ہوتے ہیں آج یہ قول و قسم بروقت نہ کچھ کام آئیں گے جب دل میں بدی آ جائیگی الزام لگائے جائینگے (١٩٥١ء، آرزو، ساز حیات، ٣٩)
"خطابت کے ماہرین اکثر استفسار سے تقریر کو قوی الاثر بنا دیتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اکتوبر، ٦٦)
"اس کے بالکل برعکس بہت سے ضعیف اور لاغر لوگ، نہایت راسخ العزم اور قوی الارادہ ہوتے ہیں۔" (١٩٢٤ء، فطرت نسوانی، ١٤٨)
["\"انہوں نے اپنا رائٹنگ پیڈ رکھ دیا۔\" (١٩٨٧ء، افکار، اگست، ٢١)"]
["\"مقتضٰی یہی ہے کہ رائٹر اور ریڈر دونوں کے لیے رستہ اور بروز زیادہ صاف اور زیادہ ہموار ہوتا ہے۔\" (١٨٩٢ء، مقالات حالی، ١٦٥:٢)"]
["\"رات ٹھیک، درست، جائز، مناسب کے مفہوم میں بات چیت میں رائج ہے۔\" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٥٧)"]
مانگیں تجھ سے راجے راؤ نت نت دیون تیرا سبھاؤ (١٦٥٤ء، گنج شریف، ١٩١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس کے کئی مرکبات اور اصطلاحیں بھی مستعمل ہیں جیسے رائل اکیڈمی . رائل فیملی (بول چال میں) وغیرہ۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ١٧٣)
"آل عثمان کے عہد میں |امیر الامرا| اور اس کے ہم معنی |میر میران| بیکلر ببگی کے رائج العام مرادفات میں سے تھے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٦٦:٣)
"ایسی اصطلاحیں جو اضافی ہوں ان کے وہی معنی لیے جاتے ہیں جو رائج الوقت ہوں۔" (١٩٨٨ء، افکار، جنوری، ١٤)
"کسی لفظ کے حرف موقوف بسا اوقات متحرک ہو جاتا ہے جیسے چار، یار، بہار اور فرار کی |ر|۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٤٥)
"واپڈا کی اسکیم میں رابطہ نہروں کی تعمیر بہت ہی اہم کام ہے۔" (١٩٨٣ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ٥٨)
"فلکی مخلوقات کے لیے کاہن اور پجاری گویا رابطہ افسر تھے۔" (١٨٥٧ء، سائنس سب کے لیے، ٤٥)
"بلند پایہ ادیب کے متعلق رائے عامہ کا بدلنا تو اور بھی کٹھن بن جاتا ہے۔" (١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٥٤)
"وہ فیصلہ جمہوریت کے مسلمہ طریقہ کار رائے شماری یا استصواب . کے ذریعے عمل میں آئے گا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٤٧٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"رائے دہی انتخابات میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔" (١٩٨٦ء، کشاف اصطلاحات سیاسیات، ٦١٩:٢)
"سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں رائے دہندگی کا حق صرف شاخوں کی مجالس انتظامیہ کے ارکان کو ہو گا۔" (١٩٨٤ء، حلقہ ارباب ذوق، ١٥٧)
"پی این اے نے انتخابی نتائج کے خلاف . جو تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ٦٠)
"انہیں رائی برابر بھی اس کے استعمال کا موقع نہ دو۔" (١٩٢٢ء، قول فیصل، ٨٧)
"باہر سے میرا ہرکارہ آیا کہ رائیڈنگ کو چلو۔" (١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسماں، ٤٥)
"ایک جماعت صرف تلوار کا سہارا لے کر تمام دوسرے فرائض سے بے فکر ہو گئی ہے اس جماعت کو اب عام طور پر راج پوت کہتے ہیں۔" (١٩٣٩ء، آئین اکبری، ٩٦:٢)
"آنے میں دیر کیوں ہوئی? آپ جانتے ہیں آپ بھی رات کے راجہ میں بھی رات کا راجہ۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ١١٣)
"اس کے آنے سے ساری فضا معطر ہو جاتی اور رات کی رانی اپنی زلفیں نیچے کر کے اسے سلام کرتی تھی۔" (١٩٨٧ء، حصار، ١٧٤)
اہرام کی طرح راز بستہ دروازہ کھلا نہ کوئی راستہ (١٩٨٤ء، سمندر، ٤٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ہر شخص دوسروں کا خیال رکھے کہ ان کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو اور حتی الوسع ان کی خوشنودی اور راحت رسانی اور خیر خواہی میں کوشش کرے۔" (١٩٠٦ء، الحقوق الفرائض، ١٨٨:٣)
"اسلام میں سے یہ نئی نئی شاخیں پھوٹنی شروع ہوئیں، رافعی، خارجی . راجعی۔" (١٩٢٨ء، حیرت دہلوی، سوانح عمری امام اعظم، ٤٥)
"ایاز حد خود بشناس، کہاں راجہ بھوج کہاں ننوا تیلی۔" (١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ٣١٥)
"ایک مور اتنی مورنیاں، اچھا خاصا راجہ اندر بن جاتا ہے۔" (١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ١٥٩)
"میری رافضیت کا غلغلہ بلند ہو گیا تو میرے چچا نواب محمد علی خان . پر میرا نکاح نہایت شاق گزرا تھا۔" (١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ١٦٢)
"وہ جس کو راہ مستقیم سمجھتے تھے اس پر دلیری سے گامزن ہو جاتے تھے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١١٠)
ہاں رہرو راہ فنا ہاں کشتہ تیغ وفا ہاں میرے پیارے دل بتا اسکی قیامت خیزیاں (١٩١٢ء، نقوش مانی، ٣)
"مرحوم مولوی رحیم بخش صدیقی نے اپنے دیرینہ دوست راقم الحروف خاور امروہوی کے والد مرحوم کے حقیقی پھویا حافظ مظہر علی انصاری سے موصوف کا تاریخی نام رکھنے کی درخواست کی۔" (١٩٨٣ء، سرمایۂ تغزل، ٢٧)
"اس کی (میکسم گورکی) ہمدردی اسکی انسان دوستی، راندۂ درگاہ مخلوق کے لیے اس کا غم . اس کے سینے میں رہ جانے والی گولی بھی داغ دار نہ کرسکی۔" (١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥١)
عجیب یہ ربط باہمی ہے عجیب یہ سلسلہ ہے دل کا سلام ان تک مرا نہ پہنچا تو مجھ تک ان کا سلام آیا (١٩٨٣ء، حصار انا، ٣٢)
"ماہر جغرافیہ متغیرات کو زیر بحث لاتا ہے یہ خطوں کی اکائیوں میں مماثلت تلاش کرتا ہے اور ان کی مدد سے متغیرات کے درمیان ربط و ترتیب قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔" (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٦٥)
"ہندوستان اور وسط ایشیا کی تہذیبوں کے ربط باہم کا بین ثبوت عظیم شاعر غالب کے کلام میں ملتا ہے۔" (١٩٨٦ء، نگار، ستمبر، ٥)
"چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت بنگال نے کلکتہ میں ایک سرکاری رپورٹ کنندہ مقرر کیا ہے۔" (١٨٦٣ء، خطبات گارسا دتاسی، ٣٧٥)