اک بڑے اخبار نے کل جو غزل چھاپی ہے یہ گفتۂ غالب کی دسویں کاربن کاپی ہے یہ (١٩٨٧ء، خدا جھوٹ نہ بُلوائے، ٥٣)
"غدر ١٨٥٧ء کے بعد اپنے استاد بھائی نواب یوسف علی خاں ناظم کے بلانے پر رام پور چلے گئے۔" (١٩٥٩ء، ذکر حبیب، ١٣)
"وہ کار کشا بھی تھے اور کار ساز بھی لیکن ورہ ایک معمہ بھی تھے۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٣٥٠)
"افراد ٹکڑیوں میں بٹ کر اور ٹولیاں بنا کر زندگی بسر کرتے اور کارزار حیات سر کرتے ہیں۔" (١٩٧٨ء، محمد احسن فاروقی (نیاز فتح پوری شخصیت اور فکرو فن)، ٦٥)
"ان سٹوڈیوز میں فیچر فلم تیار کیے جاتے ہیں۔" (١٩٦٠ء، دوسرا پنج سالہ منصوبہ، ٣٩٧)
مری جان آج کا غم نہ کر کسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہ جانے کا وقت نے کہیں لکھ رکھی ہوں مُسرتیں (١٩٨٤ء، نسخہ ہائے وفا، ٦٤٧)
"ناسخ یا ذوق کے استاد الاستاد ہونے میں کسی صحیح الحواس کو عذر نہیں ہو سکتا۔" (١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ١١٤:٢)
وہ بولے کہ اے اشرف انبیا جو پڑھتے ہیں تسبیح اربع سرا (١٨٣١ء، معراج نامہ، میر مظفر حسین، ٦٢)
"بادشاہ سلامت دربار سے اٹھ کر تسبیح خانے میں گیے ہی تھے کہ. شہزادیاں جمع ہونا شروع ہوئیں۔" (١٩٣٠ء، مضامین فرحت، ١٢:٢)
"قرآن مجید میں ایسے واقعات مذکور ہیں. مثلاً. پہاڑوں کی تسبیح خوانی۔" (١٩٠٢ء، علم الکلام، ١٧٥:١)
تسبیح فاطمہ کو ابھی پڑھتے تھے امام بڑھ بڑھ کے جو لگانے لگے تیر اہل شام (١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٥٢:٢)
"حیوانات کے طبقہ اعلٰے میں اس تسجیل نقوش کا عمل زیادہ کامل و مکمل ہوتا ہے۔" (١٨١٠ء، معرکہ مذہب و سائنس، ١٩٣)
"مولی کے رس میں دو روز حل کریں اور اس کے بعد سرکہ مقطر میں دو یوم تسحیق کامل کریں۔" (١٩٣٧ء، سلک الدرر، ٦٤)
"استاد صاحب کی قمچیوں سے چوتڑ لال ہو جاتے تھے۔"
"تبرد سے تسخن (گرم ہونے کی حالت) کی طرف اس شے کی جو منتقلی ہوئی اس میں اتصال باقی نہ رہا۔" (١٩٤٣ء، اسفار اربعہ، ١، ١٢٩٦:٢)
"روغن گل کی تسعیط (ناک میں سڑکنا) گرم و سرد دونوں مزاجوں میں مفید ہوتی ہے۔" (١٩٣٦ء، شرح اسباب، ١٠١:٢)
"اپنے تذلل اور تسفل کے صدقے میں مسلمانوں نے اسلام کو ایک نج کا مذہب سمجھنا شروع کر دیا۔" (١٩٤٦ء، ہمارا قائد، ١١)
"حکومتیں تسکیک کے اجارہ کا حق اپنے لیے محفوظ رکھتی ہیں اور حانگی اشخاص کا سکے ڈھالنا جرم قرار دیکر سزا دیتی ہیں۔" (١٩٣٧ء، اصول معاشیات، ٣٠٣:١)
"لوہاروں اور اسلحہ سازوں کا ایک گروہ مسلمان ہوا۔" (١٨٩٨ء، دعوت اسلام، ٣٠٥)
بہر کمال عزت دنیا و آخرت میں بس یک علیک تجھ سے اور لک تسلّم (١٨٠٩ء، دیوان شاہ کمال، ١٨٣)
"مبہم سی حالتیں مثلاً وہ جو کہ بعض قسم کی غذا کے تسمم سے پیدا ہوتی ہیں۔" (١٨٦٠ء، عمل طب، ١٥٧)
