سرخی خورشید، نورِ ماہ تاب پر تو ادنیٰ ہے حسنِ ذات کا (١٩٩٣ء، زمزمۂ درد، ٢٧)
رفعتوں کا پتہ چلا اُن کی ظرفِ ماہِ مبیں عبداللہ (١٩٩٣ء، بساط کرب، ٩٢)
میرے چہرے یہ رقم، وقت کی تحریروں میں اپنی تقدیر کا وہ ماہ منور دیکھو جس کو تم ذہن کا معیار سمجھ بیٹھے ہو (١٩٩٥ء، افکار (جمیل ملک)، کراچی، مارچ، ٥٩)
"بلاشبہ جدید افکار کی تمام اصناف پر اس کی نظر ہے اور مبصرانہ نظر ہے۔" (١٩٥٢ء، تفہیم اقبال، ٨٨)
"فرمان فتحپوری صاحب نے فارسی رباعی کے آغاز و ارتقاء سے شروع کر کے اردو رباعی کے متعلق تمام معلومات نہایت مبصرانہ مؤرخانہ انداز و اسلوب کے ساتھ جمع کر دی ہیں۔" (١٩٩٣ء، نگار، کراچی، مارچ/ ٣)
"سسرال والوں نے دونوں میاں بیوی پر دباؤ ڈالا تو بھی یہ لے پالک ان کی بہو بن سکتی ہے۔" (١٩٨٨ء، بھاگا ہوا غلام، ١٦)
"ایسے شخص صورت میں بہت گورے چٹے معلوم ہوتے ہیں مگر باطن میں آہن زنگ خوردہ کہ جو کسی کام میں نہ آوے، لا ادری سیرت کے ہم غلام ہیں صورت ہوئی تو کیا۔" (١٨٥٩ء، رسالہ تعلیم النفس، (ترجمہ)، ١٥:٢)
"موجودہ دُنیا میں معلم اقوام کے انحطاط کے ذمہ دار . وہ خاموش، مختلف الخیال روایتی صوفیہ بھی ہیں جنہوں نے مذہب کو لہو و لعب اور تفریح کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔" (١٩٨٩ء، برصغیر میں اسلامی جدیدیت (ترجمہ)، ٣٧٣)
"مفتعلن فاعلن ایک مصرع میں ایک بار. وزن ہندی کے لیلا چھند کے مماثل ہے۔" (١٩٨٤ء، اردو اور ہندی کے جدید مشترک اوزان، ٥٦)
"ان سے آنے والے لیڈوں کو علیحدہ علیحدہ ٹرمینلوں کے ساتھ جوڑ کر رکھا جاتا ہے۔" (١٩٧١ء، الیکٹرانی کرنوں کے عملی اطلاقات، ٦٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
"آخر میں سلیگ، ریفریکٹری اور لیڈل کے متعلق مفید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔" (١٩٧٣ء، فولاد سازی (دیباچہ)، ی)
"پھر مزید تعریف کے لیے موصوفہ نے ایک اور لیڈنگ سوال کر دیا۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ١٢٣)
"اس ملاقات کے حالات تمام اخبارات میں شائع ہوئے لندن ٹائمز نے ایک لیڈنگ آرٹیکل بھی لکھا۔" (١٩٣٤ء، حیات محسن، ٣٦)
"ابتداء میں مسیحیت کے نزدیک حیات مادی کے مسائل و امور اور قانون و ریاست قابل اعتنا نہیں تھے۔" (١٩٩٨ء، صحیفہ، لاہور، جنوری تا مارچ، ٥١)
"بندہ (شاہ عبدالعزیز) کو عورتیں، مسیتا کہتی تھیں۔" (١٩٧٦ء، شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان، ٣٤)
"اپنی سمجھ میں تو یہ مسٹری آئی نہیں۔" (١٩٨٨ء، چار دیواری، ٢٨٤)
"خشیت الٰہی ذریعہ ہے نجات اور اجر کریم پانے کا۔" (١٩١٧ء، مقالات شروانی، ١٩٨)
مشحون بہ کلفت رہیں ارباب وفا کرتی ہے محبت امتحان دعویٰ (١٩٦٧ء، لحن صریر، ١٨٣)
"یہ ملک ایشیا سے باہر مشرقیت سے بعید معلوم ہوتا ہے۔" (١٩٦١ء، سات سمندر پار، ١٣)
"جس شخص نے درزی کو ایک کپڑا دیا کرتا سینے کو تو اس نے قباسی ڈالی تو مالک کو اختیار ہے - درزی کو اجر مثل دے دیوے۔" (١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٧:٤)
