"ایک دوسری سازش ان لوگوں کی جنہوں نے نفی کو اثبات کا رنگ دے کر ہماری فوج کے قوم پرست جاں بازوں کو حریت فکر و عمل کی سزا دی۔" (١٩٨٨ء، فیض، شاعری اور سیاست، ٤٨)
"اس کالم کو فکاہی کالم یا فکاہیہ کالم کہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٣٦)
"مختصر قطعہ اراضی کی بنا پر مشینی کاشت بھی ممکن نہیں ہوتی۔" (١٩٧٧ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ٧٧)
"قیمہ پلاؤ، دس سیر چاول، دس سیر گوشت، چار سیر روغن زرد . زیرہ اور الائچی و لونگ کے ترکیب دینے سے پانچ قابوں میں نکالا جاتا ہے۔" (١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١، ١٠٤)
"بعض جگہ لال اور سبز کی قطعہ بندی ہے۔" (١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٥٩)
"دکانیں ایسی قطعہ دار تھیں جن کے درجوں پر کوٹھیاں نثار۔" (١٨٦٦ء، جادہ تسخیر، ٢١)
"فیروز کو باپ کی موت کے بعد وراثت میں نہ کوئی قطعہ زمین ملا تھا نہ کوئی مکان اور نہ کچھ نقدی۔" (١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٩٠)
"وہ معروف ترین غزل گو اور قطعہ نویس شاعر اور کالم نگار تھے۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٣٠، ستمبر)
"اس میں کوئی چیز بھی قطعی نہیں ہو سکتی قطعیت کی اس میں کوئی گنجائش ہی نہیں۔" (١٩٨٦ء، فکشن، فن اور فلسفہ، ٦١)
"ایسے زور کا جھٹکا لگا کہ اوسان خطا ہو گئے . میں سنبھل کر قعدہ کی حالت میں بیٹھ گیا۔" (١٩٧١ء، تحدیث نعمت، ٥٩٩)
"اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ہے۔" (١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١١٢)
"قفل سازوں کی اصطلاح میں قفل کے منہ کے ڈھکنے کی روک کو بنی ہوئی چولیں (کھانچے) جس میں ڈھکنے کی کوریں اٹکی رہتی ہیں اور ڈھکنا اوپر نیچے سرکانے میں اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔" (١٩٤٣ء، اصطلاحات پیشہ رواں، ١:٧)
"اس جلد میں چار فصلیں ہیں . پہلی فصل قفل سازی، کانٹا سازی، صرافی، مہاجنی اور دکانداری۔" (١٩٤٣ء، اصطلاحات پیشہ وراں، (دیباچہ) ٧ : الف)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ڈاکٹر صاحب یہ مانتے ہیں کہ شاہ رخ، دولت کدہ وغیرہ مرکبات میں قلب اضافت نہیں ہوا۔" (١٩٧٣ء، اردو نامہ، کراچی، ٤٤، ٣٣)
"اس مقصد کے لیے نفسیات داں ایک ایسی قلب پذیر شکل کو عام طور پر استعمال کرتا ہے جس میں کسی شکل کو دیکھنے کے دو مساوی اچھے طریقے ہوں۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٢٥٨)
"مستقبل ان دختران ملت اور مادران قوم کے قلب سلیم پر خود کو منکشف کرتا رہتا ہے۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٧٩)
اے قلب ناصبور کہاں تک یہ انتظار ساکت ہیں باغ و راغ کہ اب شام ہو چلی (١٩٨٦ء، غبار ماہ، ١٥٧)
"شعر کی طرح |صلیبیں مرے دریچے میں" بھی قلبی واردات کا ذکر ہے۔" (١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٩)
قلزم زخّار بھی جس کے لیے پایاب تھے غرق بحر فکر ہے اتھلی تلّیا دیکھ کر (١٩٨٢ء، ط ظ، ١٢٨)
"اسلام فلاحی مملکت کا قائل ہے اس لیے سربراہ مملکت کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کر دے۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ٩٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
"قلعہ بندی اور سامان جنگ کی درستی میں بے چارے سپاہیوں پر جبر اور تشدد کے آرے کیوں چل رہے ہیں۔" (١٨٩٥ء، جہانگیر، ٤)
"اس درّے میں عرب قلعہ گیر فوج مقیم تھی۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٧٩٤:٣)
"موجودہ بیان . پر کھاس کی قلم اندازی کے شائبے سے محفوظ ہے۔" (١٩٤٥ء، ذرایع محاصل سلطنت مغلیہ ہند، ٢٨)
"راقم کا آبائی پیشہ قلعداری ہے نہ قلم داری۔" (١٩٠٤ء، پولو (دیباچہ)، ٣)
"کیا تم انگریزی سے ہندی میں قلم برداشتہ ترجمہ کر سکتے ہو۔" (١٩٨٤ء، گرد راہ، ٥٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
["\"آر ٹی میسیا سے کشید کردہ ایک قلمدار پاوڈر سینٹونین کثیر مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔\" (١٩٦٦ء، کارگر، اگست، ستمبر، ٢٤)"]
"ماسٹر صاحب کی کچھ کتابیں اور کتابوں کے علاوہ ایک قلم دان بھی ہے۔" (١٩٧٥ء، خاک نشین، ١٢)
"ان میں اپنے وقت کی سب سے بڑی قلمرو کے رفیع الشان دارلحکومت کا اکّا دکّا کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔" (١٩٨٧ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٦٣٩:٢)
"بعض حضرات نے . شوق صاحب کے شعر پر صرف یہ لکھ دیا کہ "قلمزد"۔ (١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٣، ١٦٩)
توشہ دریا نوال اور دل ترا موج کرم ہے سخاوت سے تری دست قلم زن آب میں (١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ١٣٥)
"اسی تردد میں کئی سال گزر گئے اور اس پر قلم فرسائی کی ہمت نہ ہوئی۔" (١٩٨٣ء، کاروان زندگی، ٧)
"ان کہانیوں میں جو قلمی خاکے شامل ہیں یہ بھی مذکورہ بالا کتابوں میں سے شکریہ کے ساتھ لیے گئے ہیں۔" (١٩٧٥ء، چینی لوک کہانیاں، ١٦)
"فیض نے بخاری پر جو مضمون لکھا ہے یا پروفیسر محمد شفیع کا جو قلمی مرقع پیش کیا ہے اسے میں اس نوع کے بہترین مضامین میں جگہ دیتا ہوں۔" (١٩٨٨ء، غالب، کراچی، ١، ٨٨:٢)
"ان کی . قلندرانہ زندگی میں شاہوں کی زندگی سے زیادہ شان تھی۔" (١٩٨٨ء، احوال داستان، ٢٤)
"سرکاری فارم پر قلی گیری کرتا تھا۔" (١٩٥٥ء، اندھیرا اور اندھیرا، ٤٢)
"ایسے قلیل المدت سرمایہ کو لے کر ان کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ اپنی صنعت کے لیے جدید ترین آلات اور مشینیں خریدنے پر کوئی بڑی رقم خرچ کر دیں۔" (١٩٦١ء، سود، ١٠٥)
"افسوس کہ ملک میں پاکستان کے متعلق بھارت کی طویل المیعاد متوسط المیعاد اور قلیل المیعاد حکمت عملی کو سمجھنے والوں کا قحط ہے۔" (١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ٥٦)