"سید وقار عظیم اپنے طلباء کو اقبال صرف پڑھاتے ہی نہیں تھے منتقل بھی کرتے تھے، دیگر امتیازات سے قطع نظر یہ ایک بات ہی بجاش خود ایسی ہے جو انھیں اقبال شناسوں میں بہت متمائِز اور سرمایۂ ناز بنا دیتی ہے۔" (١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ١١)
"یہ معلوم ہو چکا ہے کہ ہیولٰی بذاتہ متصل ہے نہ متقدر بلکہ وہ صورت متقدرہ کے سبب سے متقدر ہے۔" (١٩٠٠ء، علوم طبیعیہ شرقی کی ابجد، ٢٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"خطوط کے اس دستے کے لیے ملر قوت نما ان خطوط کے دونوں محوروں کے مقطوعوں (Intercepts) کے متکافی (Reciprocal) کے متناسب ہوں گے۔" (١٩٧٤ء، موجیں اور اہتزازات، ٢٤٩)
"لیکن یہ دونوں ایک دوسرے سے متلازم (لازم و ملزوم) ہیں۔" (١٩٨٢ء، جرم و سزا کا اسلامی فلسفہ، ٥١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"وہ خط جو ایک مثلث کے رائسوں کو ان نقاط تماس سے ملاتے ہیں جن پر اندرونی دائرہ اور جانبی دائرے متقابلہ ضلعوں کو مس کرتے ہیں علی الترتیب ہم نقطہ ہوتے ہیں۔" (١٩٣٧ء، علم ہندسۂ نظری، ٥٤)
"سورج کو ان دونوں مماس اور متقاطع سطحوں کے زاویوں میں سے کسی ایک میں ہونا چاہیے۔" (١٩٦٩ء، مقالات ابن الہیشم، ٣٥)
"متمول خاندان کو ہر قسم کی تفریح با آسانی حاصل ہو سکتی ہے۔" (١٩٧٠ء، پرورش اطفال اور خاندانی تعلقات، ٧٠)
"علم لسانیات کی رو سے وہ زبان سب زیادہ متمول ہوتی ہے جس میں آوازیں . بکثرت ہیں۔" (١٩٩٣ء، اردو نامہ، لاہور، اکتوبر، ١٥)
"سرخ و سپید رنگ اور متناسب الاعضاء۔" (١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ١٧٦)
[" باب نبرد باز امام زمن پہ ہے یلغر چھ لاکھ فوج کا ستر دو تن پہ ہے (١٩٥١ء، آرزو، خمسۂ متحیرہ، ١١:٣)"]
"ہرمی حصے کا ایک یا زائد بڑا عصبانیہ ہے جو دوسری سطح کی قوس یا حلقے کا متنازل حصہ ہے۔" (١٩٢٧ء، نفسیات عضوی (ترجمہ) ٥٢)
"انہوں نے کلاسیکی ادب کی بعض اہم کتابوں کی متن نگاری اور معنی شناسی کا کام بھی کیا تھا۔" (١٩٩٤ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١٢)
"برک نے قواش ادراک کی تین صورتیں یا قسمیں قرار دی ہیں، (١) حواس (٢) تخیل (٣) جائزے کی قوت متمیزہ۔" (١٩٦٦ء، اشارات تنقید، ٧٧)
"متمول طبقے کے ہونہار نوجوانوں کے لیے انگلستان، فرانس اور جرمنی کی یونیورسٹیاں کھلی ہوئی تھیں۔" (١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ جولاں چلو، ٢١)
"جب Lo ہو تو متناظر آربٹل کو S ۔ (Orbital) کہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، نامیاتی کیمیا، ظہر احمد، ٨٠)
"معلوم ہوتا ہے امیر خسرو کی روح حقی صاحب کی مکرنیوں میں متناسخ ہو گئی۔" (١٩٩٣ء، افکار، کراچی، دسمبر، ٢٠)
"بعض پرندے دوسروں کا شکار کرتے ہیں مثلاً شکرا، باز، عقاب وغیرہ۔" (١٩٤٠ء، حیوانیات، ٣٦)
"اگر تم ان سے متمسک رہو گے تو میرے بعد گمراہ نہ ہو گے۔" (١٩٦٩ء، اقبال اور حب اہل بیت، ٤٥)
