"ادب. انتہائی ناسازگار حالات میں بھی انسانی زندگی کی مثبت قدروں کا ترجمان رہا ہے۔" (١٩٨٣ء، ادب اور ادبی قدریں، ٧٦)
"دیگر شہر مسائل کے حل کے لیے مربوط کوششیں کریں اور مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے موثر طریقہ کار وضع کیا جائے۔" (١٩٠٨ء، جنگ، کراچی، ١٣نومبر، ٢٠)
"موہنجو داڑو کے آثار میں بانٹ - کثرت سے ملتے ہیں۔" (١٩٥١ء، تاریخ تمدن ہند، محمد مجیب، ٤٦)
"اس جدوجہد کے مثبت عمل کو توقیت پہنچانا آج کے ادبی اور علمی شعور کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔" (١٩٨٩ء، متوازی نقوش، ١٦٦)
ملائی اگر کیجیے تو ملا کی ہے یہ قدر ہوں دو روپے اس کے جو کوئی مثنوی خواں ہے (١٨٧٠ء، کلیات سودا، ٣٦٥)
"ڈاکٹر صاحب نے اس نظم کو شوق کے معیار مثنوی گوئی کی نظر سے دیکھا۔" (١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، اپریل تا جون، ٢٩)
"میر حسن. اردو کے ممتاز ترین اور بہترین مثنوی نگار بھی ہیں۔" (١٩٩٣ء، نگار، کراچی، اگست، ٣)
"پدر و مرشد اقبال شیخ نور محمد. علم و حکمت کی باتیں بڑے غور سے سنتے |فصوص الحکم| اور |مثنوی معنوی| کا درس ہوتا تو ہمہ تن گوش ہو جاتے۔" (١٩٧٩ء، دانائے راز، ١٦)
"دوسرا دروازہ مثمن برج کے نیچے ہے، جو خضری دروازے کے نام سے مشہور ہے۔" (١٩٢٢ء، سیر دہلی کی معلومات، ٦١)
"برائی کے مقابلے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے مثبت طریقہ یہ ہے کہ اس کی جگہ اچھائی کی جائے۔" (١٩٨٦ء، قرآن اور زندگی، ٩٦)
"سردست یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم اپنی تہذیب کی مثبت اور متحرک طاقتوں سے روگردانی کرنے میں ایک خاص تلزذ بھی حاصل کرنے لگے ہوں۔" (١٩٩٥ء، افکار، کراچی، اگست، ١٢)
"وہ اب تک کسی مثبت رویئے کو نہیں اپنا سکے ہیں۔" (١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٢٥)
"اصل مشکل یہ ہے کہ بیرونی دنیا کے پاس جنوبی افریقہ کے الجھے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے مثبت خیالات کی بڑی کمی ہے۔" (١٩٨٩ء، ریگ رواں، ٣٠١)
"غزل جس مخصوص کلچر کی پیداوار تھی شاعرہ اسی کلچر کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا عکاس تھا۔" (١٩٩٢ء، افکار، کراچی، مارچ، ١٢)
"وجودیت مارکس ازم، منطقی مثبت پسندی، تازہ ترین نفسیاتی دریافتیں ان کے مطالعے کا حصہ ہیں۔" (١٩٨٧ء، غالب ایک شاعر ایک اداکار، ٦)
"میر حسن مثالی استاد تھے محمد اقبال مثالی شاگرد۔" ("دانائے راز، ١٢")
"اگر لہجہ فطری، شائستہ. اور مثبت انداز کا حامل ہۃوگا تو ہم اسے اخلاص سے پر تحریر کہہ سکیں گے۔" (١٩١٧ء، اسلوب دفتری زبان، ٤٩)
"جمیلہ ہاشمی کے اسلوب میں ابتدا ہی سے شاعرانہ تشبیہات، استعاروں اور مثالیت پسندی کا رجحان و میلان نظر آتا ہے۔" (١٩٩٨ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ٣٧)
"اس کی عکاسی ایک سنجیدہ، بردبار، مثالیت پسند اور اصولوں پر مفاہمت نہ کرنے والی شخصیت کی حیثیت سے کی جائے۔" (١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٣٦)
