"وہ موضوع کو اس کی تمام جہتوں سے اجالنے کی سعی بھی کرتے ہیں جو ان کی کشادہ نظری کی دلیل ہے۔" رجوع کریں:وَسِیعُ النَّظَری (١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٨١)
"نہایت ابتدائی زمانے میں ہیرو غلیفی - میں حروف نہ تھے، - تصویریں تھیں جو باالذات یا بالعرض مطالب پر دلالت کرتی تھیں، ٦٠ ق م میں ابجدی حروف ایجاد ہوئے۔" (١٩١٢ء، شبلی، مقالات، ١٠٦)
"یہ شہر جو طویل کُشت و خون کا حاصل ہے ملتِ اسلامیہ کا دل ہے۔" (١٩٨٧ء، فاران، کراچی، نومبر، ٣٦)
["\"پٹواری نے کھتاؤنی، کشت وار، جمع بندی، خسرہ الٹا، سب کچھ ٹھیک، پر کھیت کا نمبر ٦٢، خارج\"۔ (١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٤٦)"]
"سب مرد لوگ نوکری پیشہ یا تجارت پیشہ، کِشتگار وغیرہ شب و روز بہ تلاش معاش جا بجا بیرُو نجات . میں حفظ اور نگہبانی اور احتیاط کہاں رہے۔" (١٨٩٢ء، فوائد النساء، ٤٠)
"کشتی دخانی اور ہوائی جہاز بھی انگریزی سے ترجمہ کیا گیا ہے۔" (١٩٦٣ء، سرگزشت، ٢٠٣)
"موجودہ زمانے میں وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتئ نوح کی تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں۔" (١٩٧٢ء، سیرتِ سرور عالم، ٤٩٨)
"انہیں میں نے سب سے پہلے حریف کے زانوں پر ہاتھ مارتے دیکھا ہے جسے مشرقی کشتی گیری میں داؤ پٹ کہتے ہیں۔" (١٩٦٢ء، رستم زماں گاماں، ١٤١)
"زمین کے کسی ایک مقام پر کششِ زمین کا اسراع تمام اجسام کے لیے برابر ہوتا ہے۔" (١٩٦٥ء، مادے کے خواص، ٣٨)
"ایک کشش وہ ہے جو کشش شعری کہلاتی ہے اس کے سبب سے تمام مسامدار مادی چیزیں پانی جیسی سیال چیزوں کو اپنے اندر جذب کرتی ہیں۔" (١٩٢٨ء، مضامین سلیم، ٣٤:٣)
جنچل چک چھوڑ میں تیرے مدرس پاس مکتب میں نہ ابجد کی پٹی پڑتا جو اس میں صاد نہ ہوتا (١٧١٧ء، بحری، کلیات، ١٣٣)
"اور آیت . میں کشف حقیقی اسی معنی کو بتلاتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر چیز اللہ ہی کی طرف عود کرتی ہے۔" (١٨٨٧ء، فصوص الحکم (ترجمہ)، ١٦٢)
"ایک صاحب نے کشفِ قبور کا عمل بتلایا۔" (١٩٧٠ء، جنگ، کراچی، ٢ فروری، ٩)
"حضرت قبلہ . ریاضتِ عبادت و کشف و کرامات و دیگر عالیہ صفات کے اعتبار سے سلفِ صالحین کا نمونہ تھے۔" (١٩٧٧ء، من کے تار، ٣١)
"تمام عضویوں کو . کشمکش حیات سے سابقہ رہتا ہے۔" (١٩٤٣ء، مبادی نباتیات، ٦٦٧:٢)
"انشا کا یہ بیان اس وقت بھی اردو زبان کی کشادہ ظرفی کے لیے بطور نظیر پیش ہوتا تھا۔" (١٩١١ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٣٧)
"میں نے ابجد خوانی کے بعد کلام مجید شروع کیا۔" رجوع کریں: (١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستان غدر، ٢١)
"مجھ سے تعاون کیا اور کبھی کم نظری کا گلہ نہیں کیا۔" (١٩٨٣ء، حصار انا، ٢٨)
"وہ نہایت کم کوش، آرام طلب اور غیر فعال شخصیت کے مالک تھے۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٥٢٨)
"نوجوانوں کی کاہلی، سہل انگاری اور کم کوشی کو دیکھ کر ان کو بڑا دکھ ہوتا تھا۔" (١٩٨٨ء، فاران، کراچی، نومبر،)
