کوئی مطلب موجود نہیں
"عورت ذات تو لائے سوا دس سیر یہ سورما نوہی سیر اٹھائے۔" (١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٨٨)
"مرد نے جب آنچل کو پرچم بنانے کا مشورہ دیا تو یہ بھی اس کے عورت پن کو مجروع کرنے کے مترادف تھا۔" (١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ٢٢٨)
"امریکہ نے پہلی مرتبہ ایک مقبول عوامی لیڈر کو غیر مقبول بنانے کا تجربہ کیا ہے۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی۔ ٧٦)
"بعض عوامی گیت ایسے ہوتے ہیں کہ وہ مجموعی شکل میں گائے جاتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق،١، ١٢٨)
"ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کو عوامی حکومت کے ثمرات کے بارے میں بتا کر کوئی موثر راستہ اپنانا چاہیے۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ٣٢)
"ہر طبقے اور ہر نقطۂ نظر کے افراد نے غیر ملکی استعمار کے خلاف صحیح معنوں میں عوامی جنگ شروع کر دی۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٩١:٣)
"ہم عوامی تحریک کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ١٧٢)
"انہوں نے بہت سے نام عوامی بولی کے بھی دیے ہیں۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٦١:٣)
"عوامی ادب اور لسانیات کے موضوع پر کی جانے والی تحقیق میں حلقہ جاتی کام کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ١١٧:١)
"غلط العوام سے مراد وہ الفاظ ہیں جو عوام الناس کی زبان پر غلط جاری ہو گئے ہیں۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٣٠)
"وہ منطق کے عنکبوتی جال کو ایک پھونک سے اڑا دیتی ہے۔" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات، (ترجمہ)، ٢٠٧)
مات ہے تجھ سے شمیم گیسوئے عنبر فشاں تیری ہر جنبش میں دنیائے لطافت ہے نہاں (١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٧)
حضرت صدیقؓ و ذی النورینؓ و فاروقؓ و علیؓ تھے یہی چاروں خلیفہ رازدانِ مصطفاۖ (١٨٧٢ء، مظہر عشق، ٥٠)
"وہ دیانت دارانہ طور پر یہ محسوس کرتے ہیں۔" (١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل،)
سب سے پھر نظریں بچا کر رستوں میں بھیگتے اس دیار ناز میں جانے کا موسم آگیا (١٩٤٧ء، فیض دوراں، ٤٦)
"میں نے شادی بھی وہیں ایک نیک بخت سے کرلی تھی، جس نے اور بھی پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں اور میں ہمیشہ کے لیے دیار غیر کا ہوکے رہ گیا تھا۔" (١٩٨٣ء، گوندنی والا تکیہ، ١٢)
ہر وقت سوال تھا یہ لب پر شب خون کوئی دیار شب پر (١٩٨٤ء، سمندر، ٥٠)
عجب تر ہے مگر اس دیار جاں کی فضا دلوں میں زہر بھوں پر پیام مہر وفا (١٩٨٣ء، بے نام، ٢٨)
[" بر میں نبیۖ کا جامہ عنبر شمامہ ہے رنگت تو پھول سی ہے گلابی عمامہ ہے (١٨٧٤ء، انیس (مہذب اللغات))"]
یارب یہ زمانے کے حسین و نوخیز تو نے ہی بنایا ہے انہیں عنبر بیز (١٩٨٥ء، دست زرفشاں، ٧٢)
"فضا چائے کی مہک سے عنبر آمیز ہے۔" (١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ٧٣)
"مہ جبیں . زلف چلیپا تاہکمر عنبر افشاں . عبنر بار۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٦)
"ایک تولہ عنبر اشہب نصف تولہ لاون . باریک پیس کر چینی کی رکابیوں میں حفاظت سے رکھتے ہیں۔" (١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٤٢:١)
"رہ نماؤں سے میرا مطلب وہ افراد ہیں جن کو عنایت ایزدی یا اپنے وسیع تجربات کی بدولت ایک طرف . جدید حوادث کی رفتار کا اندازہ . کر سکیں۔" (١٩٣٣ء، خطبات اقبال، ٥٦)
"مشکلات پر قابو پاکر انسان عناصر فطرت اور مخالف قوتوں کے سامنے شمعیں جلانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔" (١٩٨٣ء، حصار انا، ٢٢)
"نظم اپنی ہئیت، درو بست اور عناصر ترکیبی کے حوالے سے نت نئے پیرہن بدلتی رہی ہے۔" (١٩٨٤ء، سمندر، ١٠)
"معلوم ہوا کہ عناصر بسیط کثرت سے پائے جاتے ہیں اور آج سیکڑوں کی تعداد میں دریافت ہو چکے ہیں۔" (١٩٢٣ء، نگار، فروری، ١٤٦)
"حکمی استدلال کرنے والا جس ضابطہ تک پہنچتا ہے اس میں ایسی مستقل مقداریں ہوتی ہیں جن کو وہ عناصر اصلی سمجھتا ہے۔" (١٩٣٥ء، علم الاخلاق، ٥)
"جسم عناصر اربعہ سے مرکب ہے۔" (١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٢٤٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
"مغرب میں مارسل پراؤسٹ، جیمس جوائس اور فرینک کا فکا مشکل پسندی اور عمیق نگاہی کی دعوت دے رہے تھے۔" (١٩٨٩ء، افکار، کراچی، نومبر، ١٣)
"جمہوریت و عمومیت کی روح کے ساتھ ایسے تلقب جمع نہیں ہو سکتے۔" (١٩٨٨ء، اردو کی ترقی میں مولانا ابوالکلام کا حصہ، ٥٦)
"جن میں عموم و خصوص کی نسبت پائی جاتی ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ٨٥٣)
"جب یہ کتبہ کندہ کر لیا گیا تو اس کے نیچے کی چٹان کو تراش کر بالکل عمودی بنا دیا گیا۔" (١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٣٩:١)
"پھر عموداً اوپر سے نیچے آتے ہوئے ہر بات کی حالت مثلاً ہے یا نہیں . ظاہر کرتے آتے ہیں۔" (١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے، ٢٨)
"ان کی ادبی تخلیقات اس نظریے کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہیں۔" (١٩٤١ء، افادی ادب، ٩)
"کسی فن پارے کا تنقیدی مطالعہ عملی تنقید کہلاتا ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٧)
"یہ دشت عملی طور پر بحیرۂ خزد سے . علاقہ مکران میں بحر ہند تک پھیلا ہوا ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٦٩:٣)
"ہمارے ملک کے ضروری مسائل جو ابھی پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں وہ یہ ہیں . ہر شخص کو عملی تعلیم فراہم کرنا۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٢٩)