نہ رہ مطمئن تسمہ باز فلک سے دغا سے یہ بہتوں کی کھینچے ہے قسمیں (١٨١٠ء، کلیات میر، ٧٩٨)
"خرما کے خشک پتوں کو جلا کر اس کی راکھ کو بکری کی مینگنیوں کے ساتھ ملاؤ اور اس میں تھوڑا سا پانی بھی شریک کرو. پھر مٹی سے پاٹ دو اس مجموعہ کا نام زبان عربی میں تسمید ہے۔" (١٩٠٧ء، فلاحت النخل، ٩٩)
"اس چیز کو تسمیط (intcvtrigo) سے متفرق کرنے کی ضرورت ہے جو کہ تعریجات میں واقع ہوتی ہے۔" (١٩٤٨ء، عمل طب، ٢٩٩)
"معلوم ہے کہ ناک کے جو فوں کے بالائی اجزا کا تسوس (caries) اور. بسا اوقات کیورنس سائینز کی عفونتی علقیت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔" (١٩٣٥ء، عروقیات، ٢٨١)
عالم میں صفات کی نہیں کچھ تسویط اس پر برہان ہے یہ کہ ہے ذات بسیط (١٨٣٩ء، مکاشفات الاسرار، ٨٠)
"وقت تسہیم اشیا بعض چیزیں تو ایسی ہیں کہ ان کے چھوٹے حصے ہوسکتے ہیں۔" (١٩١٧ء، علم المعیشت، ٤٥٠)
"پچھلے مہینوں میں عید کی تقریب ہوتی ہے اور اس میں کوئی تقریب نہیں ہوتی تو گویا لفظ خالی سے تشاءُم کرتی ہیں۔" (١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٦٧:٣)
"اخبار نویس اپنے پروپیگنڈے یعنی تشاغب کحی اشرفیاں ہر ایک امیدوار کو مکھو شاہ سے پڑھوا کر دینا چاہتے ہیں۔" (١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٦:٢٩)
"اعراض اور نسیان اور تشاغل بغیر ذکر اور دعا کے نہ شمار کریں۔" (١٨٧٣ء، مطلع العجائب، ٩٨)
فخر اپنے تشبک کا فلک چاہے سو کرلے پر شرط نہ غربال دل چاک سے باندھے (١٨٣٤ء، دیوان شاہ نیاز ٢٢٧)
"مختلف ناموں کے ذریعے نباتات کی تبیہی روح کو اکثر ظاہر کیا جاتا ہے۔" (١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٢٦٠:١)
"محوریہ شاخوں کے ایک گچھے میں ختم ہو جاتا ہے جو اختتامی تشجر کہلاتا ہے۔" (١٩٤٩ء، ابتدائی حیوانیات، ١١٨)
"قرآن عقلی علوم کی بھی ترغیب دیتا ہے، علم الکلام کی تشجیع کے لیے وہ حکم دیتا ہے. اور ان کے ساتھ مجھے طریقے سے بحث کیجیے۔" (١٩٦٢ء، معارف، اعظم گڑھ، مارچ، ١٨٠)
پیام صلح ادھر ہے تو ہے ادھر تشحیز نی کی شرع کے حق میں ہر ایک آفت ہے (١٩٣١ء، بہارستان، ٥٥٣)
"تشریع (قانون سازی) کا اصل مقصد بندگان خدا کے معاملات اور تعلقات کی تنظیم. کرنا ہے۔" (١٩٦١ء، سود، ١٨٧)
"عربی کا (وحی) علاوہ تشریعی موقع کے تکوینی موقعوں کے لیے بھی بے تکلف آتا ہے۔" (١٩٤٥ء، حیوانات قرآنی، ١٥٢)
"کبھی کبھی گہرے شہیق کے دوران میں قصبتہ السریہہ کا تشعب (دو شاخہ) بھی نظر آجاتا ہے۔" (١٩٣٤ء، احشائیات، ٣٦٢)
"ان کے سادہ دماغوں کو بھی تشعر، تنظیم، تغزل سے بھرا جاتا ہے۔" (١٩٢٣ء، احیائے ملت، ٦٣)
کر دیا مجتہد وقت کو قائل جھٹ پٹ ہم نے مسجد میں کل ایسی ہی قیامت کی بحث کی (١٨١٨ء، انشا، ک،۔ ٤٠۔)