"عورت نے بھی دائیں ہاتھ میں ایک سوٹ کیس اٹھا رکھا تھا۔" (١٩٨٧ء، گلی گلی کہانیاں، ١٩)
"میں جسے تقدیر نے ہمیشہ اپنا سوتیلا لڑکا سمجھا تھا اس وقت زندگی میں پہلی بار خالص مسرت کا لطف اٹھا رہا تھا۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ١٠٥:١)
"اتنے بہت سے سوالات غالب کے ذہن میں کیوں کر پیدا ہوئے کیا اس لیے کہ وہ سوالیہ موڈ میں پیدا ہوتے تھے۔" (١٩٨٥ء، نقدِ حرف، ١٢)
"اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا، اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے۔" (١٩٧٨ء، سیرتِ سرورِ عالمۖ، ١٦:٢)
آتے ہی یہ سوال کیا کوتوال نے خِدمت کا سوتا جگایا سوال نے (١٩٣٦ء، جگ بیتی، ٢٨)
"وہ تخلیق کا سوتا ہے۔" (١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٤٧)
"سوت شادی بیاہ وغیرہ کے موقع پر گایا جاتا ہے۔" (١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ١٥٩)
اک سوت کی اٹّی مرے سانسوں کا اثاثہ اور یوسفِ ہستی کا خریدار ہوں میں (١٩٨٤ء، الحمد، ١٧)
"حساباتِ شماریات اور ہندسوں میں گھرے ہوئے لودھی صاحب کا ذہنی افق کس قدر وسیع ہے۔" (١٩٨٦ء، قومی زبان کے بارے میں چند انٹرویو، ٢٣:١)
"عالم اسلام میں ذہناً و مذہباً دونوں پہلوؤں سے ان غلط رحجانات اور باطل تصورات کی تردید ہوتی رہی جن میں ذہنِ انسانی اکثر گرفتار ہو جاتا ہے۔" (١٩٥٧ء، مقدمہ تاریخ و سائنس (ترجمہ)، ١)
"جلد ہی وہ (میری بارنز) نارمل زندگی گزارنے کے قابل نہ رہی اور اُسے جدید طرز کے ذہنی امراض کے شفا خانہ میں داخل کرا دیا گیا۔" (١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ٥٤)
"حالی کی مشور و معروف نظم "مدو جزرِ اسلام" . کے نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں، لوگوں نے ہیئت پرستانہ ذہنیت کے پیش نظر اس کے متن اور نفس مضمون سے زیادہ اسکی ظاہری شکل میں دلچسپی لی ہے . اس طرح کی باتوں سے نہ صرف خالص ہیئتوں کو اضافہ کا درجہ ملا بلکہ ذہنی انتشار اور پراگندگی کا ماحول بھی پیدا ہوا۔" (١٩٨٣ء، اَصنافِ سخن اور شعری ہئتیں، ١٩)
"ذِہنی آزمائشوں کا استعمال سب سے پہلے ١٨٣ میں فرانسس گالٹن نے انگلستان میں کیا تھا۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ١٤)
"ذہنی بُلُوغت" یا لفظی قالب" دو دو الفاظ کی تراکیب ہیں۔" (١٩٨١ء، فرض دوستاں، ٩٣)
"کارخانہ دار ذہنی تحفظات ترک کرکے خلوصِ دل سے لیبر اصطلاحات پر عمل کریں۔" (١٩٧٢ء، جنگ، کراچی، ٢٩، اکتوبر، ١)
"ان سے دماغی ورزش تو ضرور ہو جاتی ہے لیکن ذہنی تفریح یا احساس حقیقت سے اسے کوئی تعلق نہیں۔" (١٩٨٧ء، نگار، کراچی (سالنامہ)، ٦١)
"اردو شاعری کے مزاج کا سراغ لگانے سے بقول خود انہیں (ڈاکٹر وزیر آغا) "ایک طویل ذہنی ریاضت کرنا پڑی۔" (١٩٨٦ء، اُردو گیت، ٢١)
"اُنکی (بخشی صاحب) ذہنی ساخت چانکیہ کے بے رحم سیاست کار کے قالب میں ڈھلی تھی۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٦٤)
"اگر وہ (بچہ) ان تمام امتحانوں میں کامیاب ہو جاتا ہے جو ١٠ سال کے معیار سے منسوب ہوتے اور ١ سال کے معیار سے منسوب کسی امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا تو اسکی ذہنی عمر ١٠ ہوتی ہے خواہ اس کی زمانی عمر (زع) کچھ ہی کیوں نہ ہو۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٥٠)
