"یہ ایک فارسی مثنوی کا تر قیمہ ہے جسے کاتب نے شہر کا احمد آباد میں نقل کیا ہے۔" (١٩٧٥ء، بیاض مراثی (دیباچہ)،)
"ترکیب اتصالی، یعنی دو فعل آپس میں ملے تو ضرور مگر دونوں کے مفہوم الگ الگ رہے۔" (١٩٦١ء، افعال مرکبہ، ٨)
"دانش کے وسیلے سے عمر ابدی کو پہنچتے ہیں۔" (١٨٠٢ء، خردافروز، ٤)
"ترکیب استعمال : تقریباً ایک تولہ اس اکسیری تیل کو سر میں جذب کریں۔" (١٩٣٧ء، سلک الدرر، ١٧)
"ترکیب اضافی، مضاف اور مضاف الیہ سے بنتی ہے۔" (١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ٤:١)
"حیوانات کے یہ اعضا ہوتے ہیں اس لیے اسے مرکب بہ اعضا . کہتے ہیں اور ترکیب اعضا . کا اطلاق ایک حیوان کے جسم کے انہیں سب حصوں پر ہوتا ہے۔" (١٩١٠ء، مبادی سائنس، ٣)
"بعضوں نے بترکیب توصیفی مقلوب گرد بکسر اول گول چیز اور باد سے مرکب کہا ہے۔" (١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ١٢٤:١)
"تیز رفتار گھوڑے دوڑ سے ماندہ ہو کر ایسی زمین سخت میں جو سم ستوران سے ترکیدہ اور کوفتہ رہتی ہے غبار اڑانے لگتے ہیں۔" (١٨٩٧ء، کاشف الحقایق، ٢٣٥)
"ماضی میں تو کچ دھات کا تزکیہ و ترکیز کرنے کے طریقے کم ہی استعمال کیے گئے تھے۔" (١٩٧٣ء، فولاد سازی، ٣٦)
آتے ہیں یہ مناظر دلکش نظر کہاں ساون کی اب کے جھڑیاں ہیں اے ابرتر کہاں (١٩٢٩ء، مطلع الانوار، ٢٦)
"مثلاً ترنمی پرند کو اپنے ذہن میں لاتا ہوں . جو اس کے ترنم کو پیدا کرتا ہے۔" (١٩٦٦ء، نصرت، لاہور، فروری مارچ، ١٩)
"اگر پانی کے ذریعے حرارت کا فوراً انتشار نہ کیا جائے تو یہ خلیاتی پروٹین کی ترویب (Coagulation) کر دے گی۔" (١٩٦٩ء، تغذیہ و غذائیات حیوانات، ٥٠)
"مگر میں نے نظم میں بجائے مدح گسترانہ ترہات کے پند سودمند کا ایک باب تشبیب میں داخل کر دیا۔" (١٩٣٧ء، نغمہ فردوس، ١٢٥:٢)
"حیاتیاتی علوم کے مطالعے کے لیے زندگی کی حرکت و سکون، جنسی سرگرمی کے ادوار جو پیدائش کے ذریعے مادہ حیات کی بقا کی صورت میں اپنے کمال کو پہنچتے ہیں، نیز استحالہ و تمثیل، تقبض یعنی سکڑنا اور ترہل کے وزن و بحر کے متعلق معلومات ضروری ہیں۔" (١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ٢:١)
"یہ کسی نے نہ پوچھا کہ گولیاں جراثیم کش کیسی زبردست ہیں اور ان میں تریاقیت کس غضب کی ہے۔" (١٩٣٧ء، انشائے ماجد، ١١٤:٢)
ناز کہتا ہے کہ زیور سے ہو تزئین جمال ناز کی کہتی ہے سرمہ بھی کہیں بار نہ ہو (١٩٢١ء، کلیات اکبر، ٢٤:٢)
"سر ورق نہایت خوبصورت ہے اور قدیم تزئین کاری کا بہت اچھا نمونہ ہے۔" (١٩١٠ء، آزاد، مقدمہ دیوان ذوق، ٢٣)
تفحص کرا ہور تحقیق کر نہ دھرکان عامل کی تزایق پر (١٦٣٩ء، طوطی نامہ، غواصی، ٢٥٣)
"یعنی سلسلے کا اتار اور اس تنازل و تسافل، کی صورت میں اس میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، ١، ٧٤٣:٢)
["\"محاجم سینگ، لکڑی، تانبے اور شیشے سے بناش جاتے ہیں۔\" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٨٢)"]
"ہمارے کلاسیکی کاموں کا بیش تر انبار محافظ خانوں میں دفن ہو جائے گا۔" (١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٣٠)
