"ہمارے شاعروں کی تخئیلی شریں دہنی بس وہیں سے لباس مجاز میں آتی ہیں۔" (١٩٦٩ء، سات سمندر پار، ٢٠)
"یہ سب لباس فاخرہ میں میلی بھیڑیں ہیں الہ العالمین ان کی خطا سے در گزر کرنا۔" (١٩٨٣ء، سرو ساماں، ٤٦٣)
"کچھ عمر کا تقاضا اور کچھ متواتر بیماری کی کھکھیڑ اس پر یہ عمل جراحی بہت کمزور ہو گئے۔" (١٩٧٤ء، وہ صورتیں الٰہی، ١٣٠)
"نخز سمیہ اپنے ماحول کے نامیاتی مرکبات سے کیمیائی مادے حاصل کرکے عمل تولید کو جاری رکھتا تھا۔" (١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ١٣٣)
"جراثیمی بذرے جراثیم کی حالت سکون (Restling Stage) کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اس زمانے میں ان کی تیز خلوی تقسیم کم ہو جاتی ہے اور عمل تنفس بھی بالکل محدود ہو جاتا ہے۔ (١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ٧٩)
"غالباً اسے وہ ثقیل ہی مانتا تھا آج کل اسی کو عمل تکسید کہتے ہیں اسٹال کے نزدیک دھاتوں کی تکسید تحلیل کا عمل تھا۔" (١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٢٢١)
"ایک مصنوعی بولی کی بنیاد ہی اسی عمل تقلیب پر ہے اس میں ہر لفظ کی ترتیب حرفی الٹ دی جاتی ہے۔" (١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ٢٩٥)
"کسی مائع میں سے غیر حل پذیر کثافتوں کو علیحدہ کرنے کا زیادہ بہتر اور سائنسی طریقہ یہ ہے کہ اسے ایک مسام دار کاغذ میں سے گزارا جاتا ہے جسے فلٹر پیپر کہتے ہیں اور یہ عمل عملِ تقطیر (Filtration) کہلاتا ہے۔" (١٩٧١ء، عملی کیمیا، ١١)
"یہ جملہ ایک عمل تسخیر تھا عہد و پیماں عزم و ثبات کا قلعہ بات کی بات میں مسخر ہو گیا۔" (١٩١٥ء، فلسفۂ اجتماع، ٢)
"آخری مصرعوں میں تو یہ Grow کر کے عمل ترفع Transformation بن جاتا ہے۔" (١٩٨٦ء، سلسلہ سوالوں کا، ١٤٤)
"اس کا عمل تخلیق شروع ہو جاتا ہے۔" (١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ١٣٩)
"ارضیائی عہد میں سندھ کا میدان بلند ہوا جس پر دریاؤں نے فوراً اپنا عمل تجدید شروع کر دیا اور چکنی مٹی . وغیرہ جمع کرتے رہے۔" (١٩٧٧ء، معاشی جغرافیۂ پاکستان، ٢٩)
"عمل تبخیر Evaporation وہ عمل ہے جس سے کسی مائع کو گرم کرکے بخارات میں تبدیل کرکے اڑا دیا جاتا ہے۔" (١٩٧١ء، عمل کیمیا، ١٩)
"ڈاکٹر صاحب مثبت فکر اور عمل پیہم کے حامل تھے۔" (١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٢٥)
"انہوں نے سادگی اور سادہ دلی کو اپنی وضع ٹھہرا لیا تھا، ساری زندگی اسی پر عمل پیرا رہے۔" (١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ١٣)
"زینیا بڑی عمل پسند ہستی تھی، بولی ہمارے گھر کے گملوں میں ترکی ٹوپیاں کھل گئی ہیں۔" (١٩٨٣ء، ڈنگو، ٩٤)
"ان جراثیم کی تولید عمل پارگی (Fision) کے ذریعے ہوتی ہے۔" (١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ١٤٩)
"تمام سیالات عمل انتقال کے ذریعے حرارت قبول کرتے ہیں۔" (١٩٢٤ء، جغراِفیۂ عالم (ترجمہ)، ٥١:٢)
ذرا سن داستان عمر رفتہ چھیڑنے والے مجھے اب بھی ہر اک ذرہ جواں معلوم ہوتا ہے (١٩٨٣ء، حصارانا، ١٥٧)
"خضر کی شخصیت ایک خاص قسم کی شخصیت ہے وہ عمر دوام کی وجہ سے زیادہ تجربہ کار آدمی ہے۔" (١٩٨٧ء، صحیفہ، اقبال نمبر، اکتوبر، دسمبر، ٧٩٩)
