"نئی یا جدید تر اردو شاعری کی ایک آواز اور بھی ہے. یہ آواز دراصل سریت. لایعنیت اور داخلیت کے جدید فلسفیانہ مسائل اور قدیم متصوفانہ رموز سے عبارت ہے اور یہ. مخلوق کو خالق کے سامنے مجبور محض گردانتی ہے اور ذات و کائنات کے رشتوں کو محض روحانی جانتی ہے۔" (١٩٩٥ء، نگار، کراچی، مارچ، ٦٦)
"ایک مجلس صدارت" (Presidium) کا قیام عمل میں آیا۔ (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٩٥:٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
[" مرصع کی ہو صدر ہے ہر فلک رہیں مجلس آرا ہو صف صف ملک (١٦٥٧ء، گلشن عشق، ١٤)"]
"خود وجود ہی مجعول اور واجب کا مخلوق ہوتا ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ٧٥٦:١)
"آڈیٹر جنرل کو مجلس قانون ساز کے سامنے اپنی رپورٹ بھی پیش کرنا ہوتی ہے، جہاں پہلے مجلس حسابات عامہ. اس کا جائزہ لیتی ہے۔" (١٩٧٠ء، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ٥١٠:٥)
"جلسے میں مجلس بلدیہ کے ارکان، ایک نواب اور شہر کے امرء موجود تھے۔" (١٩٤٣ء، مقالات گارسان دتاسی (ترجمہ)، ٢٦٠:١)
"مصوری، مجسمہ نگاری اور بت تراشی اور رقص سے بھی ان کا تخلیقی رشتہ قائم ہے۔" (١٩٨٧ء، مرزا غالب کا دستانی مزاج، ١٥٦)
"جب آنکھ اندھی ہو جاتی ہے تب چشم دل کی زیادہ تر نور پاتی ہے کیونکہ کور کو اکثر مجتمع الحواس کہتے ہیں۔" (١٨٥٩ء، رسالہ تعلیم النفس (ترجمہ)، ٨:١)
"امر کانت نے مجبورانہ انداز سے کہا اچھی بات ہے آج سے زبان بند کر لوں گا۔" (١٩٣٢ء، میدانِ عمل، ٣٧)
"اولاد کے لیے مجانس ہونا ضروری ہے۔" (١٩٦٤ء، کمالین پارہ ١٠٥:٧)
"ماہرین خصوصی کی متعدد جماعتوں کا ذکر آتا ہے. جراحوں اور مجبروں (ہڈی بٹھانے والے)"۔ (١٩٧٠ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٠٥:٥)
"اب آگے ان مخالفین کا بیان ہے جو زبان و دل دونوں سے علانیہ انکار کرتے ہیں جن کو کافر مجاہر کہتے ہیں۔" (١٩٦٤ء، کمالین، قسط، ٢١:١)
"اس کو رحیم جاننے اور کہنے پر دل مجبور اور مجبول ہے۔" (١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٨٩:١)
"فہم قرآن سے غرض یہ ہے کہ انسان مجتہدانہ طور پر احکام کا استنباط کر سکے۔" (١٩٩٣ء، اردو نامہ، لاہور، جولائی، ١٣)
"شاہ ولی اللہ کی شخصیت کا جہاں تک تعلق ہے علمی تبحر، مجتہدانہ نظر، دور اندیشی. کے لحاظ سے دنیائے اسلام کے بہت کم بزرگ ان کی ہمسری کرسکتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٥٩)
"خیال تھا کہ اگر خاندان کا ایک شخص مجتہد بن جائے تو پورے خاندان کی عاقبت سنور جاتی ہے۔" (١٩٩١ء، افکار، کراچی، نومبر، دسمبر، ١٩٩)
"ات عظیم شخصیت، اسلام کے ہیرو، اسلام آئین کے اولین مدون، فقہ و قانون کے مجتہد اعظم کا دفاع امت کا فرض ہے۔" (١٩٨٩ء، ارباب علم و کمال اور پیشہ رزق حلال، ١١٣)
"جس قدر انگوٹھیاں اور چکن تیار ملے گی اسی پانوے کے واپس آویں گے۔" (١٩٠٠ء، رسوا، خورشید بہو، ١٥٤)
