"گھاؤ تو لگتا ہی لگتا ہے، بھابی جب انسان کے وجود میں کوئی کٹیلی چیز اترتی ہے تو پھر یہی نتیجہ نکلتا ہے۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ١٠٥)
"انہیں کٹھل سے لے لیچی تک ہر شے میں نقش یار دکھائی دیتا تھا۔" (١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ١٨)
"ہمارا کونوائے کچھ مہاجرین کو لے کر آ رہا تھا۔" (١٩٦١ء، ہالہ، ١٢)
"اگلے مہینے ہمارا ایک بہت ہی گرینڈ قسم کا کنسرٹ ہونے والا ہے۔" (١٩٤٧ء، میرے بھی صنم خانے، ٤٥٥)
مستی میں رازِ کون و مکاں برملا کہیں پر کیا کروں مغاں کا اشارا نہیں مجھے (١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٤٨)
یا تو چپ تھے یا زباں پر اب ہے بے تے لام کاف منہ نہیں ان کا کھلا ابجد کا تالا کھل گیا (١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ٦٢)
"اکثر انہیں گھر کے سامنے سے گزرتا دیکھتی کیوں کہ ان کا مکان برابر والی گلی سے اندر جا کر تھا۔" (١٩٩٢ء، افکار، کراچی، جون، ٥٧)
"جس کا نیجہ یہ ہوا کہ ان فرشتوں اور یونانیوں کے عشق کے دیوتا کیوپڈ کی صورت میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔" (١٩٢٦ء، مضامینِ شرر، ٢، ٤٧٢:١)
وہ تری کچ روشنی، کج کلہی، کیندوری، دلبری عشوہ گری کون غش کھا کے گرا، کون مُوا پھر کے نہ دیکھا ذرا (١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانۂ الہام، ١٠)
"ان کے ہاں زہر ناکی اور کینہ پروری کے عناصر بہت کم ہیں۔" (١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی)
"انسانوں کے کھانے پینے کی اشیا . بسکٹ اور کینڈی سے لے کر قیمہ، روسٹ، اسٹو اور ڈیزرٹ تک ملتا ہے۔" (١٩٨٩ء، جنگ، کراچی، ١٤ / اپریل)
"سیٹھارجہ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر روہڑی کینال . میں شگاف پڑ گیا۔" (١٩٩٢ء، جنگ، کراچی، ٣ / اکتوبر، ١)
"بیٹری میں . پچیس گھنٹے لگاتار کرنٹ پاس ہونے سے ایک قسم کی ایکٹو کیمیکل انرجی سی خارج ہو جائے گی۔" (١٩٢٣ء، آئینہ موٹر، ٥٦)
نہیں ابجد شناس اغیار اب تک ہو سکے اس کے ہمیں جس علم پر قدرت تھی جس فن میں مہارت تھی (١٩٣١ء، بہارستان، ١٣٥)
"یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیمیائی مرکب وقت اور حالات کے مطابق اپنی تحریکی نوعیتیں بدل لے۔" (١٩٧٣ء، حیوانی کردار، ٧٧)
"بے شمار چمنیوں سے جو کیمیائی گیس خارج ہوتی ہیں وہ من ہایٹم کی ہوا کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ (١٩٨٨ء، دامن کوہ میں ایک موسم، ٦٣)
"کیمیائی قوتیں جو سالموں میں ایٹموں کو یکجا رکھتی ہیں اتصالی قوتیں جو مادی اجسام کے حصول کو جکڑے رکھتی ہیں۔" (١٩٦١ء، کائنات اور ڈاکٹر آئن سٹائن، ١١)
"رُوئے زمین کی تمام اشیا ایک یا ایک سے زیادہ اجزا سے مل کر بنی ہیں ان اجزا کو کیمیائی عناصر (Chemical Elements) کہتے ہیں۔" (١٩٧١ء، فوٹو گرافی، ٣٤)
"کیمیائی علاج . ادویہ کی فعلیاتی تاثیر سے تعلق رکھتا ہے۔" (١٩٤٨ء، علم الادویہ (ترجمہ)، ٣:١)