"ایسے اشعار کو متوارد کہنا کسی طرح صحیح نہیں۔" (١٩٤٠ء، دستور الاصلاح، ١٨)
"جب ہماری غذا میں ہر غذائی عنصر کی مخصوص مقدار موجود ہو تو ہم اسے متوازن غذا (Balanced diet) کا نام دے سکتے ہیں۔" (١٩٩١ء، انسانی جنم کیوں اور کیسے ٤٤)
"آپ نے لگ کر ڈھنگ سے پڑھایا ہی نہیں اور اب تو اس کچر دھان میں کیا خاک پڑھوں گی۔" (١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٠٩)
"باڑھیے تلواروں پر باڑھیں رکھ رہے تھے۔" (١٨٧٩ء، بوستان خیالی، ٣٢١:٦)
"بیچارے سلامت رائے رام آدھین غریب داس نے لگ لپٹ کر وقت سے پہلے اس کو پورا کیا۔" (١٨٩٤ء، لکچروں کا مجموعہ، ٥٩٥:١)
"کافی ٹھاٹھ . راگ راگنیاں یہ ہیں . سارنگ، سری انجنی، لنکدھن۔" (١٩٦٧ء، شاہد احمد دہلوی، ہندوستانی موسیقی، ١٣٧)
"تم نے اس معاملے میں جو پیش آیا نہایت لچر پنا گیا۔" (١٨٧٥ء، مکتوبات سرسید، ٢٣٠)
"لحنِ داؤدی کی شیرینی اسی قسم کے تلخ پھلوں کو پیدا کرنے کے لیے بروئے کار آئی تھیں۔" (١٩٨٦ء، اردو گیت، ٥٣٦)
"ناوک اندازی کرتے وقت آپ یہ دیکھ لیں کہ کون سا تیر اچھا تیز، باڑھ دار، مضبوط اور کاری ہے۔" (١٩٢٠ء، جویائے حق، ٢٣٣:٣)
"ترکی کے سرکاری محافظ خانوں سے مشرقی مخطوطات اور تاریخی دستاویزیں فراہم کرنے میں منہمک تھا۔" (١٩٧٠ء، اردو دائرہ معارف، ٤١:٥)
"قباچہ ملتان کے قلعے میں متحصن ہو گیا۔" (١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ١٥٩:١)
"جوش کی شاعری نے جن بتوں کو توڑا ہے آخر آخر اس میں متحدہ قومیت کا بت بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔" (١٩٨٩ء، متوازی نقوش، ١٨٢)
"اوس متحیرہ کے منتظر کان اندر سے کوئی آواز بھی نہیں سنتے۔" رجوع کریں: (١٨٩٣ء، بست سالہ عہد حکومت، ٧)
"وہ باز خانے کا داروغہ باز اور شکرا لے آیا۔" (١٨٨٥ء، بزم آخر، ٧٥)
"بس تمام عمر ایسی . متاہلانہ آسودگی کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔" (١٩٩٠ء، آب گم، ٢٨٢)
"۔"دعائے ملائکہ کی برکت ہے کہ تم کو علم اور ہدایت کی توفیق اور اس راہ پر ثبات حاصل ہے کہ یہ ہر وقت متجدد ہوتی رہتی ہے۔" (١٩٧١ء، معارف القرآن، ١٧١:٧)
"اردو میں ایسے اسمی مرکبات بھی مستعمل ہیں جن کے اعضا معنوی اعتبار سے متجانس ہوتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، نئی اردو قواعد، ٢٧٩)
"ڈاکٹر حمیداللہ اور ان کے قبیلے کے لوگ جنھوں نے متاع زندگی کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے لٹا دی۔" (١٩٩٢ء، اردو نامہ، لاہور، جولائی، ٤٩)
"خادم نے ایک غلام - کو کہا کہ جا کر بازدار سے کہہ کہ ہم مسافر ہیں۔" (١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٣٢)
"یہ قدرت کے خزانے اس لیے ہیں کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ان سے اپنی متاع حیات حاصل کریں۔" (١٩٨٦ء، قرآن اور زندگی، ١٤)