عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمے ہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولیٹکل رہا ہے (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٥٥:٢)
"قوت فیصلہ کے ساتھ خیر و شر میں سے کسی ایک کے رد و قبول کا اختیار بھی بخشا۔" (١٩٨٥ء، منٹو نوری نہ ناری، ١٤٢)
"جس قبر کی ملاں جی نے نشاندہی کی، ان مرنے والوں میں سے ایک کے اعزا نے یہ قبر اپنے مردے کی بتائی اور فاتحہ کے بعد کافی رد و کد رہی۔" (١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٤٧)
ہیں نور میں بھیگی ہوئی سرشار ہوائیں یا با فشاں مستی و نکہت کے نظارے (١٩٤٦ء، اخترستان، ٩١)
تری گہری سخاوت کا خزانہ زمیں سے کم نہیں رزاقیت میں (١٩٨٤ء، سمندر، ٣٠)
["\"جناب اس میں علی گڑھ کے ایک انڈین جنٹلمین کی جگہ رزرو ہے۔\" (١٩٤٤ء، افسانچے، ٦٦)"]
"خوراک، لباس، گھر، علاج اور تعلیم! اسے اصطلاح میں رزق مقدور کہتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ٥٢٦)
"کافر ہو یا مسلمان ازقسم زینت و رزق طیب کوئی چیز کسی پر حرام نہیں۔" (١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ٢٢٦)
یہ طولٰی ہے مرے بخت کو کوتاہی میں جس طرح دست خدا رزق رسائی میں دراز (١٨٧٢ء، محامد خاتم النبیین، ٢٠)
"کہ یں رزم و بزم کے بیان سے اس طویل نظم (قصیدہ) میں رنگ آمیزی کرنی پڑتی ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٩٦:٢)
غوطے کھا کھا کے جو اڑتے ہیں بصد لطف و سرور پھڑ پھڑانے میں برستا ہے پر و بال سے نور (١٩٤٢ء، مراثی نسیم، ٤٠٣:٢)
"شاہ نے اپنی عظیم رزمیہ شاعری کے ساتھ غیرمعمولی لوک گیت بھی لکھے ہیں۔" (١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ١٢٤)
"مریخ کی دوری مدت تقریباً ٦٨٧ یوم ہے اور طریق شمسی سے اس کا میلان تقریباً ٢ ہے اور اس کے دو تابع ہیں. ان کے نام ہومر کے رزم نامۂ الیاد (Laicl) کے یونانی دیوتا مارس کے خدام کے ناموں پر فوباس اور دیموس رکھے گیے۔" (١٨٩٤ء، علم ہیئت (ترجمہ)، ١٠٤)
"حملۂ دہم رزم آرا، سیف و سیر کو یک ساتھ دائیں گردش دے کے پٹے کے پھر ہاتھ کو پلٹ کر پاؤں کو آگے لائے۔" (١٩٢٥ء، فن تیغ زنی، ١٨)
"خیرو شر کے درمیان رزم آرائی میں غیر کے ساتھ ہم رشتہ ہونے کی خواہش ہو تو ایسی صورت کیا مزار شخصیت پر محمول کی جائے گی۔" (١٩٧٢ء، توازن، ٥٧)
"ہم ان جاگیرداروں اور جرنیلوں کو سیاست سے نکال باہر کریں جو روز اول سے رزق حلال کما کر کھانے والے محنت کش طبقوں کے سر پر مسلط چلے آتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٥٣)
"جب اقبال کا جواب پڑھا تو اس نقل کو چاک کر کے ردی کی ٹوکری کے حوالے کر دیا۔" (١٩١٧ء، فاران، نومبر، ١٢)
"بیوٹی بکس کی چیزوں کا استعمال تو کیا، ورنہ وہ بکس ردی خانے میں لاپرواہی سے پڑا ہوا تھا۔" (١٩٧١ء، فہمینہ، ٩٢)
"حشروں کے محاسن بڑے اور بال نما ہوتے ہیں۔" (١٩٦٧ء، بنیادی حشریات، ٩٦)
