"تفریح اور ٹھٹول کے قطع نظر واقعہ یہ ہے کہ انجمن کی لغت کبیر مولوی احتشام الدین کی زندگی بھر کی کمائی ہے۔ یہ ایک ایسے مفکر کے ذہن رسا کی کارفرمائی ہے جو نام و نمود سے مستغنی، اردو کا عالم اور اردو زبان کا ماہر تھا۔" (١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٣٧٠)
"لیکن مادی کائنات کی لامحدود وسعتوں کا انکشاف کرکے سائنس نے مثالیت پسندی کی ذہن پرستی پرکاری ضرب لگائی ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٦٦)
"فرائڈ کے نظریے کی رُو سے بھی جنسی خواہش کا اظہار (Libido) جسے ہم خواہش وصل کہتے ہیں دراصل ذہنی ارتفاع (Sublination) کی ایک صُورت ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخِ ادب اردو، ٢٠٨:٢)
"ادب کے سرمائے کا بڑا حصہ ہمارے ذہنی اِفلاس کا مرثیہ خواں ہے۔" (١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری: شخصیت اور فکرو فن، ٢٠٠)
حشر میں آؤ، تو دو ہو جائیں باہم آفتاب اک سوا نیزے پہ ہو اک قدم آدم آفتاب (١٩٤١ء، فانی، کلیات، ٣٩٥)
"مزاج میں وہی طنطنہ تھا کنوارپنے میں ہی سواگز کی زبان تھی۔" (١٨٧٧ء، توبۃ النصوح، ١٠٣)
زمانِ رخصتِ طفلی لو شباب آیا سوا پَہر رُخِ روشن کا آفتاب آیا (١٩٤١ء، فانی، کلیات، ٦٣)
"صوبۂ پنجاب میں بھی سوالنامہ جاری کیا گیا۔" (١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور، فروری، ٢٥)
میں ترا عکس ہوں کہ تو میرا اس سوال و جواب نے مارا (١٩٣٤ء، شعلۂ طُور، ٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اُن کا سواد خط بالکل عورتوں کا سا ہے اور اس مضمون کے سواد خط سے ملتا جلتا ہے۔" (١٩٨٤ء، ارمغانِ مجنوں، ٥٢٦:٢)
اس اعتقاد میں پنہاں عجیب حکمت ہے کشادہ روئی سے ملنا بھی اک عبادت ہے (١٩٢٠ء، روحِ ادب، ١٢٢)
["\"حضرت خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ خوش خلقی یہ ہے کہ کشادہ پیشانی رہے اور دولت کو خرچ کرے۔\" (١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ١٥٣:١)"]
"پیتل کی چھوٹی نلی جس میں ایک کسر پیما لگا ہوا ہوتا ہے۔" (١٩٣١ء، طبعیات عملی، ٢٧٤:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اہل عرب میں اس وقت کشتی بانی اور جہاز رانی سے تین کام لیے جاتے تھے۔" (١٩٣٥ء، عربوں کی جہاز رانی، ٣٠)
"شاعری کی پوری شخصیت اپنی تمام برائیوں، اچھائیوں . کے ساتھ شعر میں ڈھل جائے کیونکہ زندگی جوئے کم آب ہے نہ آدمی کسی جوئے کم آب کا کشتی راں۔" (١٩٨٧ء، بازگشت و بازیافت، ٣١)
"اپنے احباب کو بھی اس نے بلایا اور مجھے ان سے بعنوان مناسب ملایا۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٦٣٩:٣)
"تمہاری پلکوں کی اوٹ میں جھلملاتے آنسوں ہیں کس کی خاطر، یہ چشم آہو اداس کیوں ہے۔" (١٩٥١ء، لہو کے چراغ، ٤٠٠)
"کشش ان تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے جو مادی کہلاتی ہیں . عام طور پر اس کی جو شکلیں نظر آتی ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جو کششِ اتصال کہلاتی ہے۔" (١٩٢٨ء، سلیم، مضامین سلیم، ٣٤:٣)
