"جس کے گال بغیر آزاد کے دبلے اور زرد ہوں وہ دل کا کھوٹا اور بدخصلت ہوگا۔" (١٨٠٣ء، گنج خوبی، ١٧٥)
"ہم سب نے اپنے اپنے مشکوک کا دل کھول کر اظہار نہیں کیا۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٥٥)
لگی ہے دل کی لگن اس حیا شعار کے ساتھ جو آر سی کو بھی دیکھے کبھی تو عار کے ساتھ (١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٦٧)
"جو کلیجے کا ٹکڑا ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کی مراد ہے اور خونِ جگر۔" (١٩٣٦ء، راشد الخیری، انگوٹھی کا راز، ٢٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
ہم نے دیواں میں یہ مضمون دل مردہ لکھے صفحہ صفحہ تختہ گورِ غریباں ہوگیا (١٨٧٢ء، مرآۃ الغیب، ٨٨)
"ان کی دلیل بازی سے اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا اور یہی بات ہم خود مانتے ہیں۔" (١٩٤١ء، آزاد سماج، ٨٦)
"مجھے اپنی عزیز بہن رابعہ سے جو پانچ چھ سال تک ہم مدرسہ بلکہ ہم جماعت رہی ہیں دلی ہمدردی ہے۔" (١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ٤٠)
"جہاں تک دستی کاریگری کے بنیادی کام کا تعلق ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ١٣١)
"قدیم ہندوستانی دستی صنعتوں کی پیداوار نے جو عالمگیر شہرت حاصل کی وہ اس واقع کی بین شہادت ہے کہ ہندوستانی روحانیت نے گزشتہ زمانہ میں معاشی جدوجہد کو مفلوج نہیں کیا۔" (١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٧٨:١)
"رخصتی لاونج سے باہر کھڑے ہو کر میں نے دستی سامان ہاتھ میں لیا اور اندر چلی گئی۔" (١٩٨٠ء، دائروں میں دائرے، ١١)
"میں نے ہنسوہ کے قلمی ذخیرہ میں حضرت شاہ عبدالغنی صاحب کا دستی خط اور مولانا عبدالسلام صاحب کا جواب دیکھا ہے۔" (١٩٨٣ء، کاروانِ زندگی، ٩٣)
"مخالف گروپوں نے مشہد میں سالگرہ کے لیے مارچ کرنے والوں پر دستی بم پھینکا۔" (١٩٨٧ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ١٢ فروری: ١٢)
"جن میں مذہبی احکامات کو دخیل نہیں ہونا چاہیے مذہب کی یہ وہ افسوناک تعریف ہے جو لامذہبوں اور دشمنانِ دین کی زبانی ہم تک پہنچی۔" (١٩٧٦ء، مرحبا الحاج، ٢٥)
شہ کہتے تھے اعدا سے دم باز پسیں کیا مارکے لو گے مجھے اے دشمن دیں (١٨٧٩ء، قلق میرٹھی، کلیات، ١٨٤)
تم دشمن جاں اس کے شیدا وہ تمہارا ہے بس فرق ہے اتنا سا ابرار میں تم اور تم میں (١٩٤٥ء، صدرنگ، ٨٩)
"بپھرے ہوئے عوام . کے دشنام آمیز سن کر یوں لگتا تھا کہ پورا شہر (ڈھاکہ) غصے سے کانپ رہا ہے۔" (١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ٥٢)
"اعلان حق کے نام پر انفرادی سطح کی باہمی مداحی دشنام طرازی پروز پوئٹری کی ابہامیت۔" (١٩٧٦ء، صدا کر چلے، ٧٠)
ہم اسیر دشنامی ہو سکے نہ خود آگاہ زندگی نے جی بھر کے فرصتِ خجالت دی (١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٥٩)
بارش ابر کرم ان کے معاصی دھوئے جو ہمارے لے اس وقت دعا خواں ہو نگے (١٩١٢ء، فردوس تخیل، ٣٠)
