نئی تہذیب نے لندن سے آ کر بتایا ہم کو کیا ہوتی ہے ٹاکی (١٩٤١ء، چمنستان، ٢١٢)
"جوتی پھٹ جاتی تو خود گانٹھ لیتے تھے، ڈول میں ٹانکے لگا دیتے تھے۔" (١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٤:٢)
"آبادی کے وقت آدمی ٹپریا یعنی جھونپڑیاں ڈال کر ٹھہرے۔" (وقائع راجپوتانہ، ٣٠٢)
"ننھا بھی ٹرائیسکل کا راگ الاپتا اور غبارے کے لیے مچلتا سو گیا۔" (١٩٤٣ء، دانہ و دام، ٥٥)
"سیارے کے تمام آلات جس میں ٹرانس میٹر بھی شامل تھا برابر کام کرتے رہے۔" (١٩٦٥ء، روشنی کیا ہے (ترجمہ)، ١٢٨)
"ٹرسٹی، متولی، حاکم صرف حق تعالٰی ہے۔" (١٩٤٣ء، مضامین عبدالماجد، ١١٧)
"ٹرگنامیٹری یا مساحۃ المثلثات وغیرہ ریاضیات عالیہ کی . شاخیں ہیں۔" (١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٣٩:٣)
"تمدن نے انسان کو ایک نیا موضوع دیا ٹریفک کنٹرول۔" (١٩٧٣ء، قطرات شبنم، ٢٥)
"کسی کے پاس ٹفن کیریر تھے، کسی کے پاس پھلوں کی ٹوکری۔" (١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢٤٥)
"ٹکسالی زبان خود ٹکسال باہر ہو گی۔" (١٩١٤ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ٢٤)
"کسی اردو لغت میں اردو الفاظ کا ٹکسالی تلفظ بنانے کی زحمت کیوں نہیں کی گئی۔" (١٩٧٢ء، حسن تلفظ (پیش لفظ)، ٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"بعض ٹکٹ بابو عین عجلت کے وقت دام دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔" (١٩١٧ء، علم المعیشت، ٤٥١)
"مسٹر سیٹھ نے ولایتی ٹوتھ پاؤڈر ولایتی برش سے دانتوں میں ملا۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ٣١٨:٢)
"جو طالب علم رنیل صاحب کے کلاس یا ٹیوٹوریل گروپ میں ہوتا اس کے بارے میں یہ حسن ظن عام ہوتا کہ اس کی انگریزی اچھی ہے۔" (١٩٥٦ء، آشفتہ بیانی میری، ١٠٦)
"ہم نے نہایت ٹھنڈی طبیعت سے یہ مضمون لکھا ہے۔" (١٨٩٩ء، حیات جاوید، ١٦٥:٢)
"فرقہ نسواں کی تکالیف اور مصائب پر ٹھنڈے دل سے غور کرے۔" (١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٣)
"ہم اور چیزوں کے علاوہ کشیمر کی صوفیانہ موسیقی میں استعمال ہونے والا ساز سنطور بھی ان کے لیے لے گئے تھے۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٨٠)
"میر حسن نے لکھا ہے کہ یہ نہ سمجھا کہ صورت شناسانِ معنی کی نظر سے لے پالک اور حقیقی اولاد پوشیدہ نہیں رہتی۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٨٣٣:٢)
بادشاہ اس پر بہت توجہ کرتا ہے اور اس کے صورت و معنی میں غور کرتا ہے۔" (١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ٦٤٧:٢)
جنت کو ان کے حسن سے پہچانتا ہوں میں جنت ہے ان کی صورت زیبا مرے لیے (عابد لاہوری، مہذب اللغات۔)
روز آئے نہ کیوں فاتحہ پڑھنے کو وہ دلبر لوح لحد عاشق صادق ہے اثربند (١٨٥٧ء، دیوانِ یاس، ٧٤)
"جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ (حضرت مذاق میاں) ایک صوفیء صافی تھے، شاعر تھے، بدایوں کے رہنے والے تھے تو میں نے اس محفل میں شرکت کو باعث سعادت جانا۔" (١٩٧٨ء، مخزن گفتار، ٥)
دل صاف ہو تو چاہیے معنی پرست ہو آئینہ خاک صاف صورت پرست ہے (١٨٥٤ء، دیوان ذوق، ١٧٧)
"اس کی والدہ نے اسے گرا ہوا اور دبلا پتلا دیکھا تو کہا میرا بیٹا تو سوکھ کر صوفہ (پشم) بن گیا۔" (١٩٦٦ء، بلوغ الارب، ٥٢٩)
"ظاہر و باطن کی ترتیب بوجکر قائم اچھے تو اسے صوفی مذہب بولتے ہیں۔" (١٤٢١ء، بندہ نواز، معراج العاشقین،)
جو تھا صاف دل نیز صوفی نما بھنور سوں کر لے جال میں آسما (١٦٩٥ء، دیپک پتنگ، ٢٠)
"مدینے کی حیاتِ طیبہ کے سب سے سخت روزے وہ ہوتے جو صوم متصل کہلاتے تھے، یہ کئی کئی دنوں کا ایک روزہ ہوتا۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ١٢١)
"بعض لوگوں نے صوم وصال رکھنا چاہا یعنی رات دن روزہ رکھیں۔" (١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٨:٢)
صہبا پرستِ عشق کوں عشرت روا نہیں مجلس سیں غم کی نغمۂ طنبور دور ہے (١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٤٥٤)
ہوا بے خود میں تیرا سبز خط دیکھ ترا صہبائے ریحانی یہی ہے (١٧٥٤ء، دیوان داؤد اورنگ آبادی، ٧٠)
نیت میں تو ہے کہ پاؤں صہبائے طہور اے شیخ یہ تیری پارسائی کیسی (١٨٤٤ء، دیوان نسیم لکھنوی، ٣٧)
"صیغۂ فوجداری وغیرہ . یہ اصطلاحیں فارسی اور عربی زبانوں سے لی گئی ہیں۔" (١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ١٢٦)
"وہ انتہائی برد بار اور . صوم و صلٰوۃ کے پابند تھے۔" (١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٤٨)
"یہی چارم آپ کو صوفیا کی شخصیتوں میں نظر آئے گا۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٤٤)
مظہرِ یزداں بنا جاتا ہے ہر ذرہ اثر ہے خدا جانے یہ کس صوفی نفس کی رہ گزر (١٩٨٣ء، حصارانا، ٩٧)
"دوسرے یہ کہ تصوف اگرچہ باطنی شائستگی ہی پرزور دیتا ہے . لیکن اسے اپنے اظہار کے لیے بہر حال ظواہر ہی سے مدد لینی پڑتی ہے۔" (١٩٦٣ء، تحقیق و تنقید، ٣٩)
"وہ نثر جس میں تخیل اور جذبات کی فراوانی ہو شاعرانہ نثر کہلاتی ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٠٨)
وفور شوق سے کیا کیا ہوا اثر انگیز وہ دل کا نغمہ کہ جو بے نیاز ساز رہا (١٩٥٠ء، ترانۂ وحشت، ١٥)
"جو اعتراضات خود تذکرہ نگاروں کی طرف سے وارد کیے گئے ہیں، وہ عموماً رشک و رقابت، معاصرانہ چشمک، شاعرانہ تعلی اور علاقائی تعصبات کا نتیجہ ہیں۔" (١٩٨٨ء، نگار، کراچی (سالنامہ) ١٨٦)