"اسلامی تعلیمات کا وسیع علم نہ ہونے کے باعث بعض کم فہم لوگ محض کم علمی کی بنا پر فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بنتے ہیں۔" (١٩٩١ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، ٧٣)
"ہم کم سمجھ آدمیوں کی سمجھ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔" (١٨٩٥ء، رسالہ تہذیب الاخلاق)
"مختلف ممالک کے ساتھ جو ثقافتی معاہدے یا مشترک ثقافتی ادارے میں ان سے بھی کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوتے یہ ہماری کم ذوقی کی ذلیل ہے۔" (١٩٦٦ء، نکتۂ راز، ٩٥)
"پانچ چھ میل چلنے کی ریاضت شاقہ کے باوجود ایسی کم خوراکی دیکھی نہ سنی۔" (١٩٨٥ء، تخلیقات و نگارشات، ٢٦١)
"اس کی کم آمیزی اور کم گوئی بلکہ ایک حد تک یکسر خاموشی نے اسے پراسرار بنا دیا تھا۔" (١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ١٩٠)
اک داستانِ کرب کم آموز کی جگہ تیری ہزیمتوں سے کوئی واقعہ بنے (١٩٦٧ء، قبائے ساز، ٣٩)
سوچ رہا ہوں کیوں نہ اسی بے کیف فضا میں لوٹ چلوں ساقی رعنا تجھ سے یہی کم آگہی کا شکوہ ہی رہا (١٩٧٨ء، ابنِ انشا، دلِ وحشی، ٤٦)
ذکر کیا ہے جن و انساں کا کہ ہیں قدسی بھی ابجد آموز دبستان در علم بنی (١٨٩٤ء سجاد راش پوری (ق)، ٤)
"بعض فقرے کم استعداد ہندوستانیوں کے کانوں کو نئے معلوم ہوں تو وہ جانیں، یہ علم کی کم رواحی کا سبب ہے۔" (١٩٨٨ء، نگار، کراچی، فروری، ٦١)
"اب تک ہمارے نقاد، تحقیق اور ادب کے مربوط مطالعے کے بغیر ایسی کلیہ سازی اور تعمیم کرتے آئے ہیں جو فی الحقیقت بے بنیاد ہیں۔" (١٩٨٣ء، نئی تنقید، ٢٣)
"محلے کے ڈرائیور، کلینر، ٹیلر، خانساماں، چوکیدار مالی وغیرہ اپنی فرصت کا سارا وقت اسی دکان پر گزارتے۔" (١٩٧١ء، ذکرِ یار چلے، ٤٧٠)
زلیخا خواب ہے، زندہ حقیقت بھی کڑے دن زندگی کے جور اور سفاکیوں کے روز و شب یوں ساتھ گزرے ہیں (١٩٩٢ء، ساون آیا ہے، ٦٠)
"اپنے استاد وغیرہ کی نسبت بھی ان باتوں کا ذکر نہیں کیا یا ذلت سمجھ کر ان کی اجد آموزی کا نام نہیں لیا۔" رجوع کریں: (١٨٧٥ء، ارمغان کنھیا لال وحشی (سہ ماہی اردو، ١٩٦٦ء (کراچی)، ٤:٤٢، ٤٤)
"سکیورٹی فورس کو یقیناً کڑی نظر رکھنی ہو گی۔" کڑی نگاہ کی او سنگدل اٹھے نہ چوٹ کہ شیشے سے کہیں نازک ہے آبلہ دل کا (١٩٩١ء، افکار، کراچی، اپریل، ٧٠)(١٨٨٨ء، صنم خانہ عشق، ٤٦)
کسی شعر یا عبارت کی بے ساختگی دراصل اس شاعر یا ادیب کے ذہن کی صفائی موضوع پر کڑی گرفت، . کی آئینہ دار ہوتی ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٢٣)
سوتے رہو خواب بھی نہ دیکھو جینے کی جو شرط ہے کڑی ہے (١٩٩٢ء، ساون آیا ہے، ١٢٥)
"بند کمرے میں گھنٹوں تنہا بند رہنے کی سزا بھگتنی پڑے گی، کڑی آزمائش ہے۔" (١٩٩١ء، افکار، کراچی، جون، ٥٧)
"پھر اسے کوئی انجانا کڑا کسیلا سا احساس ہونے لگا۔" (١٩٨٧ء، پھول پتھر، ١٣٤)
"فوجداری کی اپیلوں میں عدالت اپیل کا فرض ہے کہ وہ روئداد پر مثل ابتدائی عدالت کے غور کرے۔" (١٨٧٦ء، شرح قانون شہادت، ١٨)
"خشک گھاس میں ان کے بھاگنے کی کڑکڑاہٹ کی وجہ سے ہر مرتبہ شیرنی ہی کا گماں ہوتا تھا۔" (١٩٥٨ء، عمرِ رفتہ، ٣٤٨)