"اسے بتایا گیا تھا کہ جہاں وہ جا رہا ہے وہاں دودھ کی نہریں ہوں گی، انگوروں کے خوشے ہوں گے۔" (١٩٧٩ء، بدن کا طواف، ٧٠)
"صاحب آپ نے یہ خوبصورت ہار جن پھولوں سے بنایا ہے وہ میری دودھ بہن مالتی کو بہت بھاتے ہیں۔" (١٩٢٩ء، ناٹک کتھا، ٣٧)
"جہاں دو گھڑی کو بیٹھ جاتے ہیں اپنے سفر کے حالات . سنانا شروع کر دیتے ہیں۔" (١٩٢٣ء، شرر، مضامین، ١، ٤٧٤:٢)
"افتخار جالب جنھوں نے ظفر اقبال کو صاحبِ عہد لکھ کر ہر سنکی پن کو لسانی تشکیلات کا کامیاب تجربہ قرار دے دیا ہے۔" (١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ١٦١)
"سنسنی خیز کی ترکیب سے تو سنسنی پڑ جاتی ہے۔" (١٩٨٧ء، اردو، کراچی، اکتوبر تا دسمبر، ١٠٢)
"سنسر بورڈ میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اراکین لیے گئے ہیں۔" (١٩٧٣ء، پیمان، کراچی، اگست، ٣٧)
"انگریزی اخبارات کی انگیخت پر سنسر شپ عائد کر دی۔" (١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور، اگست، ١٠)
"ایسے دنیا طلب اشخاص اس سے یہ فائدہ اٹھاتے ہیں کہ تحقیق کے نام پر کاروبار بلہوسی میں لگے رہتے ہیں۔" (١٩٧٥ء، اردو تحقیق اور مالک رام، ٧)
"کلوابکا کے بالائی حصہ میں جا کھلتا ہے۔ کلوابکا کے زیریں حصے پر ایک دو پارہ تھیلی نما مثانہ کھلتا ہے۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٦٩)
"یہ سب ان کالج کے لونڈوں کی بد ذاتی کا نتیجہ ہے . ان کی ذہنیت ہی دنگ فساد کی ہے۔" (١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٢٨)
"دنیا جہاں میں پھرنے کے بعد یہاں انہیں سکون میسر آیا تھا۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ٢٩٩)
"سناے مکی باریک کرکے گلقند ملا کر کھلائیں۔" (١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ) ٣٢٥:٢)
"ان کے ہاتھ پتھروں کے بوجھ سے سن ہو رہے تھے۔" (١٩٨٧ء، افکار، کراچی، جولائی، ٥٢)
"دعائے استسقا کے لیے آتے ہیں۔" (١٨٥١ء، ترجمہ عجائب القصص، ٦٧٣:٢)
"ارے سن سن: اونا سوت کے رہنے والے محوسات و نظرت کے پندوں کے قیدی۔" (١٩١٩ء، آپ بیتی، خواجہ حسن نظامی، ١٣٥)
"جس کا بہت کچھ کریڈٹ اس کے مخلص اور ایثار پیشہ بانی یا بانیان کو پہنچتا ہے۔" (١٩٨٥ء، تخلیقات ونگاراشات، ٧٧)
"فون کا ریسیور ابھی تک اپنے کریڈل سے نیچے گرا ہوا تھا۔" (١٩٨٧ء، افکار، کراچی، اگست، ٨٩)
"فون پر کسی جہاز کے کریش ہونے کی خبر آئی۔" (١٩٨٨ء، صدیوں کی زنجیر، ٣٣٦)
["\"اور اگر مانگ سکتا ہے تو کریموں ہی سے۔\" (١٩٦٥ء، مقام غالب، ١٠١)"]
"ابتدا میں دودھ کا اخراج پتلا اور سرخی مائل رنگ کا ہوتا ہے۔ جو بعد میں کریم کی طرح گاڑھا اور اس کی رنگت زرد ہوتی ہے۔" (١٩٨٠ء، جانوروں کے متعدی امراض، ٨١)
جواب دیتی ہے طاقت بھی ہائے پیری میں بہت کڑے ہیں یہ دن جانِ ناتواں کے لیے (١٨٨٨ء، صنمخانۂ عشق، ٢٩١)
