"ربیع الثانی، اسے زمانۂ جہالت میں بصان کہتے تھے۔" (١٩٤٦ء، قصیدہ البردہ، ٣١٨)
"صادق صاحب نے محض ربڑ کی مہر کی طرح اس پر تابعداری کے ساتھ اپنے دستخط کیے تھے۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٥٨)
"میرا دل اس کی ربانیت کے نور سے منور ہے اور آنکھیں اس کی صنع یزدانی سے بیناہیں۔" (١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، ٢١٢)
"محی الدین قادری زور نے |اردو شہ پارے| میں محمد قلی قطب شاہ کے ہم عصر ملا و جہی کی بھی دو رباعیاں نقل کی ہیں لیکن انہوں نے وجہی کو پہلا رباعی گو کہیں نہیں لکھا۔" (١٩٦٢ء، اردو رباعی، ٨٠)
گلشن ہستی میں جاری ہے ترا فیض عمیم تو ہوائے جانفزا ہے رحمت رب کریم (١٩١٢ء، مطلع انوار، ١٩)
"حمید کاشمیری وہ افسانہ نگار ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اپنے معاشرے کے قوی ترین پاور ہاؤس یعنی شہری زندگی کو ایک فرد اور ایک شہری کی حیثیت سے دیکھا ہے۔" (١٩٧٠ء، برش قلم، ١١٤)
"اس نے میری پوسٹنگ کا نیا حکم نامہ سہروردی صاحب کے سپرد کیا اور مجھے قہر آلود نگاہوں سے گھورتا ہوا واپس چلا گیا۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٢٢٧)
"وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ ماضی کے روشن میناروں کو اپنی نفرت کی قہرناک نظروں سے گل کر دے۔" (١٩٧٠ء، توازن، ٧٥)
"نادر شاہ جو پہلے سے موقع کی تلاش میں تھا قہر الٰہی بن کر دہلی پر نازل ہوا۔" (١٩٩٠ء، نگار، کراچی، جنوری، ٢٠)
"کسی زمانے میں اس کے ضمن میں نہریں اور حوض بنے ہوئے تھے، اب اٹ اٹا کر ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔" (١٩٠٥ء، یادگار دہلی، ١٩٤)
"علیم الدین نے قیاس آرائی کی۔" (١٩٨٤ء، کیمیاگر، ٣٤)
"صوتی تغیرات کی بد نظمی کی تاویل و توجیہہ کے لیے قیاس تمثیلی کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔" (١٩٦٤ء، زبان کا مطالعہ، ١١٦)
"سبحان اللہ کیا قیافہ شناسی ہے۔" (١٩٨٧ء، سارے فسانے، ٢٩١)
"ماہ رمضان میں بسلسلۂ قیام اللیل آٹھ رکعت تراویع ادا کرتے ہیں۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٨١:٣)
"قیام پذیری کی شرائط کے طور پر ہمیں ذیل کی دو مساواتیں حاصل ہوں گی۔" (١٩٧١ء، ایٹم کے ماڈل، ٦٩)
"اکثر لاحقوں کو بھی علیحدہ لکھا جائے گا جیسے نمائش گاہ، آشوب گاہ، صبح گاہ، قیام گاہ۔" (١٩٧٤ء، اردو املا، ٤٧٠)
ہوا سوادِ انا الحق میں جب قیام گزیں سنا کہ دار و رسن پر بھی راہ ختم نہیں (١٩٣١ء، نقوش مانی، ١٦٨)
"رود موسٰی کی قیامت آفریں طغیانی دکن کی تاریخ میں تو ہمیشہ یادگار رہے گی۔" (١٩٢٥ء، ریاض امجد، ٤٩:١)
"ملکہ نقل، اس میں چاہے جو ہو میں ان بے اعتدالیوں کو تو قیامت تک نہ برداشت کروں گی کہ خدا سے بھی انکار کر دیا جائے۔" (١٩٢٣ء، مضامین شرر، ١، ٢، ٧٣٨)
ہاں اہرو راہ فنا، ہاں کشتہ تیغ وفا ہاں میرے پیارے دل بتا، اس کی قیامت خیزیاں (١٩١٢ء، نقوش مانی، ٣)
