"غنچے کی لب بندی اور خاموشی اس کے حسن کا احساس عطا کرتی ہے۔" (١٩٨٧ء، مرزا غالب اور مغل جمالیات، ٥٠)
دل معنی رنگیں سے لب ریز ہے سودا کا اس غنچے میں پھولے ہے گلزار بہت تحفہ (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٧٦:٢)
"الاؤ کے گرد دائرہ تنگ ہونا شروع ہو گیا کہ قصہ خواں لب کشا ہوا تھا۔" (١٩٩٢ء، اردو، کراچی، اپریل تا جون، ١٤٧)
"میرا لب کشائی کرنا پھول پر عطر ملنے کے مترادف۔" (١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٨٥)
"اس کا لب و لہجہ بہت ہمددردانہ ہو گیا۔" (١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٧٠)
"تاروں کی تھکی ماندی روشنی میں سارا شہر تاریک و لب مرگ معلوم ہوتا ہے۔" (١٩٦٣ء، دلی کی شام، ١٣)
"فن کے پس منظر میں جہاں "لب و رخسار کی نرم و نازک چاندنی" گیسوؤں کے خنک سائے، نغموں اور "عشق و مستی" میں "انفرادیت" کچھ عرصے کے لیے کائنات کا دکھ درد بھلا دیتی ہے۔" (١٩٥٩ء، نبض دوراں، ١٤)
لب و دہن میں بھی ملا گفتگو کا فن بھی ملا مگر جو دل پہ گزرتی ہے کہہ سکوں بھی نہیں (١٩٧٨ء، جاناں جاناں، ١٤٢)
"قوم میں انسانیت اور لاج شرم نہیں ہے۔" (١٩٨٩ء، نگار، کراچی، جولائی، ٧)
"ماڈرن لڑکی کی طرح ہمیشہ بک بک کرتے رہنا، بغیر لاجک کے۔" (١٩٨٨ء، ایک محبت سو ڈرامے، ٣٠٤)
"آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچی جلسوں، جلوسوں، اشک آور گیس، لاٹھی چارج . سے ہوتی ہوئی ساحل مراد تک آئی۔" (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر (دیباچہ)، ٩)
"لیبر پارٹی میں لارڈ اور سر نہیں ہیں۔" (١٩٨٩ء، نگار، کراچی، جولائی، ١٥)
"اسکول کے نہایت عام بارہ مشاغل میں سے چھ ایسے ہیں جن میں وہ تفریح میں براہ راست شرکت کرتے ہیں۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٣٦٨)
"انیس ناگی غالب کی خاندانی ازدواجی . اور لاولدیت کے معاملات . زیر بحث لائے ہیں۔" (١٩٨٦ء، غالب ایک شاعر، ایک اداکار، ٨)
"نادانستگی اور لاعلمی سے ان کی نیک نامی میں بٹا لگانے کے موجب بنے۔" (١٩٨٧ء، غالب فکرو فن، ٩١)
"مسلمانوں کے لیے کون سا راستہ سب سے زیادہ قابل عمل ہو گا . ہندو انتہا پسندوں سے انقلابی لاقانونیت میں تعاون کرنا۔" (١٩٨٩ء، برصغیر میں اسلامی جدیدیت، ٢٦٩)
[" میں ترا عبد تو مرا معبود ایک محدود ایک لا محدود (١٩٨٣ء، حصارانا، ١٣٧)"]
"جس زمیں کے ردیف قافیہ میں مضمون سمجھانے کی اہلیت نہ ہو اُسے سنگلاخ زمین کہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٩٥)
["\"یہ خطہ جغرافیائی اعتبار سے سنگلاخ پہاڑی سلسلوں میں گھرا ہوا ہے۔\" (١٩٨٠ء، خوشحال خان خٹک، ٤)"]