"سجاد ظہیر نے اُن کی (اپنے ناولٹ "لندن کی رات" کے کردار) کا بھی تجزیہ کیا ہے اور اس ذہنی کشمکش کا جائزہ لیا ہے جس میں اس وقت کا نوجوان طبقہ گرفتار تھا۔" (١٩٧٠ء، آجکا اردو ادب، ٢٠٢)
"اقبال کے مخاطب خاص، یعنی ملت اسلامیہ کے صالح عناصر نے اقبالیات کو اس کی پوری روح اور جوہر کے ساتھ مدون نہیں کیا تو کثرتِ تعبیر ہا؛ کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جائے گا اور انجام کار ملّت اسلامیہ ذہنی یگانگت کے بجائے ذہنی انتشار سے زیادہ قریب ہو گی۔" (١٩٨٥ء، تفہیمِ اقبال، ١١١)
"تنقید کا یہ رُخ کسی عداوت پر مبنی نہیں ذہنیت عامہ کی اصطلاح کا ایک طریقہ ہے اور تنقیص کی مدد سے رائج الوقت تحسین و تمدیح کو تنقید کی شکل دینا ہے۔" (١٩٨٣ء، بت خانہ شکستم من، ١٢)
"ذی اثر لوگ زمیندار یا جاگیر دار اپنی دولت کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیاب ہو جاتے تھے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٥٨:٣)
"ان ہی سے ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ . کس طرح شوریٰ سے معاملات طے کریں۔" (١٩٧٢ء، سیرتِ سرور عالم، ٢٤٣:١)
|دیباچہ نویس حضرات بہرحال اہل قلم، لہٰذا خدا کے بعض برگزیدہ بندوں میں سے ہیں . زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔" (١٩٥٨ء، پطرس، کلیات، ٢٤٢)
"یہاں سے آپ گلاب جامن، رس ملائی . ہی نہیں دہی بھلے آلو چھولے، سموسے، نمکین دالیں اور سویاں وغیرہ بھی خرید سکتے ہیں۔" (١٩٧٣ء، دنیا گول ہے، ٣١٩)
کیا کہوں عالم ایجاد میں کیا کر آیا دہن گور تھا خالی میں اسے بھر آیا (١٩٠٧ء، دفتر خیال، ١٥)
"دیباچہ نویسی کے روایتی آداب پورے ہو چکے۔" (١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ١٠)
"عہد رواں کی ایرانی شاعری اب تک محض تجرباتی طور سے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٩٩:٢)
"صنف کے لحاظ سے مثنوی عہد رفتہ کی یاد گار سمجھی جائے۔" (١٩٨٣ء، اصناف سخن اور شعری ہئیتیں، ٢٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ہم عہد حاضر کے مسائل اور تقاضوں سے نظریں چرانے کے بجائے اس سے نظریں ملائیں۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٧)
"ابن یا من کوئی جہاز ساز ہو یا جہازراں ہو، بہر حال وہ عہد جاہلیت میں تھا۔" (١٩٣٥ء، عربوں کی جہاز رانی، ٢٠)
"مسعودی مسیحیت کے آغاز اور اس کی عہد بعید کی تاریخ سے بھی خوب آگاہ تھا۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣١٨:٣)
ہر روش پر ایک عہدِ تازہ کو آواز دیں ہر قدم پر ایک منزل کا نشاں پیدا کریں (١٩٤٨ء، نبض دوراں، ١٠٢)
اے میری ہم رقص مجھ کو تھام لے عہدِ پارینہ کا میں انسان نہیں (١٩٤١ء، ماورا، ١٠٠)
"وہ قدیم دیوی، دیوتا جنہیں عہد انتشار سے قبل ان کے آباو اجداد ایک ساتھ پوجا کرتے تھے، زبان کے مقامی تغیرات اور مذہبی اختلافات کے مجموعی اثر سے ایسے جون بدلے کہ ان کے اصلی کی شناخت ممکن نہ رہی۔" (١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٣٣٦:١)
"لارنس کے عہد آفرین مقالے عریانی اور فحاشی کے تراجم نذر کئے۔" (١٩٨٢ء، فکشن فن اور فلسفہ، ٧)
یہ بیکرانہ و مستانہ زندگی کے فیوض کہ جن سے عہد الست استوار ہوتا ہے (١٩٦٢ء، برگ خزاں، ٢٣)
"ناول نگار نے ہمیں باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ صاحبزادہ صاحب بڑے عورت مار اسمارٹ . ہیں۔" (١٩٨٩ء، افکار، کراچی، جولائی، ٣٨)