حسن کو حسن سے اک فکر طلب گاری تھی ایک جان اور دو قالب ہوں یہ بیع آری (کذا) تھی (١٩٧٨ء، دامن یوسف، ١٣٠)
"چمڑے کی ان کل طلبوں کے مجموعے کو اصطلاحاً طلب مرکب کہتے ہیں۔" (١٩١٧ء، علم المعیشت، ٤٣١)
"بھینسا اس لڑکی کا عاشق زار ہے اور کمند طرہ تابدار کا گرفتار ہے۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢١٠)
پر تو شہہ سے عجب شان ہے شہزادوں کی چاند سورج کی کرن طرہ دستار ہے آج (١٩٢٨ء، سرتاج سخن، ٤١)
"وقار عظیم . کی روشِ کار اور ان کے طریق معاملت کو میں نے معلوم یا غیر معلوم طور پر اپنایا ہو اور اسے اپنا معمول اور اپنا وظیفۂ حیات بنایا ہو تو عجب نہیں۔" (١٩٨٦ء، فورٹ ولیم کالج تحریک اور تاریخ، ١٧)
"معدنی وسائل کا طریق کشید سہولت استعمال صنعتی پیداوار کی اہمیت نیز نقل و حمل کے خرچ وغیرہ پر . گنجانیت کا انحصار ہوتا ہے۔" (١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ١٠٣)
"طلا کی دستیاب ہونے والی مقدار، بالآخر طبعی حالات کے حدود پر منحصر ہوتی اور انسان کی تلون پسندی کے تابع نہیں رہتی یہ طریق زر تمام مہذب و غیر مہذب دنیا کے عادات و روایات کی تہہ میں مضمر ہے۔" (١٩٣٧ء، اصول معاشیات (ترجمہ)، ٥٩٩:١)
یونہی الجھن تمھارے طرہ گیسو کی کیا کم ہے کہ میں اس کو سناؤں ذکر اپنے حال ابتر کا (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٥)
پکارے طرہ کاکل کو دیکھ کر عالم لگی ہے مصرع قامت پہ بے مثال گرہ (١٩٠٠ء، دیوان حبیب، ١٧)
"اردو زبان میں ایک خاص انداز کی بانکی شاعری ان کا طرّہ امتیاز ہے۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٥٢٥)
"افلاطون اور ارسطو سے لے کر اب تک تصوریین نے طریقہ وجدان کی ایک نہ ایک صورت پر زور دیا ہے۔" (١٩٤١ء، مقدمہ فلسفہ حاضرہ (ترجمہ)، ٨٢)
"جماعات اپنی عقلی نابالغی اور طفل شعوری کے باعث کبھی خود اپنی خبر گیری کے لائق نہیں ہوتیں۔" (١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ١١٧)
وسعت ممکنات دل، شورش کائنات جاں ذرہ بہ ذرہ، طف بہ طف، قطرہ بہ قطرہ، جو بہ جو (١٩٧٦ء، جنگ، کراچی، ٤ مارچ، ٣)
"حیدر آباد کے جنوب میں طغیانی نہروں کو اس سے ملا دیا گیا ہے۔" (١٩٧٧ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ٥٧)
"آندھی کی شدت سے درخت ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کے پھر اڑ اڑ کے طغیانی انگیز سمندر میں گرتے تھے۔" (١٩٠٨ء، خیالستان، ٢٨)
"وہ تو اتنی غیب دان ہے جتنی بات چھپاؤ اتنی ہی طشت ازبام۔" (١٩١٥ء، حاجی بغلول، سجاد حسین، ١٣٢)
"قریبی رشتہ دار قبیلے کی طعن و تشنیع کی تاب نہ لا کر خود ہی لڑکی کو بادل ناخواستہ قتل کر دیتے ہیں۔" (١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ٥٣)
"صاحب معرکہ آرا نے اس طریقہ سلام آٹھ گھاٹیں دس، انداز روکنے کے بائیس، نام پیچوں کے چوراسی کل ایک سو بیس لکھے ہیں۔" (١٩٢٥ء، اسلامی اکھاڑا، ٢١)
بھر گیا تھا زور میں ایسا نہ سنبھلا زین پر دھنس گیا اسپ اور یہ دوڑا مثل طفل نے سوار (١٩١٦ء، نظم طباطبائی، ٢٣)
"طفیلی تطابق کی وجہ سے حیوان کے جسم میں . تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔" (١٩٦٣ء، حیوانی نمونے (غیر فقاریے)، ٢٤٠)