سزائے نذرِ آتش ہو کہ حُکم سنگ باری ہو خدارا حکم فرمائیں کہ کارعِدَل جاری ہو (١٩٨٤ء، سمندر، ٧٤)
"مسلمان صوبہ داروں ہی نے بلند، سنگ بستہ پُشتے بنوائے تاکہ برسات میں آمد و رفت جاری رہے۔" (١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانانِ پاکستان و بھارت، ٢١٩:١)
"پھر سنگ بنیاد نصب کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔" (١٩٤٣ء، حیاتِ شبلی، ٤٨٣)
"جوگیوں نے اپنے فن یا منتر سے سَنگ چور سانپ کو زیر نہیں کیا۔" (١٩٧٨ء، حریت، کراچی، ٩ فروری، ٦)
"انہیں غیر نامیاتی اشیاء کا نام دیا گیا مثلاً خوردنی نمک، سنگِ مرمر، سوڈا . سب غیر نامیاتی اشیا کہلاتی تھیں۔" (١٩٨٥ء، نامیاتی کیمیا، ظہیر احمد، ٥)
"لڑکیوں کے سنگ گیند بلّا کھیلتی ہے۔" (١٩١٤ء، راج دلاری، ٣)
"انہوں نے وہ جگہ کھودی تو وہاں سے ایک سنگاردان برآمد ہوا جوہر مزان کی ملکیت تھا اور موتیوں سے بھرا ہوا تھا۔" (١٩٨٨ء، فاران، کراچی، نومبر، ٨)
دل تو پھر دل ہے ٹوٹتا ہے اگر سنگ سے بھی نکلتی ہے آواز (١٩٥٧ء، نبضِ دوراں، ٢٩٤)
"سنگ زنی اور کلوخ اندازی نہایت قابِل قدر فن سمجھا جاتا تھا۔" (١٩٣٢ء، افسر الملک، تفنگ بافرہنگ، ٤)
"بہت سے ان پتھروں سے سنگ سار ہو کر یوں کے یوں ہی رہ گئے، ہزاروں آدمیوں کا دم خاک کے اندر گُھٹ گُھٹ کر نکل گیا۔" (١٨٩٠ء، جغرافیۂ طبیعی، ١٠٥:١)
فراز اپنا مقدر سنگساری ہمیں اس عہد کے آئینہ گرہیں (١٩٨٦ء، بے آواز گلی کوچوں میں، ٢٠)
"اس پتھر (سنگِ ستارہ Chrysoprse) کو اردو میں سنگ ستارہ کہتے ہیں۔" (١٩٨٢ء، قیمتی پتھر اور آپ، ١٠٦)
"سنگِ مرمر سے بے نیاز، وہ اپنے سنگ سرخ میں مگن ہے۔" (١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٢٧)
"حکومت کا ریڈیو ڈیپارٹمنٹ ہندی کی راہ میں سنگ گراں بنا ہوا ہے۔" (١٩٧٦ء، ہندی اردو تنازع، ٤٢٧)
"اب ویرانی و بربادی میں مشہور دور و نزدیک ہے۔" (١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٤)
"جو مغربی یونیورسٹی کی طرح اعلٰی درجے کی علمی تحقیق پر سندِ فضیلت (Doctorate) دیا کرے۔" (١٩٣٩ء، تنقیحات، ٢٨٨)
"ہر مزید کوشش ابتدائی کوشش کے لیے ایک سندِ جواز ہے۔" (١٩٧٦ء، اقبال، شخصیت اور شاعری، ٧١)
"روایت کیا اوس کو احمد اور ابوداؤد اور نسائی اور ابن ماجہ نے ساتھ سند متصل کے اور رجال اوس کے رجال حدیثِ صحیح کے ہیں۔" (١٩٦٧ء، نورالہدایہ، ١٥:٢)
"ہم میاں بیوی کو ہمدردی بدرجۂ اتم ہو گئ تھی۔" (١٩٥٨ء، شمع خرابات، ٢٢٦)
"یہ لوگ تم سے مفت محنت لیں گے، تمہاری سنوائی نہیں ہو گی۔" (١٩٦٤ء، معصومہ، ٢٠١)
"مدعیہ کی طرف کے کونسلی نے یکے بعد دیگرے اپنے گواہوں کو سنوانا شروع کیا۔" (سوانح عمری مولانا آزاد، ١٥٦)