"مد لفظ مختلف فیہہ ہے . جب کہ بمعنی کشش حرف استعمال ہو۔" (١٩٦٣ء، صحیفۂ خوشنویساں، ٢٣٤)
"جس وقت زمین کی کشش جاذبہ سیب گرنے کی علت بنی تو . زمین سیب کو چھو نہیں رہی تھی۔" (١٩٥٦ء، افکار حاضرہ، ٢٢٧)
"لوہے کے ایک ٹکڑے کو سطح زمین سے کچھ بلندی پر رکھے ہوئے سلفیورک ترشے میں ڈال دینے سے ظاہری طور پر وہ کام جو لوہے کے ٹکڑے کو کشش اِرض کے خلاف اوپر اٹھا کر انجام دیا گیا ترشے میں حل ہونے کے بعد معدوم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔" (١٩٦٩ء، حرحرکیات، ٢٢)
"اس کا پاؤں ایک دفعہ بھی نہ پھسلا نہ اس پرکشش ثقل کا اثر ہوا۔" (١٩٨٥ء، دجلہ، ١٠)
"منقش لباس عروسی کو شیشے کے ٹکڑوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔" (١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدرشناس، ١٥٥)
"حضرت گنج شکر نے فرمایا کہ درویشوں کے فاقے سے موت آجائے تو اس سے بہتر ہے کہ لذت نفسانی کے لیے وہ مقروض ہوں۔" (١٩٨٧ء، بزم صوفیہ، ١٦٦)
"شعر سننے کا مز آجاتا بعد میں لذت کام و دہن کا سامان الگ ہوتا۔" (١٩٨٩ء، جنہیں میں نے دیکھا، ١٥٥)
"جس لذت کوش معاشرے میں وہ سانس لے رہے ہیں، اس کی بنا پر ان کی زندگی بلند مقاصد حیات سے تہی نظر آتی ہے۔" (١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ٢٠٥)
"تمام دنیاوی نعمتیں اسی وقت لذت دار، اسی وقت ذریعۂ خوشی ہیں جب ان کی سچی قدر یعنی (شکرگزاری) کی جائے۔" (١٨٨٠ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ٢١٨:١)
ہے ولی کی زباں کوں لذت بخش ذکر ہر صبح و شام تجھ لب کا (١٧٠٧ء، ولی، کلیات، ١٦)
"قارئین کے لیے لذت انگیز مواد کی فراہمی ڈائجسٹ رسائل نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔" (١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٧٩)
"اینا . ابھی تک خاموش تھی، جرمنوں کی آواز لحظہ بہ لحظہ بلند ہوتی جارہی تھی۔" (١٩٨٨ء، نشیب، ١٢٥٥)
"١٩٤٧ء کی سیاسی اور معاشرتی کشمکش اور لرزہ انگیز خوں ریزی نے انسانی دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔" (١٩٩٤ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٢٩)
لکٹتا چلے جب نکل نازسوں امیری کی پوشاک اور سازسوں (١٧١٩ء، جنگ نامہ عالم علی، ١١)
["\"بہت سے بادشاہوں نے اطاعت بشرط کی اور بہت سے آپ کے ہاتھ سے مارے گئے۔\" (١٩٠٤ء، آفتاب شجاعت، ١٠٩١:٣)"]
"حجم کی تخصیص لٹر یا معکب سنٹی میر (C) میں کی جاتی ہے۔" (١٩٨٤ء، کیمیا، ١٠٨)
عرب فاتحین بلوچستان کو ایک لانگ جمپ سے پھلانگ کر ایران سے سیدھے سندھ میں آگئے۔" (١٩٨٩ء، صحیفہ، لاہور، جولائی، دسمبر، ٢٣)
"مرد دانا میں کوئی لچک یا پیچ جیسے تھا ہی نہیں وہ تو بس سیدھی سڑک پر چلنے کا عادی تھا بالکل جیسے کوئی سپاہی لانگ مارچ کر رہا ہو۔" (١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٤٠)
"اس سفر نامے میں اس قسم کے متخیلہ نے کیف و لذت آفرینی پیدا کر دی ہے۔" (١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ٣٧٣)
مثل گل اپنا ہی جامہ ہو لباس آخرت اے فلک ہم کو نہیں تجھ سے کفن کی آرزو (١٨٥٤ء، غنچۂ آرزو، ١٢١)