تھا جس نے . باغیوں کی ایک بڑی جماعت مصر، کوفہ اور بصرہ سے جمع کر کے سیدنا عثمانؓ ذوالنورین کے خلاف بغاوت کی۔" (١٩٨٧ء، فاران، کراچی، دسمبر، ٤٩)
"میر کی جنسی شاعری کی اساس ذوجنسیت پر استوار ہے۔" (١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٧٧)
"آپ کی وہ غزل جو ذُو ردیفین میں ہے اس کی کیا تعریف ہو اس قید و بند کے ساتھ کیا کیا شعر نکالے ہیں۔" (١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٤٢٧:٥)
صنعت ذو قافیتین میں ایک غزل پیش ہے۔ قتل میں میرے مری مشکل کی آسانی تو ہے لیکن اس میں پھر مرے قاتل کی حیرانی تو ہے (١٩٧٣ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٤٢)
"اس میں کسی وقت ذومعنویت کی جھلک پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ دماغ کا یہی جی چاہتا تھا کہ بات زہر دے کر قتل کر دینے والی رہے۔" (١٩٨٦ء، آئینہ، ٢٤٤)
"اس مسجد کا نام مسجد القبلتین اور ذوقبلتین ہو گیا یعنی ذو قبلہ والی۔" (١٩٣٢ء، القرآن الحکیم، تفسیر شبیر احمد عثمانی، ٣٨)
"میں نے جو بعض جگہ عربی کے جملے یا فارسی کی عبارتیں درج کر دی ہیں وہ صرف ارباب علم و فن کی لطف اندوزی اور وسعتِ معلومات کی ذوق آمیزی کے خیال ہے۔" (١٩٣٩ء، میزانِ سخن، ٤١)
اُمید نہیں ان سے ملاقات کی ہر چند آنکھوں سے مگر ذوقِ تماشا نہیں جاتا (١٨٠٩ء، جرات (مہذب اللغات)۔)
"نستعلیق کتابت فنونِ لطیفہ میں مسلمانوں کی اولیت کا شعبہ ہے۔ اس میں مسلمانوں کے ذوقِ جمال کا اظہار ہوا ہے۔" (١٩٨٧ء، اُردُو، جنوری، مارچ، ١١٦)
اے ملتِ اسلام ترے ذوقِ سخن سے فردوسِ نظر عالم معنی کا ہے گلزار (١٩٣٤ء، محروم (آنکھیں ترستیاں ہیں، ٢٠٤)۔)
"نشریاتی جنگ میں کوئی بات ذوقِ سلیم کے خلاف ریڈیو کی لہروں پر نہیں جائے گی۔" (١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٥٢)
"تازہ کاری کے شگوفے کچھ یوں کھلے ہیں کہ ذوقِ لطیف، شاخِ گل کی طرح لہریں لینے لگتا ہے۔" (١٩٨٣ء، حصارِ اَنا، ٢١)
گُل میں گر ذوقِ نمو پردہ برانداز نہ ہو گل نگاہوں کو نہ للچائے کبھی (١٩٤١ء، صبحِ بہار، ٦٠)
"اُنکا ذوقِ نظر شے کی حقیقت کو پرکھنا جانتا تھا۔" (١٩٨٣ء، حصارِ اَنا، ٢٠)
"کشتی دخانی اور ہوائی جہاز بھی انگریزی سے ترجمہ کیا گیا ہے۔" (١٩٢٣ء، سرگزشت، ٢٠٣)
"موجودہ زمانے میں بھی وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتئی نوح کی تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں۔" (١٩٧٢ء، سیرت سرور عالم، ٤٩٨:١)
"میرے کے کزن نے سرگوشی کے انداز میں اشارہ سے بتایا کہ وہ فیض صاحب آرہے ہیں۔" (١٩٨٨ء، فیض کی شاعری کا نیا دور، ١١)
"مراد اپنی کش مکش پر کافی حد تک قابو پا چکا تھا۔" (١٩٨٧ء، گلی گلی کہانیاں، ٢١٤)
"کسڑڈ کا ایک قطرہ چپک گیا اور انہیں اس کی خبر تک نہ ہوئی۔" (١٩٤٧ء، میرے بھی صنم خانے، ١٤٣)
"اسے باسٹن کے کسٹم ہاؤس میں ملازمت مل گئی۔" (١٩٥٥ء، حیرت ناک کہانیاں، ٣)
تیری ٹھوکر پر نچھاور قیصروکسریٰ کے تاج تیرے در پر آرہا تھا بادشوں کا خراج (١٩٧٩ء، سلہٹ میں اردو، ٢٣٥)
"مسکراتے ہوئے وہ زینے سے اترے کہ رات کی پریشانی اور کسل مندی آشکارا نہ ہو۔" (١٩٨٨ء، صدیوں کی زنجیر)
"العبد جعفر خان گواہ مدعی بقلم خود" (١٨٨٠ء، کاغذات کارروائی عدالت، ١٢١)
"یہ ذوق و شوق قضا و قدر کی طرف سے ہر انسان کےلیے ایک انعام ہے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١١٦)
ہزار ذوقِ یقیں ہو، ہزار ذوقِ عمل مگر وہ وقت جو دل پر گراں گزرتا ہے (١٩٨٣ء، حصارِ انا)
"بحث میں ہار جانے کے بعد ہم سوائے ان ذہانت آمیز باتوں کے جنہیں ہم نہیں کہہ سکے اور کسی بات کا خیال نہیں کرسکتے۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ١٥)
"ذھن کا یہ سارا تحلیلی کاروبار اسی شکل میں انجام پاتا ہے جنکا ذکر پہلے گذر چکا ہے یعنی ذھن پہلے ماہیت کو وجود سے علیحدہ اور مجرد کرکے تصور کرتا ہے اور پھر وجود کو ماہیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفارِ اربعہ (ترجمہ)، ١، ٧٥٧:٢)