تمہیں ہم دیں گے لمبے لمبے چاقو پلائیں گے تمہیں کڑوا تمباکو (١٩٧١ء، انداز بیاں اور، ١٥٩)
"پھر اسے کوئی انجانا کڑوا کسیلا سا احساس ہونے لگا۔" (١٩٨٧ء، پھول پتھر، ١٣٤)
"مولانا کے کریکٹر میں تین چیزیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔" (١٩٥١ء، خطبات محمود، ٦٤)
"کرہ ارض اور خود انسان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انہیں کائنات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔" (١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٤٤٦)
"مرد اور خواتین کالج کے اس شریفانہ طریقۂ عمل سے بخوبی واقف تھے اور کارکنان کالج کی ان ہی صفات اور سلوک کے مداح تھے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٩٣)
"کہاوتیں ضرب الامثال بات کو . دل نشیں بنانے کا بڑا کارگر وسیلہ سمجھی جاتی ہیں۔" (١٩٨٦ء، فورٹ ولیم کالج تحریک اور تاریخ، ١٨٩)
"ان کو اعتراف تھا کہ ان بیٹا جھلاّ اور کڑوے مزاج کا ہے۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٩١)
" "اچھا، چل اٹھ، بہت باتیں نہ بنا، بڑ بڑ نہ کر" اس کے مزاج کا کڑوا پن از سر نو عود کر آیا تھا۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ١٠٨)
"نوالہ منہ میں ڈالا تو کڑوا زہر تھا، کوئی اور ہوتا تو نوالہ تھوک دیتا۔" (١٩٧٨ء، روشنی، ٤٢٩)
" "لیوبا" کریب کے نیلے مہکتے ہوئے فراک والی لڑکی نے جواب دیا۔" (١٩٧٠ء، قافلہ شیہدوں کا، ٤٩٠)
"بلّو نے کراٹے کے انداز میں پھدک کر ہاتھی کی ٹانگ پر ایک ضرب لگائی۔" (١٩٨٩ء، افکار، کراچی، اپریل، ٧٠)
"کام کرتے ہوئے کرنٹ کو کوائل اے کے ذریعے گزارتا ہے۔" (١٩٨٥ء، رنگین ٹیلی ویژن، ٦٣)
"انہوں نے ہمیں کروڑ پتیوں کے کرنٹ اکاؤنٹ کی جھلکیاں دکھائیں۔" (١٩٧٦ء، زر گزشت، ٦٥)
"مستند فن کو تنقید کا موضوع نہ بنایا جائے تو اسے ہم "صرف شدہ" ادیب ہی کہیں گے، کرنٹ (Curent) رہنے کے لیے ایک ادیب کو نئے رجحانات اور خیالات سے منسلک رہنا ضروری ہے۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، جون، ١٣)
"دیگر معدنیات میں پارہ، سم الفار، باکسائیٹ (Bauxite) کرومائیٹ، کوئلہ، کو بالٹ، تانبا، سیسہ، میگنیشیئم، قلعی، جست وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ،٣، ٦٦١:٢)
"ہمیشہ نخزمایہ مرکزہ کے کرومیٹن (Chromatin) میں پایا جاتا ہے۔" (١٩٦٦ء، مبادی نباتیات، ٦٧١:٢)
ذوق جلدی مئے گلرنگ سے بھر ساغر مل لب نازک کو ہے اس کے ہوس جام شراب (١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ٩٣)
میرے محبوب، خدا کے لیے افسردہ نہ ہو لب لعلیں سے تبسم کی امانت مت چھین (١٩٨٧ء، تذکرۂ شعرائے بدایوں (اظہر) ٩٣:١)
گرچہ لب بوسی نہ پاؤں پائے بوسی بس ہے مج تج محبت کوں صنم پست و فرازی ہے مباح (١٦٧٢ء، شاہی، دیوان، ٢٥)