"ینگ اخوان باکسنگ ٹورنامنٹ ١٧ اور ١٨ مارچ سے شروع ہو رہا ہے۔" (١٩٦٧ء، روزنامہ |جنگ| کراچی، ١٣ مارچ، ١٥)
"مفرد و مرکب الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ ایسا ہے جو بالکل نیا ہے. گل چہرہ. سحر فشاں۔" (١٩٨٦ء، پاکستانی معاشرہ اور ادب، ٩٤)
"صبح بھی بوسہ تو دیتا مجھے اے ماہ نہیں"انہوں نے فوراً عرض کی:۔"نامناسب ہے میاں وقت سحر گاہ نہیں" (١٩٢٨ء، آخری شمع، ٣٥)
"اب دعا صرف اتنی ہے کہ حسنِ قبول تصنیف اور مصنف دونوں کو نصیب ہو کتاب کو خلق میں اور کتاب نویس کو خالق کے ہاں۔" (١٩٣٢ء، مقالاتِ ماجد، ٢٧٧)
"وہ ایک روشن خیال بادشاہ تھا جو کتاب و سنت کے مطابق اصلاحِ مذہب کرنا چاہتا تھا۔" (١٩٥٩ء، مقالاتِ برقی (سید حسن، برقی)، ١٩٧)
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدُیٰ کا کہ ساری خدائی ہے کنبہ خدا کا (١٨٧٩ء، مُسَدّسِ حالی، ٥٢)
"اس نے کتبِ اربعہ کی تلاوت کی۔" (١٨٩٦ء، تحفۃ السعادت، ٦١)
"باکسروں کا وزن ١٦ مارچ کو چھ بجے شام کے پی ٹی گرائونڈ پر لیا جائے گا۔" (١٩٦٧ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ١٣ مارچ، ١٥)
"انہوں نے کتبِ آسمانی پیش کرکے ان کے مطالب بیان کیے۔" رجوع کریں: (١٨٨٤ء، قصصِ ہند، ٨٩:٣)
"کتب سماوی و سرایسی کی بحث میں ان کے متن کی الوہی یا الہامی نوعیت کو بہرحال پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصولِ تحقیق، ٣٥٠)
"انہوں نے یہ فرما کر ٹال دیا کہ ہم کو کتب فروشی کرنی ہی نہیں ہے۔" (١٩٢٩ء، انگوٹھی کا راز (دیباچہ)، ١)
"کاپی نویسی کے علاوہ وصلی نویسی اور کتبہ نویسی بھی خوب کرتے تھے۔" (١٩٦٣ء، صیحفہ |خوش نویساں| ٢٦٥)
کہیں کُتے کی دم سیدھی ہوئی ہے عدُو کو ہے عبث خواہش طلا کی (١٨٨٩ء، دیوان عنایت و سفلی، ٨٩)
"دو بنگالی لوک کہانیاں نمائش کے لیے پیش کی گئیں مگر باکس آفس کے معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔" (١٩٦٦ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ١٨٩:٣٠، ٥)
"کثافتِ اضافی کے کوئی ابعاد نہیں ہوتے کیونکہ کثافتِ اضافی محض ایک عددی نسبت ہوتی ہے۔" (١٩٦٥ء، مادے کے خواص، ١٤)
"اگر خدانخواستہ یہ کثرتِ استعمال سے گھس گیا تو زمین پر بجائے آدمی کے ٹوپی ہی چلے گی۔" (١٩٨٤ء، موسموں کا عکس، ٢٦)
یہاں کثرت پرستوں پر چڑھے گا رنگ وحدت کا بتوں کو بھی اسی کعبہ میں دیدارِ خدا ہو گا (١٩٣٧ء، نغمۂ فردوس، ٤٦:١)
"کثرت پرستی، اصنام پرستی، اور ذات پات اسلام اور عیسائیت کے ہدف تھے۔" (١٩٨٩ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٧١)
"ان جزیروں کا ایک باشندہ "سور" اور "مرنا" کے لفظ بولنے سے معذور تھا کیونکہ یہ اسکے داماد کے کثیرالاجزا نام میں شامل تھے۔" (١٩٦٥ء، شاخ زرّیں، ٤٩٩:١)
"وزارت کے کثیرالاشغال وقت میں بھی بوعلی سینا کی خدمت میں مستعد طلبا کا ایک گروہ حاضر رہتا تھا۔" (١٩١٤ء، مقالاتِ شبلی، ٨٣:٢)