"یہ ردعمل خاص طور پر "آیات وجدانی" کے محاضرات میں دیکھا جا سکتا ہے۔" (١٩٩٢ء، صحیفہ، لاہور، اکتوبر، دسمبر، ٦٨)
["\"کبھی کبھی اس میں سہولت ہوتی ہے کہ ان محددوں (یعنی فاصلے جن پر علامتیں لگی ہوں) کو جوکہ دائیں طرف ہوں منفی مان لیا جاتا ہے۔\" (١٩٥٧ء، سائنس سب کے لیے (ترجمہ)، ٣٦٧:١)","\"ان کے مشترک نقاط کے محدد معلوم کرو اور ان کے وتر مشترک کا طول دریافت کرو۔\" (١٩٤٠ء، علم ہندسۂ مستوی، ٥، ٧٩)"]
"یہ انجمن ابتدائی طبی امداد کا انتظام بھی کرتی ہے۔" (١٩٧٦ء، اردو کی چھٹی کتاب، ٤١)
"یکایک ایک محجوبانہ اور معشوقانہ انداز سے مسکرا کے کہا ہاں ٹھیک ہے۔" (١٩٥٧ء، پطرس، ک، ٢٥)
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوبۖ سبحانی سلام اے فخر موجودات فخر نوع انسانی (١٩٢٨ء، شاہنامۂ اسلام، ١١٤:١)
ہے ترک وطن سنت محبوبۖ الٰہی دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی (١٩٢٤ء، بانگ درا، ١٧٤)
"ایک محال اندیش ہے اور خوب غور و خوض اور کاوش سے اس کو پڑھتا ہے۔" (١٨٥٩ء، رسالہ تعلیم النفس (ترجمہ)، ٢٩:١)
"بحروں کا تنوع اور متغزلانہ شعری آہنگ مومن کو بڑا شاعر قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔" (١٩٩٤ء، نگار، کراچی، نومبر، ٦٤)
"انھوں نے دو دعوے نہایت شد و مد کے ساتھ کیے ہیں جن میں بظاہر وہ متفرد معلوم ہوتے ہیں۔" (١٨٩٩ء، حیات جاوید، ١٩٩:٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"کم عمر شیرخوار بچے کی کھوپڑی میں کسر واقع کرنا واقعی آسان نہیں، اس عمر میں کھوپڑی بحیثیت مجموعی مکمل طور پر متعظم نہیں ہوتی۔" (١٩٣٧ء، جراحی اطلاقی تشریح، (ترجمہ)، ٢٩:١)
"تاریخ ادب . ہمیشہ کچھ لوگوں کے لیے یک طرفہ، جانب دار اور متعصبانہ بھی ثابت ہو گی۔" (١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٤٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"رسمی متعرف کا کلام قلوب پر اثرانداز نہیں ہوتا۔" (١٩٧٤ء، انفاس العارفین (ترجمہ)، ٢٤٦)
"زبان سے زیادہ اب اس میدان کا تعلق . تکنیکی مضامین کے ساتھ ہوتا جا رہا ہے، علم اصطلاح کے میدان میں یہ تکنیکی علوم ہی متعامل ہوتے ہیں۔" (١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٦٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
"یہ ایک ایسا تاریخ ساز شعوری متفقانہ فیصلہ اور عملی قدم ہے جس نے اردو زبان کے وجود کو پہلی دفعہ . استحکام بخشا۔" (١٩٨٨ء، اردونامہ، لاہور، جون، ١٤)
"آپ کے فیصلے کو دونوں حضرات نے متفقہ طور پر آمنا و صدقنا کہہ کر تسلیم کر لینے کا اقرار کر لیا ہے۔" (١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٦)
"صالح آدمی نیک راہ میں تدبر کر کے نیک باتیں نکالتا ہے گویا یہ انسان کی قوت متفکرہ کے لیے ویسے ہی فطری خواص اور آثار ہیں جیسے مثلاً پانی کی فطرت نشیب کی طرف بہتا ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو داسرہ معارف اسلامیہ، ٢٠٩:٣)