"غلامی کے عمل کو قائم و دائم رکھنے کے لیے وہ رعیت کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہے۔" (١٩٨٦ء، تاریخ اور آگہی، ١١١)
"وہسکی کا زہریلا پن خلیوں میں محفوظ آکسیجن کا گلا گھونٹ رہا ہے۔" (١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٨)
"اگر ایک جوڑ کے پانسوں کی تعداد دوسرے جوڑ کے پانسوں کے برابر ہے تو جہاں پناہ اس کو بازی قائم قرار دیتے ہیں۔" (١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٢٦٥:١/١)
"طاقت کا غرور وہ زہر ہلاہل ہے جس سے ہر نمرود خدائی کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔" (١٩٨٧ء، سخن در سخن، ٣٥)
لذت کو قند و شہد کی کیا جانے زہرکش اس کا رہے ہے کام و دہن جو مدام تلخ (١٨٠٩ء، جرات، کلیات، ٢٩٢)
"انہوں نے اپنے زہر آلود طنزیہ تیروں سے اسے موت کے گھاٹ اتارنا چاہا۔" (١٩٨٣ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ١١٤)
"زہد و ورع اور تقویٰ اپنی جگہ مگر طلبہ اور اساتذہ کے کرکٹ میچ میں لڑکوں نے ڈاکٹر صاحب کے پیروں میں بھی پیڈ باندھے۔" (١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ١٧)
وہ عقدہ کشائی ہو یا قلعہ کشائی ہو ہر معرکہ حیدر کو اک بازی طفلاں ہے (١٩٣٦ء، منظور رائے پوری (ہفت روزہ، نظارہ، لکھنو، ١٣، رجب نمبر، ١٧))
"ان حالات میں مقتدایان مذہب زہد فروشی اختیار کر لیتے ہیں اور مذہب کی آڑ میں دنیوی اغراض کی پرورش کرنے لگتے ہیں۔" (١٩٧٣ء، عام فکری مغالطے، ٤٧)
"زمانہ نے زمام اختیار شیر شاہ کے ہاتھ میں دی۔" (١٨٧٩ء، تاریخ ہندوستان، ٣٢٣:٣)
نسیم صبح کے جھونکوں کی عطر افشانی یہ طائران نوازن کی زمزمہ خوانی (١٩٢٢ء، مطلع انوار، ٢٧)
موت کی ترجمانیاں رشک صدائے صور تھیں زمزمۂ حیات بھی غم نے ترے سنا دیا (١٩٢٩ء، شبنمستان، ٢٤)
"ان کی زمزمہ پردازیوں کا نیا مجموعہ زبور عجم کے نام سے عنقریب سامعہ نواز ہونے والا ہے۔" (١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٣٢٨)
"میں جس زیارت کدہ میں بھی جاتا ہوں میرا مقصد تیری ملاقات ہے۔" (مشاہیر سرحد، عبدالقیوم، ٩٨)
"اس نے (گیلیلیو گیلیلائی) رقاص کی ہم زمانیت کا اصول دریافت کیا۔" (١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٩٨)
"اب زمان و مکان، حیات و کائنات، فلسفہ و اخلاق . کوئی ایسا موضوع نہیں جو غزل کے دائرے سے باہر ہو۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، مارچ، ٢٤)
"باسکٹ بال میں اس سال یونیورسٹی ٹرافی ہمارے ہاتھ رہی۔" (١٩٦٢ء، تعلیم و تہذیب، ١٣١)
"بہرحال اس وقت زمام کار عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہے۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٨، جنوری، ٣)
"ادب کی دنیا میں زمام حکومت آپ نے سنبھال رکھی ہے۔" (١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ١٣)
پھیلیں تو زمردی فضائیں آنکھوں سے لگائے مسکرائیں (١٩٨٤ء، سمندر، ٤٢)
"سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، انناس پلاؤ، زمردی پلاؤ، مزعفر لیجیے ایک پلاؤ ہی کی کتنی قسمیں نکل آئیں۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١٣)
تمہارے آرزو انگیز زمزمستان میں وفور عیش ہے افراط ناز و نعمت میں (١٩٧٤ء، برگ خزاں، ٦٠)
"حجر اخضر . ارسطو نے لکھا ہے کہ اگر اس پتھر کو تراشیں پس اگر اس کا تراشہ سفید برآمد ہو، اپنے پاس رکھے اور جو درخت بووے یا زراعت کا شغل کرے اس کی بیخ میں اس پتھر کو پارچہ میں باندھ کر اس زمین میں دفن کریں تو نبات پوری ہو گی۔" (١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٢٨٦)
"خمیری روٹیاں - ٹھنڈی ہو کر اینٹھ اور ان میں باسی پن پیدا ہو گیا تھا۔" (١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٣٠)
"حجم نگار کے ذریعے جو ارح میں سے خون کے بہاؤ کی تعیین کی جا سکتی ہے۔" (١٩٤١ء، تجربی فعلیات، ١٩٣)
دو خانگی سپاہ کی ٹکر ہے آ پڑی پھیلی ہے جس سے ملک میں حد درجہ ابتری (١٩٨٤ء، قہر عشق، ٦١)
"چالان کی کتاب . نکالتے ہوئے کہا، تم نے بورڈ نہیں دیکھا جس پر لکھا ہے کہ حدِّ رفتار پچیس میل۔" (١٩٨٠ء، خمار گندم، ٢٩١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"انھوں نے . سید وحید الدین احمد صاحب بیخود حاضر الوقت سے یہ سطریں لکھوائیں۔" (١٩١١ء، محاکمۂ مرکز اردو، ٣١)
"کچھ خبریں بھی ہوتی تھیں جو قلیل اور باسی ہونے کے باوجود صحت کے لحاظ سے قابل اعتبار سمجھی جاتی تھیں۔" (١٩٣١ء، انگریزی عہد میں ہندوستان کے تمدن کی تاریخ، ١٢١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"حجاب دو قسم کا ہوتا ہے ایک حجاب رینی، یہ وہ حجاب ہے جس سے ہم اللہ کے ساتھ پناہ مانگتے ہیں دوسرا حجاب غینی ہے یہ جلد دفع ہو جاتا ہے اس کی تصریح یوں ہے کہ ایک انسان وہ ہے کہ اس کی ذات تصدیق حق کے لیے جب حجاب ہو جاتی ہے تو اس کے نزدیک حق و باطل برابر ہوتا ہے۔" (١٩٧٣ء، کلام المرغوب، ٧١)
ہر اک ادارہ ملی ہے اک حجامت گھر کہ ہو رہی ہے جہاں ملک و قوم کی اصلاح (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٧٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"حجر احمر۔ ارسطو نے لکھا ہے یہ سنگ سرخ ہے اس کو بھی تراشتے ہیں اگر تراشہ اس کا سفید رنگ ہو تو جو شخص اس کو اپنے پاس رکھے جو کام کرے وہ پورا ہو . خلق خدا کی نگاہوں میں عزیز کرتا ہے۔" (١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٢٨١)
"بے شک . تمھاری حاضر دماغی کا میں قائل ہو گیا۔" (١٩٦١ء، ہالہ، ٢٦)
"مزاج شناس و حاضر طبع و زیر سعداللہ خاں نے مسکرا کے دست بستہ عرض کیا۔" (١٩٢٥ء، مینا بازار، شرر، ٧)
[" رسول شاہد و مشہود و حاضر و غائب نشان راہ ہدایت ہیں جس کے نقشِ قدم (١٩٦٦ء، منحمنا، ١٧)"]
"چھوٹی عمر میں نصیحت اور تعلیم کا گہرا اثر دل پر ہوتا ہے . مثلاً خدا کو حاضر و ناظر جاننا۔" (١٩٣٤ء، حیات محسن، ١٠٥)
"کوئی حاضری کا رجسٹر تو تھا نہیں اور نہ غیر حاضری کا جرمانہ دینا پڑتا تھا۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ٩٤:١)