یہ سچ ہے شہر کے بازار پرسکوں ہیں مگر یہاں قیامت صغریٰ گھروں میں رہتی ہے (١٩٨٤ء، چاند پر بادل، ٣٩)
"بعض اوقات چند اشیا کی قیمتیں مقرر کر دی جاتیں اور محتسب، قیمت بندی کا نفاذ کرتا۔" (١٩٦٥ء، تاریخ پاک و ہند، ١٩٧:١)
"اسلام نے قیصریت اور کسرائیت کے نظام کو چیلنج کیا۔" (١٩٧٣ء، ذکر حسین، ٨٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس کے ہمراہی دربار قیصری سے نکلے ہیں تو کسی کے حواس بجا نہ تھے۔" (١٩١٩ء، جویائے حق، ٢٤٩:٢)
"عربی کے قیراط، جو آج کل انگریزی میں کیرٹ کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔" (١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ٢٣٣)
"یا اللہ کیا قیامتی وقت آ گیا ہے۔" (١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٨٤)
" "قیامت کبریٰ" اسی دن ہو گی جب ہم مریں گے۔" (١٩٢٣ء، مضامین شرر، ٣٩٣)
"حکومت کو چاہیے کہ مناسب قیمت فروخت پر اس ہندوستانی نمک کو خریدے۔" (١٩٤٠ء، معاشیات ہند، ٤٩:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"یہ کہنا کہ فرشتوں کا حامل عرش ہونا شان قیومیت کے منافی ہے ایک عجیب طرح کی سطحیت ہے۔" (١٩٦٧ء، صدق جدید، لکھنو، ٢٧ اکتوبر، ٤)
["\"حکم کرتی ہے کہ ذات احدی کی تاثیر اور اس کا سبب ہونے کی حیثیت اس کی مقدس ذات اور قیومی وجود درخشاں ہے، اس تاثیر میں جو ہر ذات کے سوا اور کسی حیثیت کو دخل نہیں ہے۔\" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ٩٣٠:١)"]
"یہ نظریہ جہاں تک مرغ کی ککڑ کوں اور بطخ کی قیں قیں کا سوال ہے، قابل قبول معلوم ہوتا ہے۔" (١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ٢١)
"جاعل حق سے ان کا صدور اور قیوم مطلق سے ان کا فیضان نہ ہوئے کیوں کہ یہ سب چیزیں خود اپنی اپنی ذات کے حساب سے دراصل حق تعالٰی کے ظہور کے مدارج اور اسی کے مختلف تجلیات میں داخل ہیں۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ٩٢٣:١)
"ایک نئی قسم کی روشنائی ایجاد کرنا پڑی جس کے بغیر ناممکن تھا مغرب میں ٹائپ نگاری کا فن رواج پاتا۔" (١٩٥٩ء، مقدمہ تاریخ سائنس، ٧٨١:٢)
"مسلمانوں کی قوم میں ایک بھی ٹائپسٹ نہ ملا جو اس کام کو کرتا۔" (١٩٣٠ء، محمد علی، ١٢٥:٢)
"چونکہ یہ بنیادی طور پر ٹائپنگ کا کام ہے اس لیے اس میں ٹائپنگ کی اغلاط واقع ہونے کا احتمال ہے۔" (١٩٦٩ء، فن ادارت، ٢٤٧)
"ٹائپ رائٹر، ٹائپ رائٹنگ، ٹائپسٹ اور ٹائپنگ بھی اردو میں عام ہیں۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ١٦١)
"دیوار پر وہی پرانا ٹائم کلاک لگا ہوا ہے جو پہلے لگا ہوا تھا۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٢٦٥)
"انگریزی بیوگل فوج کو ہشیار کرنے نہ پایا تھا کہ ایک اٹھارہ پنی توپ کا گولہ آ کے پڑا۔" (١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٤٣)