"رومیوں، بونانیوں، مصریوں وغیرہ کے مشرکانہ اعتقادات و تصورات کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔" (١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، دسمبر، ٣٤)
"سلطنت مشروطہ نے سب سے پہلے اپنی توجہ فوج کی درستی کی طرف مائل کی ہے۔" (١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١٤٢)
"اسے نفسیات کی اصطلاح میں مشروطیت کہتے ہیں مشروطیت یہ کہ معمول عامل کا پابند ہو جاتا ہے۔" (١٩٧٠ء، جنگ، کراچی، ٢٦جنوری، ٩)
"طلب اجازت کی درخواست بھیجنے کے بعد شافع اور مشفوع دونوں نہایت بے چینی کے عالم میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے جواب کے منتظر کھڑے ہیں۔" (١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤١٧:١)
مشرق کے دریچے سے مری سمت بصد ناز آتا ہے کوئی سر پہ لیے بربط و مشکات (١٩٦٦ء، الہام و افکار، ٥٩)
["\"اپنے ہاتھوں سے لڑکی کے منہ میں مصری کی ڈلی ڈال دینگے۔\" (١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٣٠)"]
"اجر مثل اجر مسمٰی سے زیادہ نہ دیوے۔" (١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٧:٤)
"ایک کشتی میں کلاوہ، چاند کا چھلا، ہری دوب، مصری کا کوزہ، پان کا بیڑا سجا کر اپنے بڑے بوڑھے کے آگے رکھتے ہیں۔" (١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد دہلوی، ٣٣)
[" نور محمدیۖ ہے عیاں تجہ جمال پر آیات مصحفی ہے ترے خط و خال پر (١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٢٦٢)"]
"ہائے وہ ان کا کینچلی کا انگرکھا اور گلبدن کا پاجامہ لال نیفہ مصالحہ دار ٹوپی کا کلیں بٹی ہوئیں۔" (١٩٨٨ء، مرزا رسوا، ایک مطالعہ، ٢٢٢)
"مشینری کی خرید بھی کارپوریشن سرمایہ کار کے مشورے سے عمل میں لاتی ہے۔" (١٩٨٩ء، چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری، ٥٢)
"اگر جنین اس طرح نکلے تو اس کا سرا آگے ہوگا اور اس کی مشیمہ اس کے ساتھ نکلے گی۔" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٢٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
"مریض کو ایسے بستر پر لٹانا چاہیے کہ جو نمی جذب نہ کرسکتا ہو، بعدازاں ملائم تولیے سے خشک کر لینا چاہیے، اس کے لیے واٹر پروف (مشمع موم جامہ) بہت اچھی چیز ہے۔" (١٩١٨ء، تندرستی، ١٢٤)
ذرا شمع ولایت لے کے گھوم اس کعبۂ دل میں تو پھر اے خبر معلوم ہوگی وسعت مشکو (١٩٣٥ء، عزیز لکھنؤی، صحیفۂ ولا، ٤٣)
"رَ" یا "رُ" امالے سے مانع ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے حروف خاصہ یا مستعلیہ۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٢٣:٣)
"اسی طرح بعض مستعرب ایرانیوں نے. حکم کا ترجمہ عربی زبان میں کیا۔" (١٩٧٣ء، عام فکری مغالطے، ٢١٤)
"کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علوم درسیہ کی تحصیل مستعدانہ کی تھی۔" (١٩١٤ء، شبلی، حیات حافظ، ١١)
"ہمارے بچپن میں نہ کوئی مسٹر تھا اور نہ کوئی مسز یا مس، ان دنوں دعوت ناموں پر شوہر کا نام لکھ کر "مع محل و صاحبزادگان و صاحبزادیاں" لکھتے تھے۔" (١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٥٧)