"اللہ نے انسان کو بڑی مختصر عمر عطا کی ہے، اگر خدا اسے عمر جاوداں عطا کرتا تو انسان اس سے بھی زیادہ ذوق و شوق کا مظاہرہ کرتا۔" (١٩٨٣ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ١٦٢)
"تین دن تک انہیں عمدہ عمدہ کھانے کھلائے گئے۔" (١٩٤٥ء، الف لیلہ ولیلہ، ٧:٦)
"قربانی کے جانوروں کے ہڈیای پھینک دی جانی چاہئیں یا دفن کر دینی چاہئیں? وعلٰی ہٰذا القیاس۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٧٧)
"علٰی ہذا اسی خطبے میں حضور سرورِ کائنات کا یہ ارشاد بھی ملتا ہے کہ سلسلۂ نبوت مجھ پر ختم ہے۔" (١٩٨٨ء، فاران، کراچی، جولائی، ٨)
"عَلٰی حتّٰی، اِلٰی . ان سے مرکب کچھ اجزا یہ ہیں: . علٰی سبیل الَتّعین علی وجہ البصیرت۔" (١٩٧٤ء، اردو املا، ٥٨)
جب سنی اخوند نے لُر کی صدا تب کہا اس کی علی اللہ اے گدا (١٨٩٩ء، مثنوی نان و نمک، ٥٩)
"ان کی مسلسل محنت، ان کا علی الصباح بیدار ہو کر سمندر کی سیر کو جانا . یہ تمام باتیں میرے لیے بڑی حیرت کا باعث تھیں۔" (١٩٦٠ء، آنکھیں ترستیاں ہیں، ٧٥)
"جو رشتہ مضبوط اور نزدیکی ہو وہ سب سے زیادہ معظم ہے علی الترتیب وغیرہ وغیرہ۔" (١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٢٢٦)
"دوسری قسم کا فلسفہ . جو تنقیدی تجزیے کی الاعلان مخالفت کرتا ہے۔" (١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے۔ ١٠٧)
"وہ تو حکیم الاطلاق ہے اس کا کوئی کام . حکمت سے خالی نہیں ہو سکتا۔" (١٩٨٨ء، فاران، کراچی، جولائی، ٣٨)
"متعلمین عالم میں مقتدر تھے محصلہ سندوں کے علاوہ سب سے ممتاز سند علیگ تھی۔" (١٩٢٩ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٤، ٣٢:٤)
"اس طرح نشاستہ اور مالٹ علیحدہ علیحدہ ہو جاتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، نامیاتی کیمیا، ٢٠٦)
"نئی عالمگیر جنگ کا ہولناک اندیشہ دنیا کے ہر انسان کے دل میں ایک سوالیہ علامت بن گیا ہے۔" (١٩٨١ء، تشنگی کا سفر، ٩٦)
"بخاری کے سر پر جو بال سوالیہ فقروں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں وہ ہم سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ یارو کچھ تو کہو یہ بخاری کیا ہے۔" (١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ١٣٩)
"ایک سانولے رنگ کی چوڑی ہڈیوں والی عورت سوپ میں دھان پھٹک رہی تھی۔" (١٩٨٥ء، کچھ دیر نیند پہلے نیند سے، ١٠٨)
"غذا ٢ ستمبر ١٩٨٧ء کو "بند تھی صرف ڈرپ کے ذریعے دوائیاں دی جارہی تھیں، ناک کے ذریعے سوپ نلکی سے پہنچایا جارہا تھا۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٥٠)
"اردو میں مولانا حالی کو باضابطہ سوانح نگاری کا بانی سمجھا جاتا ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٠٤)
"لڑکیاں سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی ہیں۔" (١٩٨٦ء، قطب نما، ٢٧)
"آٹھ بجے پاکستان کی خبریں سننے سارے گھر والے اکھٹے ہوئے خبروں کے بعد سب کے چہرے سوالیہ نشان بنے ہوئے تھے۔" (١٩٨٨ء، صدیوں کی زنجیر، ٦١٧)
"چرس کا "سوٹا" لگا کر دنیا و مافیہا سے بے خبری کے عالم میں چلے جانا اُن کے لیے زندگی کی دشواریوں سے فرار کا ایک محبوب وسیلہ بن گیا ہے۔" (١٩٧٥ء، شاہرا انقلاب، ٤٣٦)