"ایک دن حسب معمول آپۖ غار حرا میں بیٹھے سوچ میں محو تھے۔" (١٩٢٤ء، محمدۖ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ، ٣٤)
"حضرت ام سلمہ کے لیے یہ شرف کیا کم تھا کہ ازواج نبی اکرمۖ میں شامل ہوئیں بایں ہمہ اپنی عمر اہل و عیال اور غیرت مندی کی بنا پر غور کیا۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٤٩:٣)
"حضرت ابوبکرؓ تین دن تک غار ثور میں حضورۖ کے ساتھ مقیم رہے۔" (١٩٦٣ء، محسن اعظم اور محسنین، ١٠٨)
"غائر نظری سے تجزیہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مولانا کی فلسفیانہ بصیرت اسی صحافتی شعور کی دھوپ چھاؤں میں پروان چڑھی ہے۔" (١٩٨٧ء، فاران، کراچی، نومبر، ٥٩)
"ان کے محل استعمال پر غائر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ ان میں بہت فرق ہے۔" (١٩٨٤ء، ترجمہ : روایت اور فن، ٦١)
"اگرچہ غائب بین کو بصرِ ظاہری یعنی آنکھوں سے کہ وہ دونوں بند ہو گئی ہیں کوئی شے معلوم نہیں ہوتی۔" (١٨٧٧ء، رسالہ تاثیر الانظار، ١٩)
"دلی میں عبدالحکیم نامی ایک مشہور غائب باز تھا . مگر غائب بازی میں کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔" (١٩٠١ء، مقالات حالی، ١٨٠:٢)
"پرندے آشیانوں کی طرف غول در غول اڑ رہے تھے۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٢٢١)
غوطہ زن حرف کبھی شعر نہ بننے پائے لفظ جو سطح پہ تھے، زینت اوراق ہوئے (١٩٨٠ء، لوح خاک، ٨٧)
کتنے ناداں ہیں جو مدد کے لیے غیراللہ کو پکارتے ہیں (١٩٨٤ء، الحمد، ١٠١)
"یہاں کان کی جھلی (Spectrascope) کا بدل ثابت ہوئی ہے۔" (١٩٦٧ء، آواز، ٤٩٦)
"طوفان بدتمیزی بہت عام قسم کا طوفان ہے جو پبلک جلسوں میں . پایا جاتا ہے۔" (١٩٤٠ء، مضامین رموزی، ٢١)
"فوراً نظر اس دوسری پر پڑی جو بالوں کو بکھیرے باسی منھ اور مخمور مگر پھٹی آنکھیں لیے - جسم کو ظاہر کر رہی تھی۔" (١٩٠٧ء، مخزن، ١٣، ٤٣:٣)
"میں گھر جا کر بڑی دیر تک یہ سوچتا رہا کہ شمعی میں اب تک طوائفیت کیوں نہیں آئی، اب تک اس کی روح یہ شرافت کی جھلکار کیسے باقی ہے۔" (١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ١٦٧)
"ابن البیطار نے بارود کو مغربی مترادف قرار دیا ہے جن کا اطلاق طبی شورے پر ہوتا ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٧٧:٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"شقیقہ کے علاج میں کسّی طرب السکینہ سے بھی کر سکتے ہو۔" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٧)
"آخر کافی رد و قدح کے بعد طوعاً و کرہاً اجازت دے دی گئی۔" (١٩٧٩ء، جگر مراد آبادی، آثار و افکار، ١٩٨)
"ڈھول اور طنبورہ، دھات اور سرکنڈے کے بنے ہوئے الغوزے بھی بجائے جاتے تھے۔" (١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٦٣:١)
"ان کے طبق وار کھیتوں میں زیادہ تر زیتون اور انجیر کے درخت ہوتے ہیں۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٩٨:٣)