"تزکیہ اور اس کے نتائج کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں لیکن آسان ہیں مگر دستور فطرت اور مرضئی الٰہی کو پا لینا بہت ہی کٹھن ہیں یہی وہ منزل ہے جہاں خطرات سے رساکشی ہوتی ہے۔" (١٩١٦ء، سوانح خواجہ معین الدین چشتی، ١٩١)
"اس رست و خیز میں. مابعد الطبیعیات غتربود ہو کر رہ گئی ہے۔" (١٩٧٥ء، توازن، ٢٣)
"ناسمجھ ہے، رسانیت سے سمجھانا ہوگا۔" (١٩٦٢ء، معصومہ، ٥٥)
"اس وادی ہو لخیر میں دم رکھنا کسی رستم دل کا کام نہ تھا ہر سمت سناٹا دھوپ کا تڑاقا.تھا۔" (١٨٨٨ء، طلسم ہوشربا، ١٦٣:٣)
"مولوی فاروق کے یہاں رس ملائی اور گاجر کے حلوے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود انہوں نے انتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٧٩)
"گاماں کو رستم زماں کا خطاب دیا گیا۔" (١٩٦٢ء، اردو انسائیکلوپیڈیا، ١١٤٤)
گھبرا کے بولے شاہ کہ ہا ہا قسم نہ کھا رستا ہے یاں سے رات بسے کانجف کو جا (١٨٧٤ء، انیس، مراثی،۔ ٧٩٥:٢)
ادا دار مطبوع نازک بدن خجل جس کو ہو دیکھ سرو چمن (١٨٠٢ء، بہار دانش، طپش، ٤٣)
["\"اسے علم تھا کہ میں رس گلا ہوں اس کی ساری زندگی لڑکیوں کے ہاتھوں میں پھنسنے میں گزری تھی۔\" (١٩٨٤ء، اوکھے لوگ، ٢١٨)"]
"مدنی صاحب کی رسد گاہ حرف میں وہ وسعتیں اور وہ اہمیتیں اپنے تازہ خدو خال کے ساتھ مجلہ ہیں۔" (١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٣٢)
"حضرت عمر اور حضرت حمزہ کی شمولیت سے جماعت اسلام کو بڑی تقویت پہونچی، کیونکہ یہ دونوں بڑے رعب و رسوخ والے شخص تھے۔" (١٩٢٤ء، محمدۖ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ، ٥٥)
"سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جو حضرت عیسٰی کو رسول برحق اور مرسل من اللہ مانتا ہو۔" (١٨٩٨ء، سرسید، مضامین سرسید، ٣٢)
"مدینے میں اللہ تعالٰی نے حضرت معصب کو جو کامیابی عطا فرمائی اس کا حال رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلّم کو معلوم ہوتا رہتا تھا۔" (١٩٦٧ء، جانباز ساتھی، ١١:٢)
"یہ نظم. رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال بشریت کی زندہ و تابندہ اور ولولہ انگیز جھلکیاں دکھاتی ہے۔" (١٩٧٠ء، ارمغان حالی (مقدمہ)، ٢٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
"وکٹوریہ. اپنی سفید کلائی پر رسٹ واچ کی طلائی زنجیر ٹھیک کرنے لگی۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٦٥)
"جب میں دروازے پر پہنچا امام صاحب کے ہاتھ میں رسید بک تھی۔" (١٩٨١ء، قطب نما، ٦٣)
"جب پوری طرح اطمینان ہو گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے تشریف لانے کے لیے مدینے کے مسلمانوں کی ایک جماعت چلی۔" (١٩٦٧ء، جانبا ساتھی، ١١:٢)
بستیاں جو کبھی رشک فردوش تھیں سب جفا کار فرعون نے لوٹ لیں (١٩٨٤ء، سمندر، ١٢٠)
"قاصد. اس شہر رشک ارم غیرت باغ میں پہونچا اور پوچھتا ہوا سلطان خانہ فیض کاشانہ کی سمت چلا۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣)
لٹ گیا عشق کا سر و ساماں شہر امید ہو گیا ویراں (١٩٧٨ء، ابن انشا، دل وحشی، ٥٣)