"بڑے لوگوں کو کسی نہ کسی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑتا ہے اور بچوں کے لیے کوئی مثالی نمونہ نہیں رہتا جس کی وہ نقل کر سکیں۔" (١٩٧٠ء، پرورش اطفال اور خاندانی تعلقات، ١١٩)
"غزل میں مرکزی حیثیت شاعر کی شخصیت کو نہیں بلکہ اس خیالی یا مثالی کردار کو حاصل تھی جسے تمام شعرائے غزل کے لیے ایک قدر مشترک کی حیثیت حاصل تھی۔" (١٩٦٩ء، صحیفہ، لاہور (غالب نمبر) تنقید غالب کے سو سال، ٥٦٣)
"افلاطون نے اپنی مثالی ریاست کا نقشہ ہی تعلیمی ارتقاء کے تحت پیش کیا ہے۔" (١٩٩١ء، تعلیم و تعلم میں انقلاب، کیوں اور کیسے، ٣٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"رکاوٹی خصوصیات کے باوجود ایشیا بالحاظ آبادی بہت ہی گنجان واقع ہوا ہے۔" (١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ٣٢)
وہ نیچی نگاہیں لگاوٹ بھری وہ ترچھی ادائیں رکاوٹ بھری (١٨٨٢ء، مثنوی عاشقانہ (اردو، کراچی، جولائی، اکتوبر، ١٩٦:٦٦))
"جو چیز یعنی عشق شعر کو رفت و بود سے بچا سکتی ہے وہی عمارت کے پھول کو بھی باقی و محفوظ رکھ سکتی ہے۔" (١٩٦٩ء، اندلس، تاریخ و ادب، ٦٧)
"اڑپہیے کی ضرب سے پہلے اور بعد کی رفتار کو ایک سیالی (رفتار پیما) کے ذریعے مشاہدہ کیا جاتا ہے۔" (١٩٤١ء، مضبوطی اشیاء، ٩١٢:٢)
"سرسید کے وہ ہندو احباب بھی شامل تھے جو . رفاہی انجمنوں کے سرگرم رکن تھے۔" (١٩٧٦ء، ساتواں چراغ، ٧٦)
"ہمارے ہاں خواتین کی شاعری پر لکھتے ہوئے ضرورت سے زیادہ رقیق القلبی کا مظاہرہ ایک مستقل رویہ بن گیا ہے۔" (١٩٨٧ء، فنون، لاہور، نومبر دسمبر، ٢٠٢)
"تاہم خلیفۂ حکم کی رقیبانہ حوصلہ مندیوں کا مقابلہ نہ ہو سکا۔" (١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٥)
"صابن تھا کہ خیال یار کی طرح پھسل پھسل جاتا، اور میل تھا کہ رقیب روسیاہ کی طرح پیچھا ہی نہیں چھوڑتا تھا۔" (١٩٧٤ء، ہم یاراں دوزخ، ٧٦)
"اپنے کپتان کے ساتھ ایک لمبی پارٹنر شپ کر کے ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔" (١٩٦٧ء، اخبار جہاں، ٢٧ ستمبر، ٤٣)
"جو روپیہ ان کی گورنمنٹ کی طرف سے پنجاب میں آتا ہے۔" (١٩٣٨ء، اقبال، مکاتیب، ٤١١:١)
"زمانہ حال کے پارٹی پولیٹیشین (ایک فریق کے مدبر) کے نزدیک ایک پرانے فرانسیسی گیت . کی طرح کوئی چیز مقدس نہیں۔" (١٩٠٠ء، بست سالہ عہد حکومت، ١)
"ہم نے پارٹی سسٹم کے ہاتھوں بڑی تکلیفیں اٹھائی تھیں۔" (١٩٦٧ء، جس رزق سے، ٢)
"اس کی رو سے بنگالے کا پرانا پارٹیشن منسوخ کیا گیا۔" (١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١، ٩٣:٣)
"ایک پارہ قرآن شریف کا تلاوت کر کے معمولی وظیفہ پڑھنے کے واسطے کتاب اٹھائی۔" (١٩٣١ء، رسوا، خورشید بہو، ١٣٧)
"واقعی مروت جبلی اور لطف طبیعی ایک امر خداداد ہے جس کو دیا دیا اور جس کو عطا کیا کیا ہر کسی کے بانٹے نہیں آیا۔" (١٨٤٦ء، آثار الصنادید، ٤٨)
بولے رسول پاک کہ اے پارہ جگر امت کی مغرفت کا یہ ساماں ہے صبر کر (١٩١٢ء، شمیم، بیاض (ق)، ٣١)
"میں ان کو اپنا جگر گوشہ اور پارۂ دل سمجھتا ہوں۔" (١٩٠٨ء، مکاتیب محسن الملک، ٦٨:١)