"کہا امام محمد نے کہ ایک مہینے تک اگر طلب خصومت نہ کرے تو اس کا شفعہ باطل ہو جاوے گا۔" (١٩٦٧ء، نورالہدایہ، ٤١:٤)
"طلا . یہ مالش کی ایک دوا کا نام ہے جسے اطبا تیل سے تیار کرتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، سہ ماہی اردو، ٦٤:٣)
"ایک طلاق حالت طہر میں دے دے . اس کو فقہا نے طلاقِ احسن کہا ہے۔" (١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٠٤:١)
"امام مالک اور بہت سے فقہا نے تیسری طلاق کو جائز ہی نہیں رکھا وہ اس کو طلاق بدعت کہتے ہیں۔" (١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٠٤:١)
"غیر موطؤ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاقِ احسن ہے۔" (١٩١١ء، تفسیر القرآن الحکیم، مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٨٩٠)
"قبل الدخول کے معنی یہ ہیں کہ زوجین میں یک جائی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق کی نوبت آ جائے۔" (١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٣١:١)
بلند ہے تری ہمت تو باز بن کے دکھا مگر کبھی بھی کلاغِ طفیل خوارہ نہ ہو (١٩١٧ء، بہارستان، ٦٢٢)
"ہم نے اس کو اپنی طفلانہ مزاجی سے ایک خوشی کی تقریب بنا لیا ہے۔" (١٩٠٤ء، مضامین شرر، ١، ٥٤:٣)
طائر زیر دام کے ناے تو سن چکے ہو تم یہ بھی سنو کہ نالۂ طائر بام اور ہے (١٩٠٨ء، بانگ درا، ١١٩)
اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب (١٩٣٥ء، بال جبریل، ١١٣)
ہر سینہ نشیمن نہیں جبریلِ امیں کا ہر فکر نہیں طائر فردوس کا صیاد (١٩٣٥ء، بال جبریل، ٢٢٢)
طائر زیر دام کے ناے تو سن چکے ہو تم یہ بھی سنو کہ نالۂ طائر بام اور ہے (١٩٠٨ء، بانگ درا، ١١٩)
"تعصبات کی آگ بھڑکانے والی طاغوتی طاقتیں ان کا راستہ نہیں روک سکیں گی۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٩ فروری، ٣)
"ان کے یہاں روا داری بھی ہے اور صاف گوئی بھی . اور سچائی بھی محبت بھی ہے حق شناسی بھی صداقت روی بھی ہے اور عالمانہ بصیرت بھی۔" (١٩٨٨ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ١٨ نومبر، جمعہ ایڈیشن، II)
"مسلمان بھائیوں کو ان کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاک اور صداقت آمیز نصیحت سناتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، حیات جوہر، ١٦٨)
"سلیم احمد کشتی نوح کے ایک ایسے مسافر تھے جو عالمگیر سیلاب میں سلامتی کا استعارہ بن کر زندہ رہے وہ ایک ایسے صداگر تھے جو صحرا میں اذان دیتے رہے۔" (١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٢٨٦)
شورشِ دہر میں کوئی کان نہیں صدا شناس گونج رہا ہے رات دن ساز غزل سرائے دل (١٩٤٨ء، لوح محفوظ، سیماب اکبر آبادی، ٢٠١)
"دونوں ولایتوں کو اردلان کے صحرا نما قطعے نے ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٢٩:٣)
"وہ ایک خارق العادت قوت کے مالک اور پیدائشی باطن بیں - واقع ہوئے ہیں۔" (١٩٧٠ء، روزنامہ |جنگ| کراچی، ٢ فروری، ٩)
"اس کا جواب . خود صیحفۂ کائنات کے اوراق بارہا دے چکے ہیں۔" (١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ٨٥)