"مولف. مجتہد فن جراح (Surgeon) ہے۔" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٤٠)
"یہ علامت بھی طبیعت مجردہ نے بخشی تھی۔" (١٩٩٠ء، اردو زبان اور فن داستان گوئی، ١٠٣)
"ان پر مجددیت کا اتنا غلبہ ہو گیا کہ مدرسۂ فرقانیہ چھوڑ کر حضرت مجدد الف ثانی کے مزار کی مجاورت اختیار کرلی۔" (١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٦٦٣)
"انگلستان کے فوجی کارخانۂ اسلحہ سازی میں مہم سوڈان کے لیے سرگرمی سے غبارے تیار ہو رہے ہیں۔" (١٨٩٩ء، بست سالہ عہد حکومت، ٤١٧)
[" سلام ان پر جو مقبول و محاب کبریا ہیں مجیب مہرباں محبوبِ رب ہیں مجتبٰی ہیں (١٩٩٣ء، زمزمۂ سلام، ١٠٨)"]
"رفتہ رفتہ مجاہدۂ نفس کی یہ ریاضتیں سخت سے سخت ہوتی چلی گئیں۔" (١٩٧٧ء، من کے تار، ٢٨)
"باوجود اشتغال علوم ظاہری کے اکثر اوقات ریاضت اور مجاہدۂ باطنی میں بھی کوشش کرتے تھے۔" (١٩٢٩ء، تذکرج کاملان رامپور، ٢٩٨)
"اگر سہ حرفی الفاظ کا درمیانی حرف مجزوم ہے تو بولنے میں اس کی مفتوح کر دیتے ہیں۔" (١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٤٩)
"کسی مقام کے آدمی ہوں، سب یکساں نہیں ہیں، ایک اشرف اشراف ہیں، وہ حکما و علما و سادات ہیں۔" (١٨٨٣ء، دربار اکبری، ٤١٧)
["\"مرکزی محکمہ ہائے محفوظہ و مثقلہ کے نظم و نسق میں وہی رواج قائم کیا جائے جو صوبوں کے لیے تجویز کیا گیا ہو۔\" (١٩٤٠ء، مسلم لیگ، ٨٥)"]
"کیا لطیفہ بازی اور محفل آرائی، پردہ ہے?. اصل امجد کون سا ہے. اب فیصلہ کون کرے۔" (١٩٩٠ء، جدیدیت کی تلاش میں، ٣٥٦)
"ہماری سب خدمتیں اور محنت مشقت کے کام تو بنی اسرائیل ہی انجام دیتے ہیں۔" (١٩٧١ء، معارف القرآن، ٨١:٦)
"وہ اس کے عوام کے عزم اور محنت پسندی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔" (١٩٩٢ء، اردو نامہ، لاہور، جولائی، ٤٢)
جو محنت زدے دن تے تہے دکہ فنے ہوئے نس تے آرام پا سکہ منے (١٦٦٥ء، علی نامہ، ١٩٦)
اشرف الانبیا رسول کریم اشرف الاولیا علی ولی (١٩٣١ء، بیاض سلام (ق)، نسیم، ٢٩)
"محکمہ موسمیات میں قانون برائے دفتری زبان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔" (١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ١٦١)
"وہ ایک دن سب عزیزوں کو بلوا کر بانٹ بخرے کا مسئلہ پیش کرے گا۔" (١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٦٨:١)
"کسی خاص قوم (مثلاً یونانیوں، ہندوستانیوں چینیوں یا علی العموم بنی نوع انسان کی قدیم روایتی کہانیوں کا مطالعہ مائتھولوجی کہلاتا ہے۔)" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٨١)
"مذکورہ بالا ترک قوم آٹھویں صدی عیسوی میں مجاری زبان بولنے لگی تھیں۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٩٣١:٣)
"شمار کیا جانا ستاروں کا آسمان سے ہر مرقب اس کا اگر وہ مرقب اپنے مجاری میں جاری و رواں ہوتے۔" (١٩٠١ء، سفر نامۂ ابن بطوطہ، (ترجمہ)، ٧١:١)
"مصدق مواد اور مثبت فکر کی بنیاد پر اس کو "گل سرسبد" کہا جاسکتا ہے۔" (١٩٨٨ء، ایک قاری کی سرگزشت، ٨٣)