"رطوبات میں خامرے (Enzymes) ہوتے ہیں جوکہ کیمیائی عمل میں مدد دیتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٥٣)
"حلقہ، سائز و ہندسی اشکال اور کیمیائی خواص میں نسبت کا ذکر بعد میں کیا جائے گا۔" (١٩٨٠ء، نامیاتی کیمیا، ٢٥٤)
"کیمیائی جنگ میں گیسی نقاب بچاؤ ایک نہایت موثر آلہ ہے۔" (١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٦٠)
"بھٹیوں اور کیمیائی تعاملوں (Chemical Reaction) کے ٹمپریچروں کو کنٹرول کرنے میں یہ سیل بہت کارآمد آلہ ہے۔" (١٩٧١ء، الیکٹرانکی کرنوں کے عملی اطلاقات، ٢٠٥)
"ڈاکٹروں نے ابھی اپنی رپورٹ نہیں دی . کیمیائی تجربہ سے پتہ نہیں چلتا۔" (١٩٢٤ء، خونی راز، ٥٧)
"توانائی کا کچھ حصہ متعلقہ حامرات کی کیمیائی ترکیب میں کام آتا ہے۔" (١٩٦٣ء، ماہیت الارض، ٤٩:١)
"آکسن کے کیمیائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ درحقیقت انڈول ایسٹک ایسڈ (Indole Acetic Acid) ہے۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٢٤٠)
"ایٹموں کے مجموعے مضبوطی سے اس ربط کی مدد سے یکجا رہتے ہیں جنہیں کیمیائی بونڈ کہتے ہیں۔" (١٩٨٤ء، کیمیا، ٦٧)
"ان مرکزی میدانوں کی تراب مخصوص ساخت اور مناسب کشادہ بافت ہونے کی وجہ سے اب کافی حد تک اس کے کیمیائی اجزا دہل گئے۔" (١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ٣٧)
"پائریڈین . کے کیمیائی خواص بہترین کے کیمیائی خواص سے بہت حد تک مشابہ ہوتے ہیں۔" (١٩٨٠ء، نامیاتی کیمیا، ١١٣٧)
"کیمپس میں قدم رکھا اور جانا کہ علی گڑھ کا رنگ گلابی ہے۔" (١٩٨٠ء، زمیں اور فلک اور، ٥٤)
"میں نے کیمبرج یا آکسفورڈ کے کالجوں کے نمونے کا کالج سوائے محمڈن کالج کے کہیں نہیں دیکھا۔" (١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٥٢)
"کوہستان کے اسی شمالی پہلو پر پہاڑوں کا ایک اور مشہور سلسلہ ہے جسے کیلاش، کانگری یا ماورائے ہمالیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔" (١٩٢٤ء، جغرافیہ عالم (ترجمہ)، ١٣٢:١)
["\"خداوند تعالٰی حضور کو تا ابد الدہر سلامت و باکرامت رکھے۔\" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٧٧)"]
"نووی کہتے ہیں کہ ترحم و ترضی صحابہ و تابعین و نیز تبع تابعین کے لیے مستحب ہے۔" (١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٣٧٣:٢)
"یہ تخیلی قوت کبھی حسی تجربے کی ترفیع کر کے اس کی حدیں افکا سے ملا دیتی ہے۔" (١٩٦٩ء، صحیفہ، لاہور، جنوری، ٣٦٣)
"ترفیل والا رکن مرفل بتشد ید فا ہے۔" (١٨٧١ء، قواعد العروض، ٤٨)
"رشک و مسابقت ترقع و حریت اور عدم قناعت کے جذبات جو لوازم تمدن ہیں رضا و تسلیم کے دشمن ہیں۔" (١٩١٩ء، تاریخ اخلاق یورپ، ٤٤:٢)
"وکیل سرکار ابد قرار نے کہا۔" (١٨٨٨ء، اختر شہنشاہی، ٩٨)
"یہ تینوں محبت بھرے جوڑے . ترقی کن زمانہ کے ہمت طلب اثر میں تمام و کمال آ گئے ہیں۔" (١٩٣٠ء، مس عنبرین، ١٢١)
"اس میں کرانچی بڑا مشہور اور ترقی یاب بند رہے۔" (١٨٨٣ء، جغرافیہ گیتی، ٨٧:٢)