"وہ طبقاتی ناہمواری اور جہالت کے خلاف بھی لڑنا اور جیتنا یا کم از کم فتح کیلئے سازگار حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، صدا کر چلے، ٥)
"آفس، آتھر، آرڈر وغیرہ لکھے لکھائے مسودے سے خارج کردیئے گئے۔" (١٨٩١ء، مکاتیب امیر مینائی، ١٧٠)
"ڈاک میں جتنے وزن کی اجازت ہے اس سے ماشہ دو ماشہ بڑھ جانے کو بڑے سے بڑا متقی ہی باطل خوری جانتا ہو۔" (١٩٦٢ء، تجدید معاشیات، ١٤٤)
"آج کل طبقۂ اوسط . کا وجود جو کاروباری زندگی کے سنجیدہ مشاغل میں مصروف رہتا ہے قومی اخلاق کا بہت بڑا محافظ ہے۔" (١٩١٧ء، تاریخ اخلاق یورپ، (ترجمہ)، ٢١٨:١)
"پڑتال ٥ قسم کی ہے وقی، طبقی، گودنیتی، بغدادی اور سیاہ جو اکسیر ہے۔" (١٩٠٦ء، کسیرالاکسیر، ٨)
"طبقہ وار نمونہ بندی کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے دو چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔" (١٩٦٨ء، اطلاقی شماریات، ٧٧)
"حکومت نے طبی سرٹیفیکیٹ پر غور نہیں کیا اور مجھے پاسپورٹ دینے سے انکار کر دیا۔" (١٩٩٠ء، نگار، کراچی، فروری، ١١)
اس نے پوچھا مزاج کیسا ہے رنگ اب دیکھنا طبیعت کا (١٩٠٥ء، داغ، (مہذب اللغات))
"اس نشست سے طرب ساز بجایا کرتے ہیں۔" (١٨٧٥ء، سرمایۂ عشرت، ٢٨٥)
"قافیہ اور ردیف کی مدد سے ان کی طراز بندی کر کے انھیں ایک قسم کی بالیدگی بخش دیتے ہیں۔" (١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٥)
بڑے جتنے زمانے میں ہیں سب ہیں ہم نشیں ان کے لیکن اس بزم میں اک اپنے دم سے ووہی اچھے ہیں (١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ١٩٠:١)
اس کا بڑا بھائی مارکس آرگن باجا لے آیا، جس سے کبھی طربیہ نغمے نکلتے تھے، کبھی مغموم۔" (١٩٨٢ء، انسانی تماشا، ١١)
|احوال دوستاں| میں . اذیتوں اور پریشانیوں کا مذکور بھی ہے مگر مجموعی طور پر ان کی یادیں خوبصورت اور طرب ناک ہیں۔" (١٩٨٨ء، احوال دوستاں، ٩)
طرب سازی کے مطرب تان لگائے بہت کج خوب گائے ہور بجائے (١٧٣١ء، نیہہ درپن (اردو شہہ پارے) ٢٨٧:١)
"اپنے سر سے عمامہ اتار کر میرے سر پر باندھ دیا جو اس خاکسار کے واسطے ہمیشہ کے لیے طرہ افتخار بن گیا۔" (١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٤٥٨)
"جب کہ بڑا بلب ایک طرفی نلی کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔" (١٩٧٠ء، جدید طبیعیات، ٣٤)
"ڈاکٹر بہلر اور ڈاکٹر جالی نے . منو نے متبنٰی لڑکے کو بہ سلسلۂ پسران تیسرے درجے پر رکھا ہے اور نارو نے نویں درجے پر جس کی وجہ سے وہ طرفی ورثا کی فہرست سے خارج ہو جاتا ہے۔" (١٩٤١ء، قانون و رواج ہنود (ترجمہ) ٢٨:١)
"وہ دین و شریعت کشی اور اہل اسلام کی پشتنی میں بدل مصروف تھا، اس کے جاں نثار اور خیر خواہ تھے۔" (١٨٤٧ء، حملات حیدری، ٧٠٣)
"نہ کسی ایسی سازش میں کسی فریق کا شریک یا طرف کش ہوں۔" (١٩١٢ء، شباب لکھنؤ، ٦)
"زمین دوز ایک خیمہ ہے جو طرح بطرح کا بنایا جاتا ہے۔" (١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ٦٤٠:٢)