"پچھلے سال دو مشہور ہندوستانی اہلِ قلم نے دعوتِ اجل کو لبیک کہا۔" (١٨٦٩ء، خطبات گارستاں تاسی، ٨١١)
"محکمہ تعلقات عامہ پنجاب تمام تقریبات کے لیے دعوت نامے اردو میں طبع کرائے۔" (١٩٨٥ء، مجلس زبان دفتری پنجاب، ١)
اس بات کی دندان شکنی سے نہیں انکار سچ یہ ہے کہ یہ بات طرحدار بہت ہے (١٩٥٠ء، کلیات مصطفٰے زیدی (روشنی)، ٦٠)
اک مہک سی دم تحریر کہاں سے آئی نام میں تیرے یہ تاثیر کہاں سے آئی (١٩٥٨ء، تارِپیراہن، ٥١)
"مولوی سعید کو خطرہ ہو گیا کہ اس طرح برسرِ راہے ان کو روک دیا گیا تو دوسرا دم ان کی گرفتاری کا ہوگا، اس لیے دم دبا کر واپس دہلی چلے آئے۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٢٨)
بھر کے ٹھنڈی آہ بالیں سے اٹھا کہہ کر مسیح ہے دمِ آخر نہیں دم دور کچھ بیمار میں (١٨٦٦ء، فیض، دیوان ٢٢٩)
"وہ در قبولیت ہے وہ دم دم قبولیت ہوتا ہے۔" (١٩٧٢ء، میاں کی اٹریا تلے، ٥٠)
"کوئے موروں کی ٹولی میں جانکلتے تو فٹ دوغلی پالیسی تلے کہتے۔ ہما کی بات کچھ اور ہے۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٢٦)
"وہ ہرنوالہ پر ایک طرف سلیم کو دعائیں دے رہا تھا اور دوسری طرف خدا کا شکر کر رہا تھا۔" (١٩٣٦ء، ستونتی، ٢٢)
"اماں کے کہنے پر میں نے دوسری شادی کرلی۔" (١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٠٦)
"ان کی عمر پینتالیس سال کے لگ بھگ تھی دوہرا بدن ہلکا سیاسی مائل رنگ۔" (١٩٨٦ء، قطب نما، ٥٩)
"دھوبی اس سرے کا بدمعاش ہے۔" (١٩٢٤ء، نوراللغات، ٣٢٦:١)
"حضورۖ نے (ہجرت کے بعد مدینہ میں) مہاجرین و انصار اور یہود کے درمیان گفت و شنید کی اور اس کے بعد ایک معاہدہ مرتب فرمایا. اس معاہدے کی رو سے جدید سیاسی اصطلاح میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ مدینے میں دولت مشترکہ (Comon welth) قائم ہوگئی۔" (١٩٢٣ء، محسن اعظم و محسنین، ٤٦)
ابد تک تجھے اے سراپا کمال مبارک ہو یہ دولتِ لازوال (١٨٩٠ء، کتاب مبین، ١٧)
"نمرود و فرعون، ابوجہل و ابولہب. جو آتش خلیل، طوفان نیل، قحط مکہ اور انشقاق قمر کے معجزوں کے طالب تھے پھر بھی ایمان کی دولت عظمٰی سے محروم رہے۔" (١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ ، ٤:٣)
"یہ بعض حالات میں دھاگہ (Fulfom) ہوتے ہیں۔" (١٩٧١ء، حشریات، ٩)
"ایسے ٹھوس اور مائعات جو برقی موصل ہوں انہی دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ دھاتی موصل برق پاشی موصل یا الیکٹرو لائٹ۔" (کیمیا (سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ)، ٣١١)
"جدول کے بائیں جانب پائے جانے والے گروہ دھاتی خواص کا مظاہرہ کرتے ہیں۔" (١٩٧٥ء، غیرنامیاتی کیمیا، ٢٣٥)
"سگرٹ ایک ایسی جنس ہے جسے زیادہ سے زیادہ اِکہری شخصیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ حقہ دہری بلکہ تہری شخصیت کا علم بردار ہے۔" (١٩٨٢ء، دوسرا کنارا، ٣١)
"میر انجام نے نہایت کرخت دوہری میں کہا۔" (١٩٣٢ء، رضوان الشیاطین، ١٤٣)