"ایسے جانور جنہیں اپنی اولاد کی مطلق پروا اور فکر نہیں ہوتی عموماً کثیرالاولاد ہوتے ہیں۔" (١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ١٠٧)
"میں بعین عنایتِ الہی کثیر الاحباب ہوں۔" (١٨٦٧ء، خطوطِ غالب، ٤٦٢)
"ڈاکٹر صاحب کثیر اللسان بھی ہیں اور فارسی پر تو وہ سند ہیں۔" (١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٢٧)
"جامعہ تعلیم ملّی کے نام سے ایک کثیرالمقاصد تعلیمی درس گاہ قائم کر دی۔" (١٩٨٣ء، خطباتِ محمود، ٢٩)
"ان مختلف اور کثیرالانواع خصوصیات کا احاطہ کرنا اور اُنکو موثر پیرانہ میں ادا کرنا شاعرانہ واقعہ نگاری ہے۔" (١٩٠٧ء، موازنہ انیس و دبیر، ١٦٢)
"نتیجہ ان سزاؤں کا جن کی یہ تاثیر ہو کہ جرائم کثیرالوُقوع ہو جائیں . کچھ نہ نکلے۔" (١٩٢٥ء، قرآن مجید کے فوجداری قوانین، ٥٢)
"قلندری کے ساتھ کُلَّہ داری بھی ہو یا کُلَّہ داری کے ساتھ قلندری بھی ہو۔" (١٩٨٨ء، مزاج و ماحول، ١٨٢)
"چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں بیج بونا یا کٹنگ لگانا بڑی بڑی کیاریوں کی نسبت زیادہ موزوں ہے۔" (١٩٣٠ء، شفتالو، ٢٧)
"کٹ مُلّا سے کَٹّر ملا (یعنی تنگ نظر مذہبی آدمی) مراد ہے۔" (١٩٨٨ء، اردو، کراچی، ١٣٩:٣)
"وہاں کچھ کٹر پنتھی لوگوں نے جواہرلال اور میری گفتگو پر خیال آرائی کی تو جواہرلال نہرو نے شکوک و شبہات کو دفع کرنے کے لیے ایک تقریر بھی کر ڈالی۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٧٦)
"جس تنگ نظری اور کٹرپن کے خلاف نیاز نے اس وقت لکھا تھا آج بھی وہ تنگ نظری اور کٹر پن موجود ہے۔" (١٩٨٩ء، نگار، کراچی، مئی، ٥٥)
"اکثر ڈھاکا شہر میں کشیدہ کاری اور کٹ ورک کی دکانوں کے چکّر لگاتے پائے جاتے تھے۔" (١٩٧٥ء، ہمہ یاراں دوزخ، ١٨)
"کبھی بچوں کے کپڑے کے لائق کٹ پِیس کے ٹکڑے لے آئے۔" (١٩٢٩ء، خمارِ عیش، ١٣)
"مگر کٹ حُجَّتی کا جواب اور کسی طرح دیا بھی تو نہیں جا سکتا تھا۔" (١٩٨٧ء، اقبال ایک شاعر، ١٤٦)
"گردش روزگار مجھے دینا میں کہاں کہاں لے گئی کوہ نوردی اور دشت پیمائی کے شوق نے کیسے کیسے خطروں کے منہ میں ڈالا۔" (١٩٨٤ء، گردِراہ، ٢٠٠)
لازمِ عشق نہیں کوہ کنی اے افسر یہ غلط ہے کہ کوئی غیرتِ فریاد نہیں (١٩٨٣ء، سرمایہ تغزل، ٢٤٦)
"اگر خاتون لاکھ روپیہ کا جہیز لے کر اور کوہ قاف کی پری بن کر آتی تو میری نگاہ میں اس کی کوئی وقعت نہ ہوئی۔" (١٩٢٤ء، وداع خاتون، ١٢)
اس لیے کرتی ہوں شکوہ میں یہ ماما کا کہ وہ دیتی ہے کوڑھ پنے سے مجھے سالن کوکا (١٨٣٥ء، رنگین (فرہنگ آصفیہ))
"ہر ایک ریشہ الگ ہو جاتا ہے اور ابالنے سے اندر کا کوڑا کچرہ آسانی سے الگ ہو جاتا ہے۔" (١٩٤٦ء، کاغذ بنانا، ٦)
"نند کشور کو پنجاب کا اول انعام کوپر سلور میڈل ملا۔" (١٩٣٣ء، مرحوم دلی کالج، ٦٨)